تازہ ترین

Marquee xml rss feed

من� کی بجائے ناکمیں دانت نکل آیا ی� انوکھا واقع� چین میں پیش آیا ج�اں آپریشن کرکے ناک سے دانت کو نکال دیاگیا-سپیشل ایجنٹ بلی جو ساتھیوں کو �رار کروانے میں ما�ر �ے 6سال� بلی راستے میں آنے والی �ر رکاوٹ کو آسانی سے پار کر جاتی-آپ کے �نگر پرنٹ اب منشیات سے متعلق بھی بتائیں گے منشیات کی روک تھام کے لیے سائنسدانوں نے نیا �ارمولا ایجاد کرلیا-پیٹرول کی قیمت میں اضا�ے کے خلا� احتجاج میں40 لوگ جاں بحق ایران میں احتجاج کی صورت حال دن ب� دن بگڑتی جا ر�ی �ے-ٹک ٹاک نے امریک� کو چاروں شانے چت کر ڈالا تحقیقاتی کمپنی نے ٹک ٹاک پر امریک� کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا-ب�ادر شخص نے مگرمچھ کو اندھا کر کے خود کو موت کے من� سے نکال لیا آخری لمحے تک مگرمچھ کامقابل� کر کے زندگی جیتنے والے شخص نے ب�ادری کی مثال قائم کر دی-موٹروے پر بس حادثے کا شکار �و گئی 3 خواتین جاں بحق ،10ا�راد زخمی

GB News

قانون ساز اسمبلی میں سیپ اساتذہ کو مستقل کرنے کا بل منظور

Share Button

قانون سازاسمبلی نے 1464میں سے 750سیپ اساتذہ کو مستقل کرنے کا بل منظور کرلیا جبکہ باقی 714اساتذہ کے مستقبل کا فیصلہ کر نے کے لئے خصوصی کمیٹی بنادی گئی کمیٹی میں تمام اضلاع کے نمائندگان اور ایک خاتون رکن کوبھی شامل کیا جائےگا،جمعرات کے روز وزیر قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ نے ایوان میں بل پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بل کی منظوری سے پہلے ایک خصوصی کمیٹی بنائی جائے تاکہ 714اساتذہ کے بارے میں غور کر کے کوئی لائحہ عمل بنا سکے اور کمیٹی کی سفارشات اگلے اور یعنی آج کے دن پیش کی جائیں تاہم سپیکر اسمبلی فداناشاد نے ایوان میں موجود اراکین کی رائے لینے کے بعد متفقہ منظوری کا اعلان کردیا۔اس سے پہلے وزیرقانون نے بل کے نکات سے ایوان کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کے تحت سیپ اساتذہ سکیل 9میں مستقل ہوںگے۔جن اساتذہ کی عمریں 50سال سے تجاوز کر چکی ہیں انہیں 6لاکھ روپے کا گولڈن ہینڈ شیک دیا جائے گا تمام اساتذہ سے باقاعدہ حلف نامہ لیا جائے گا مستقلی کے بعد تمام سروس رولز لاگوہوں گے،سیپ سکولوں کی بلڈنگ اوراثاثے محکمہ تعلیم کو منتقل ہوںگے۔بل کے تحت ڈومیسائل کی شرط لازمی ہوگی ہارڈ ایریاز میں موجود سکولوں میں کم سے کم 15بچے اور ایک ٹیچر اور تحصیل سطح پر سکولوں میں کم سے کم 20طلباءاور ایک ٹیچر کی شرط ہوگی بل کے تحت مسلسل خدمات سرانجام دینے والے اساتذہ کو ترجیح ملے گی اگر کسی کو کوئی اعتراض ہو تو ایک کمیٹی بنے گی جس کے پاس اپنے اعتراضات جمع کراسکیں گے اور اپیل بھی کراسکیں گے کم سے کم تعلیم کی شرط میٹرک ہوگی،وزیر قانون نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیپ سکول 1993سے کام کررہے ہیں جن میں ہزاروں بچے زیر تعلیم ہیں بلڈنگ بھی بنائی گئی ہے ن لیگ کی حکومت پہلی حکومت ہے جو ان اساتذہ کو مستقل کرنے جا رہی ہے اس سے پہلے کی حکومتوںنے کوئی توجہ نہیں دی اس سے پہلے انہوںنے سپیکر سے مطالبہ کیا کہ کچھ تحفظات اور سوالات ہیں جن پر مشاورت ضروری ہے جس کےلئے ایک کمیٹی بنائی جائے اور آج ہی مشاورت کر کے کل سفارشات پیش کی جائیں تاہم سپیکر نے انہیں بل پیش کرنے کی ہدایت کی جس کے بعد انہوںنے ایوان میں بل پیش کردیا رکن اسمبلی جاوید حسین نے بل پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ بل میں نئے اضلاع کا ذکر نہیں عمر کے حوالے سے بھی کنفیوژن ہے ایوان کو بتایا جائے کہ کون سے اضلاع کے کتنے اساتذہ مستقل ہوں گے جس پر وزیر تعلیم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمت کے لئے عمر کی ایک حد ہوتی ہے رولز کے مطابق کسی بھی ملازم کو 10سال تک خدمات انجام دینا ضروری ہے ۔جن اساتذہ کی عمر یں 50سال سے زیادہ ہیں وہ ریگولر نہیں ہوسکتے اس لئے ہم انہیں گولڈن ہینڈ شیک دے رہے ہیں تاکہ وہ بھی مایوس نہ ہوں،اضلاع کے حوالے سے انہوںنے بتایا کہ بل کے تحت اضلاع کی بنیاد پر نہیں بلکہ سکولوں کی بنیاد پر اساتذہ مستقل ہوں گے جہاں جہاں سکولز ہیں وہیں کے اساتذہ مستقل ہوں گے یہ کسی ضلع میں کم بھی ہوسکتے ہیں اور زیادہ بھی ،رکن اسمبلی حاجی رضوان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ 750اساتذہ کو تو مستقل کیا جارہاہے سوال یہ ہے کہ باقی 714اساتذہ کا کیا بنے گا اس معاملے کو واضح کیاجائے پھر ہم اسمبلی میں بحث کریں گے کیونکہ یہ لوگ کل کو پھر سٹرکوں پر آسکتے ہیں اور دھرنا دے سکتے ہیں راجہ جہانزیب نے بھی اسی معاملے کو اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ 714اساتذہ کے معاملے کا حل نکالا جائے صوبائی وزیر فرمان علی نے کہا کہ بل تو بہترین ہے لیکن باقی ماندہ اساتذہ کا ذکر نہیں اور جن لوگوںنے زمینیں دی ان کا کیا بنے گا۔لینڈ ڈونر کے ساتھ کیا سلوک کیاجارہاہے جس کےلئے ایک سپیشل کمیٹی بنائی جائے جس پر سپیکر نے ریمارکس دیئے کہ یہ معاملہ پہلے کابینہ سے ہی منظورہو کر آیا ہے آپ کابینہ کے ممبر ہیں آپ کو کابینہ میں اس پر بحث کرنی چاہےے تھی اب یہ کابینہ کی کوتاہی ہے اسمبلی کی نہیں صوبائی وزیرحاجی حیدر خان نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام چیزیں کابینہ میں زیر بحث آچکی ہیں لہٰذابل کو پاس کرناچاہےے کافی انتظار کیا ہے مزید انتظار نہیں ہونا چاہےے میجر امین نے کہاکہ بل کو سوچ سمجھ کر بنایا گیا ہے تاہم بیسک ایجوکیشن اور این ای ایف کے حوالے سے واضح نہیں انہوںنے کہا کہ زمینوں کا معاوضہ ادا ہو چکا ہے مزید کسی تاخیر کے بغیر بل پاس ہونا چاہےے وزیر خوراک محمد شفیق نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ اساتذہ کی مستقلی کے لئے چار سال سے کوششیں ہورہی ہیں یہ سکول تمام ممبر کے حلقوں میں موجود ہیں موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہےے بلڈنگ اور دیگر اساتذہ کا معاملہ وقت کے ساتھ حل کیا جاسکتا ہے ۔اپوزیشن لیڈر محمدشفیع نے کہا کہ اساتذہ کے لئے سب کی مشترکہ جدوجہد تھی گلگت بلتستان میں سیپ جبکہ وفاق میں بیسک ایجوکیشن کے نام سے یہ سکول قائم ہیں اکتوبر میں وفاق میں اہم میٹنگ ہوئی تھی جس میں ہمارے ایک ایڈیشنل سیکرٹری بھی شریک تھے ڈاکٹر عشرت حسین کی زیرصدارت اس اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ کہ یکم دسمبر سے یہ تمام سکول صوبوں کو ٹرانسفر ہوںگے انہوںنے کہا کہ ہمارے وزیر کے پاس ابھی تک اس اجلاس کے منٹس بھی نہیں آئے ہو نا تو یہ چاہےے تھا کہ اس اجلاس کے منٹس کو صوبائی کابینہ میں پیش کر کے بحث کراتے اور پھر کوئی فیصلہ کرتے ۔ وفاق میں جو کچھ فیصلہ ہوا ہے اس پر صوبائی کابینہ میں غور ہونا چاہےے تھا اس کے لئے ایک سلیکٹ کمیٹی بنائی جائے اور وفاق میں ہونے والے اجلاس کے منٹس کو بھی زیربحث لا کر کوئی فیصلہ کیا جائے عجلت میں کوئی فیصلہ کریں گے تو لوگ سٹرکوں پر نکلیں گے ہمیں بھی نکلنا پڑےگا۔وزیر پلاننگ اقبال حسن نے کہا کہ لوگ بے چینی سے انتظار کررہے ہیں جلدی میں فیصلہ نہیں ہونا چاہےے بیسک ایجوکیشن کی 48سٹیوں کی تقسیم کافارمولا طے ہونا چاہےے تاہم ہم اس بل کی حمایت کرتے ہیں اسی دوران سپیکر نے ریمارکس دئیے کہ وفاق نے بیسک ایجوکیشن کے سکولوں کو صوبوں کو منتقل کئے لیکن ساتھ میں کوئی فنڈز نہیں دیئے اس پر کابینہ میں بحث ہونی چاہےے تھی 750اساتذہ کا راستہ نہیں روکنا چاہےے تمام اراکین بل کے حق میں ہیں صرف چند تحفظات اور سوالات ہیں ڈویژن سطح پر دفاتر قائم ہیں یہاں موجودسٹاف کا کیا بنے گا دوسراسوال یہ ہے کہ جنہوںنے زمینیں دی ہیں ان کے ساتھ وعدہ کیا ہوا ہے اس کا کیا بنے گا جس پر وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی نے ایوان کو بتایاکہ یہ دفاتر بیسک ایجوکیشن اور این ای ایف کے ہیں یہ وفاق کے ماتحت ہیں کیونکہ تنخواہ بھی وفاق دے رہاہے لوگوں نے زمینیں مفت دی ہیں ٹیچر کا بندوبست کمیونٹی سطح پر ہوا ہے ۔انہوںنے کہا کہ پورے ملک میں بیسک ایجوکیشن اوراین ای ایف کے 18ہزار اساتذہ ہیں انہیں کوئی بھی صوبہ لینے پر تیار نہیں یہاںہم سب نے مل کر کوششیں کیں اور 750پوسٹیں لینے میں کامیاب ہوئے ہم اس معاملے کو الجھاتے رہیں گے تو خراب ہوگا انہوںنے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بل کو آج ہی منظور کرلیا جائے باقی رہ جانے والے ٹیچر کو بھی مستقل کرنے کی کوششں کریں گے آخر میں سپیکر نے کہا کہ چونکہ تمام اراکین اسمبلی اس بل کے حق میں ہیں اس لئے بل کی متفقہ منظوری کا اعلان کیاجاتا ہے ۔

Facebook Comments
Share Button