تازہ ترین

Marquee xml rss feed

من� کی بجائے ناکمیں دانت نکل آیا ی� انوکھا واقع� چین میں پیش آیا ج�اں آپریشن کرکے ناک سے دانت کو نکال دیاگیا-سپیشل ایجنٹ بلی جو ساتھیوں کو �رار کروانے میں ما�ر �ے 6سال� بلی راستے میں آنے والی �ر رکاوٹ کو آسانی سے پار کر جاتی-آپ کے �نگر پرنٹ اب منشیات سے متعلق بھی بتائیں گے منشیات کی روک تھام کے لیے سائنسدانوں نے نیا �ارمولا ایجاد کرلیا-پیٹرول کی قیمت میں اضا�ے کے خلا� احتجاج میں40 لوگ جاں بحق ایران میں احتجاج کی صورت حال دن ب� دن بگڑتی جا ر�ی �ے-ٹک ٹاک نے امریک� کو چاروں شانے چت کر ڈالا تحقیقاتی کمپنی نے ٹک ٹاک پر امریک� کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا-ب�ادر شخص نے مگرمچھ کو اندھا کر کے خود کو موت کے من� سے نکال لیا آخری لمحے تک مگرمچھ کامقابل� کر کے زندگی جیتنے والے شخص نے ب�ادری کی مثال قائم کر دی-موٹروے پر بس حادثے کا شکار �و گئی 3 خواتین جاں بحق ،10ا�راد زخمی

GB News

صوبائی اسمبلی، 33میں سے صرف 13ممبران کی حاضری

Share Button

قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں تیسرے روز بھی ممبران کی حاضری افسوسناک حد تک کم رہی اور33 ممبران کے ایوان میں صرف 13 ممبران ہی شریک ہوئے باربار کورم ٹوٹتا رہا ہے جس کی وجہ سے اسمبلی کی کارروائی نمٹانے میں بڑی دشواریاں پیش آتی رہیں ارکان اسمبلی نے اسمبلی کے اجلاس کو اہمیت ہی دینا چھوڑدی اجلاس کے پہلے روز سکردو سے تعلق رکھنے والے چار اراکین نے چھٹی کیلئے درخواست دی اور اسمبلی میں شریک نہیں ہوئے جن ممبران نے چھٹی کی درخواست دی ان میں عمران ندیم,کیپٹن(ر)سکندر,کاچو امتیاز, ریحانہ عبادی شامل ہیں سینئر وزیر اکبر تابان حسب روایت غیر حاضر رہے گانچھے سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیرغلام حسین ایڈووکیٹ بھی5نومبر سے شروع ہونے والے اجلاس کے تیسرے روز غیر حاضر رہے وزیراعلی حافظ حفیظ الرحمن اور ڈپٹی اسپیکر جعفراللہ بھی 5نومبر سے شروع ہونے والے سیشن میں غیر حاضر رہے اور انہوں نے اجلاس کو اہمیت دینے کے بجائے اسلام آباد میں موجود رہنے کو ترجیح دی دونوں نے چھٹی کی درخواست بھی نہیں دی صوبائی وزیر زراعت حاجی جانباز خان نے بھی گلگت شہر میں موجودگی کے باوجود اجلاس کو اہمیت نہیں دی رکن اسمبلی بی بی سلیمہ نے بھی رواں اجلاس کے تیسرے روز درخواست بھیجی اور اجلاس میں شریک نہیں ہوئیں دلچسپ امر یہ ہے کہ رواں اجلاس میں گلگت اور سکردو کے کسی رکن اسمبلی نے شرکت نہیں کی اور اسمبلی کے اجلاس سے زیادہ اپنی ذاتی امورکو ترجیح دی وزیر تعمیرات عامہ ڈاکٹر اقبال,رکن اسمبلی حاجی شاہ بیگ, صوبائی وزیرفدا خان,رکن اسمبلی عتیقہ غضنفر,رکن اسمبلی برکت جمیل, شریں اختر اور صوبیہ مقدم نے بھی اجلاس میں شرکت نہیں کی جمعرات کے روز بمشکل کورم پورا ہوا مگر سیپ اساتذہ کو مستقل کرنے کیلئے اسمبلی میں وزیر قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ کی طرف سے پیش کئے گئے بل کو منظور کرتے وقت کورم پھر ٹوٹ گیا کورم ٹوٹنے کے باجود بل کی منظوری دینے پر اپوزیشن اراکین اسمبلی کیپٹن (ر)شفیع اور جاوید حسین نے واک آﺅٹ کیا جس کی وجہ سے سپیکر کو اجلاس جمعہ کے روز صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کرنا پڑابتایاگیاکہ اراکین نے اسمبلی اجلاس کو اہمیت دینا ہی چھوڑ دی جس کی وجہ سے عوامی اہمیت کے مسائل کے حل اور قانون سازی میں بےشمار مشکلات پیش آرہی ہیں بعض ممبران اسمبلی ایسے بھی ہیں جن کی حاضریاں شرمناک حد کم ہیں کچھ ممبران کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے پورے چار سال میں پانچ چھ اجلاسوں سے زیادہ اجلاس میں شرکت نہیں کی اور انہوں نے مقتدر و معزز ایوان کو ہی مذاق بنادیا سپیکر قانون ساز اسمبلی بعض دفعہ اراکین کی اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار بھی کرتے رہے مگر اراکین اجلاسوں سے مسلسل غیر حاضر رہنے سے باز نہ آئے۔

Facebook Comments
Share Button