تازہ ترین

Marquee xml rss feed

من� کی بجائے ناکمیں دانت نکل آیا ی� انوکھا واقع� چین میں پیش آیا ج�اں آپریشن کرکے ناک سے دانت کو نکال دیاگیا-سپیشل ایجنٹ بلی جو ساتھیوں کو �رار کروانے میں ما�ر �ے 6سال� بلی راستے میں آنے والی �ر رکاوٹ کو آسانی سے پار کر جاتی-آپ کے �نگر پرنٹ اب منشیات سے متعلق بھی بتائیں گے منشیات کی روک تھام کے لیے سائنسدانوں نے نیا �ارمولا ایجاد کرلیا-پیٹرول کی قیمت میں اضا�ے کے خلا� احتجاج میں40 لوگ جاں بحق ایران میں احتجاج کی صورت حال دن ب� دن بگڑتی جا ر�ی �ے-ٹک ٹاک نے امریک� کو چاروں شانے چت کر ڈالا تحقیقاتی کمپنی نے ٹک ٹاک پر امریک� کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا-ب�ادر شخص نے مگرمچھ کو اندھا کر کے خود کو موت کے من� سے نکال لیا آخری لمحے تک مگرمچھ کامقابل� کر کے زندگی جیتنے والے شخص نے ب�ادری کی مثال قائم کر دی-موٹروے پر بس حادثے کا شکار �و گئی 3 خواتین جاں بحق ،10ا�راد زخمی

GB News

حقائق کے منافی اوربے بنےاد الزامات

Share Button

امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے پاکستان منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے اقدامات کو ناکافی قرار دے کر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے عالمی معیارات پر عمل پیرا ہے اور منی لانڈرنگ کو جرم میں بھی قرار دے چکا ہے لیکن اس کے اقدامات تاحال غیر متوازن ہیں۔ تفصیلات کے مطابق دہشت گردی سے متعلق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ میں گزشتہ برس کے دوران عالمی دہشت گردی سے متعلق امریکا کے سرکاری جائزے کی نمائندگی کرتی ہے جس میں مختلف ممالک کے جائزے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے علاقائی طور پر منسلک ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) کا رکن ہونے کی حیثیت سے پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے طے کردہ معیار پر پورا اترنے کی سنجیدہ کوششیں کی ہیں۔تےن نومبر کوامریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے پاکستان کے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام کے اقدامات کو ناکافی قرار دے کر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا تھا کہ پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے عالمی معیارات پر عمل پیرا ہے اور منی لانڈرنگ کو جرم میں بھی قرار دے چکا ہے لیکن اس کے اقدامات تاحال غیر متوازن ہیں۔دہشت گردی سے متعلق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ میں گزشتہ برس کے دوران عالمی دہشت گردی سے متعلق امریکا کے سرکاری جائزے کی نمائندگی کرتی ہے جس میں مختلف ممالک کے جائزے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے علاقائی طور پر منسلک ایشیاءپیسیفک گروپ (اے پی جی) کا رکن ہونے کی حیثیت سے پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے طے کردہ معیار پر پورا اترنے کی سنجیدہ کوششیں کی ہیں‘ تاہم حکومت کالعدم تنظیم لشکر طیبہ اور جیش محمد کو پاکستان میں پیسہ جمع کرنے، لوگوں کو بھرتی کرنے اور ان کی تربیت سے نمایاں حد تک روکنے میں ناکام ہوگئی اور کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ تنظیموں کے امیدواروں کو جولائی میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی۔ ایف اے ٹی ایف نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیموں لشکر طیبہ اور اس کی ذیلی تنظیموں کی مالی معاونت روکنے سے متعلق موثر اقدامات نہیں کیے۔اس حوالے سے امریکی رپورٹ میں ایف اے ٹی اےف کے دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان کے قوانین تکنیکی طور پر انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے عالمی معیار کے تابع ہیں لیکن حکام اقوام متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں اور افراد جیسے کالعدم لشکر طیبہ اور اس کی ذیلی تنظیموں کے خلاف پابندیوں پر مکمل طور پر عملدرآمد میں ناکام ہوگئے ہیں۔علاوہ ازیں رپورٹ میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں قانون نافذ کرنے والے اور پروسیکیوشن کے اختیارات میں اضافے کے قوانین پر عملدرآمد کی کوششوں کو بھی سراہا۔ ان قوانین کے مطابق دہشت گردی کے پر پھانسی کی اجازت اور انسداد دہشت گردی عدالتوں کا قیام شامل ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 2018 میں ملٹری، پیراملٹری اور سول سیکیورٹی فورسز نے پاکستان بھر میں انسداد دہشت گردی سے متعلق آپریشنز کیے۔انٹیلی جنس بیورو کو ملک گیر دائرہ اختیار حاصل ہے جو صوبائی انسداد دہشت گردی کے محکموں سے تعاون کرنا اختیار بھی رکھتا ہے۔امرےکہ پاکستان کے ساتھ گاجر اور چھڑی کا اصول روا رکھتا ہے اےک جانب خدمات کی تعرےف کی جاتی ہے اور دوسری جانب ”مگر“ لگا دےا جاتا ہے تاکہ ڈو مور کا سلسلہ جاری رہے۔دنےا بھر میں اپنی دہشت گردی کے حوالے سے امرےکہ نے کبھی کوئی رپورٹ جاری نہےں کی‘ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی ہدایات اور تجاویز پر عمل درآمد کے لیے بے پناہ کوششیں کی ہیں۔انڈیا ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی مخالفت کرتا رہا ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات بھی نہیں کہ وہ پاکستان کو بلیک لسٹ کی جانب دھکیلنا چاہتا ہے۔ لیکن دنیا جانتی ہے اور بینکاک میں ایشیا پیسیفک گروپ کے اجلاس میں بھی اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے۔انہیں پاکستان کی جانب سے کی گئی پیش رفت پر اطمینان ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ٹرمپ کی ملاقات کے دوران پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر امریکہ سے تعاون بھی مانگا تھا۔اس سے قبل فنانشل ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کی ذیلی تنظیم ایشیا پیسفک گروپ (اے پی جی) کی رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا تھا۔یہ رپورٹ اکتوبر 2018 تک کی کارکردگی کی بنیاد پر تیار کی گئی ،اس لیے اس میں بہت سے ایسے اقدامات کا ذکر نہیں جو پاکستان نے گزشتہ ایک سال میں کیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے نظام کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔

Facebook Comments
Share Button