تازہ ترین

Marquee xml rss feed

من� کی بجائے ناکمیں دانت نکل آیا ی� انوکھا واقع� چین میں پیش آیا ج�اں آپریشن کرکے ناک سے دانت کو نکال دیاگیا-سپیشل ایجنٹ بلی جو ساتھیوں کو �رار کروانے میں ما�ر �ے 6سال� بلی راستے میں آنے والی �ر رکاوٹ کو آسانی سے پار کر جاتی-آپ کے �نگر پرنٹ اب منشیات سے متعلق بھی بتائیں گے منشیات کی روک تھام کے لیے سائنسدانوں نے نیا �ارمولا ایجاد کرلیا-پیٹرول کی قیمت میں اضا�ے کے خلا� احتجاج میں40 لوگ جاں بحق ایران میں احتجاج کی صورت حال دن ب� دن بگڑتی جا ر�ی �ے-ٹک ٹاک نے امریک� کو چاروں شانے چت کر ڈالا تحقیقاتی کمپنی نے ٹک ٹاک پر امریک� کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا-ب�ادر شخص نے مگرمچھ کو اندھا کر کے خود کو موت کے من� سے نکال لیا آخری لمحے تک مگرمچھ کامقابل� کر کے زندگی جیتنے والے شخص نے ب�ادری کی مثال قائم کر دی-موٹروے پر بس حادثے کا شکار �و گئی 3 خواتین جاں بحق ،10ا�راد زخمی

GB News

کنٹریکٹ آفیسران کو مستقل کرنے کا پردہ چاک

Share Button

گلگت(جنرل رپورٹر) گلگت بلتستان کے مختلف محکموں کے 30کنٹریکٹ آفیسران کی جانب سے وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن کے نام لکھے گئے ایک مشترکہ خط نے غیر قانونی طور پر دو درجن کے قریب کنٹریکٹ آفیسران کو مستقل کرنے کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ محکمہ پلاننگ،سیاحت، واٹر اینڈ پاور، زراعت ، محکمہ تعلیم،گورنر سیکرٹریٹ اور ویمن ڈویلپمنٹ میں موجود گریڈ 16اور 17کے 30کنٹریکٹ آفیسران کے مشترکہ خط میں مستقلی کے کئی حکومتی و انتظامی اقدام پر سنجیدہ نوعیت کے قانونی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میں پانچ کنٹریکٹ آفیسران کو مطلوبہ سروس پوری نہ ہونے کے بائوجود مستقل کیا گیا، دوسری جانب محکمہ پاپولیشن اور بہبود آبادی کے پانچ کنٹریکٹ آفیسران کو قانون کے برخلاف کمیٹی کے ذریعے مستقل کیا گیا حالانکہ یہ تمام ملازمین وفاقی وزرات بہبود آبادی کے ماتحت تھے جبکہ جی بی ایمپلائز ریگولرائزیشن ایکٹ صرف گلگت بلتستان کے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کیلئے بنایا گیا ہے۔ اسی طرح محکمہ معدنیات، لیبرڈیپارٹمنٹ میں بھی غیر قانونی مستقلی کے اقدامات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان محکموں کے پانچ پروجیکٹ ملازمین کو ایکٹ کی آڑ میں مستقل کیا گیا،اس کی تفصیل بتاتے ہوئے خط میں کہا گیا ہے کہ کنٹریکٹ ملازمین کو پراجیکٹ کی تکمیل کے بعددوسرے پراجیکٹ میں شامل کیا گیااس کے بعد تیسرے پراجیکٹ میں شامل کیا گیا ، ان کی سروسز ختم ہونے کے دو ماہ 28دن کے بعد تمام ملازمین کو کمیٹی کے ذریعے مستقل کیا گیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ محکمہ جنگلات میں5اکتوبر2012کو 5آر ایف اوکو ابتدائی طور پر فکس پے پر بھرتی کیاگیا تھاایک سال سے بھی کم عرصے میں یکم مارچ 2013ء کو مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر اور متعلقہ ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں مستقل کیا گیا۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ایفاد دیامر میں ایک شخص کو ابتدائی طور پر مانیٹرنگ آفیسر بھرتی کیاگیا، پروجیکٹ ختم ہونے کے بعد انہیں محکمہ زراعت میں سکیل 17 میں اگریکلچر آفیسر ایڈجسٹ کیا گیا ان کی مستقلی میں ریگولرائزیشن ایکٹ کی صریح خلاف ورزی کی گئی،ان کا معاملہ کسی بھی طرح سے متعلقہ ایکٹ کے زمرے میں نہیں آتا تھا، اسی طرح واٹر مینجمنٹ میں ایک شخص جو14فروری2007ء کو سکیل 17میں واٹر مینجمنٹ آفیسر بھرتی ہوا تھابعد میں انہیں سائنٹفک آفیسر بنادیا گیاحالانکہ مذکورہ عہدے پر تعینات ہونے کیلئے کوئی ڈی ایس سی نہیں تھی۔ایل جی اینڈ آرڈی میں چیف آفیسر اور ایک دوسرے محکمے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے کہ ان کی مستقلی میں قواعدو ضوابط کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔کنٹریکٹ آفیسران نے وزیر اعلیٰ سے استدعا کی ہے کہ ان میں سے بعض ملازمین 7اور بعض 16سال سے کنٹرکٹ خدمات سرانجام دے رہے ہیںاس لیے ان کے کیسز کو کسی آزاد کمیٹی کے حوالے سے شفاف انداز میں اقدامات اٹھائے جائیںاور ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔

Facebook Comments
Share Button