تازہ ترین

Marquee xml rss feed

من� کی بجائے ناکمیں دانت نکل آیا ی� انوکھا واقع� چین میں پیش آیا ج�اں آپریشن کرکے ناک سے دانت کو نکال دیاگیا-سپیشل ایجنٹ بلی جو ساتھیوں کو �رار کروانے میں ما�ر �ے 6سال� بلی راستے میں آنے والی �ر رکاوٹ کو آسانی سے پار کر جاتی-آپ کے �نگر پرنٹ اب منشیات سے متعلق بھی بتائیں گے منشیات کی روک تھام کے لیے سائنسدانوں نے نیا �ارمولا ایجاد کرلیا-پیٹرول کی قیمت میں اضا�ے کے خلا� احتجاج میں40 لوگ جاں بحق ایران میں احتجاج کی صورت حال دن ب� دن بگڑتی جا ر�ی �ے-ٹک ٹاک نے امریک� کو چاروں شانے چت کر ڈالا تحقیقاتی کمپنی نے ٹک ٹاک پر امریک� کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا-ب�ادر شخص نے مگرمچھ کو اندھا کر کے خود کو موت کے من� سے نکال لیا آخری لمحے تک مگرمچھ کامقابل� کر کے زندگی جیتنے والے شخص نے ب�ادری کی مثال قائم کر دی-موٹروے پر بس حادثے کا شکار �و گئی 3 خواتین جاں بحق ،10ا�راد زخمی

GB News

ڈاکٹرز کی ہڑتال جرم، فوری ختم کی جائے، لاہور ہائیکورٹ

Share Button

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں نئے مجوزہ قانون ایم ٹی آئی ایکٹ کے خلاف احتجاج کرنے والے ڈاکٹرز کو فوری طور پر ہڑتال ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔لاہور ہائیکورٹ میں ڈاکٹرز کی ہڑتال کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم ڈی سی)، کالج آف فزیشن اور ینگ ڈاکٹرز کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے۔ڈاکٹرز کے وکیل نے کہا کہ او پی ڈی میں ہڑتال نہیں ہے، ہڑتال کرنے والے ینگ ڈاکٹرز نہیں بلکہ پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ہیں جو ہڑتال کرسکتے ہیں لیکن پروفیشنل ڈاکٹر ہڑتال نہیں کرسکتے۔، لاہور ہائیکورٹ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہڑتال ڈاکٹرز کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہوگا، ڈیوٹی اوقات میں ہڑتال کرنا جرم ہے، پی ایم سی اور پنجاب حکومت ہڑتالی ڈاکٹروں کے خلاف ایکشن لیں، یہ ہیلتھ سیکرٹری کا قصور ہے کہ معاملہ ابھی تک لٹکا ہے۔عدالت نے سیکرٹری ہیلتھ سے استفسار کیا کہا جب آپ ایم ٹی آئی ایکٹ قانون لیکر آئے تو سب کو اعتماد میں لیا گیا؟۔ اس پر عدالت میں موجود وکلا نے نہیں کی آواز لگائی۔ عدالت نے ڈاکٹرز سے کہا کہ آپ اپنے بڑوں سے پوچھیں کہ قانون سے متعلق کیا کرنا ہے۔ ڈاکٹرز کے وکیل نے کہا کہ ہمیں کچھ وقت دیا جائے ہم ابھی طے کرلیتے ہیں۔سیکرٹری ہیلتھ نے کہا کہ ہم نے ایک کمیٹی بنائی، ہم نے نرسز اور ڈاکٹرز سب کو کمیٹی میں شامل کیا اور سنا، ہماری کل رات بھی میٹنگ ہوئی اب یہ کہتے ہیں کہ یہ قانون ہی ختم کریں۔عدالت نے کہا کہ قانون تو اب ختم نہیں ہوسکتا، عدالت حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، ڈاکٹرز ہڑتال ختم کریں اور ڈیوٹی پر جائیں، اس وقت ڈینگی، اسموگ اور دیگر مسائل چل رہے ہیں لیکن ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں، مجھے ینگ ڈاکٹرز لکھ کر دیں کہ ہڑتال نہیں کرینگے اور آج 12 بجے ہڑتال ختم ہوگی، عدالت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ پروفیشنل ہڑتال نہیں کرسکتے، آئین کے تحت ان کی ہڑتال جائز نہیں، بارہ بجے تک. ہڑتال ختم نہ کی تو اچھا نہیں ہوگا۔عدالت نے حکم دیا کہ جب تک مکمل قانون سازی نہیں ہوتی ہڑتال بلا جواز ہے، ڈاکٹرز کی ہڑتال اس وقت قبل از وقت ہے، ینگ ڈاکٹرز کے نمائندوں نے یقین دہانی کرادی ہے کہ ہڑتال ختم کررہے ہیں،عدالت نے کہا کہ پورے صوبے میں بارہ بجے تمام ڈاکٹرز ڈیوٹی پر چاہئیں، ہڑتال کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی میں جیل جائیں گے۔عدالت نے سیکرٹری ہیلتھ کو نئی قانون سازی میں تمام فریقوں کو شامل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نیا قانونی مسودہ مشاورت سے بنایا جائے اور 23 نومبر کو عدالت میں نیا مسودہ اور رپورٹ جمع کرائے۔ عدالت نے کیس کی سماعت دو دسمبر تک ملتوی کردی۔

Facebook Comments
Share Button