تازہ ترین

Marquee xml rss feed

من� کی بجائے ناکمیں دانت نکل آیا ی� انوکھا واقع� چین میں پیش آیا ج�اں آپریشن کرکے ناک سے دانت کو نکال دیاگیا-سپیشل ایجنٹ بلی جو ساتھیوں کو �رار کروانے میں ما�ر �ے 6سال� بلی راستے میں آنے والی �ر رکاوٹ کو آسانی سے پار کر جاتی-آپ کے �نگر پرنٹ اب منشیات سے متعلق بھی بتائیں گے منشیات کی روک تھام کے لیے سائنسدانوں نے نیا �ارمولا ایجاد کرلیا-پیٹرول کی قیمت میں اضا�ے کے خلا� احتجاج میں40 لوگ جاں بحق ایران میں احتجاج کی صورت حال دن ب� دن بگڑتی جا ر�ی �ے-ٹک ٹاک نے امریک� کو چاروں شانے چت کر ڈالا تحقیقاتی کمپنی نے ٹک ٹاک پر امریک� کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا-ب�ادر شخص نے مگرمچھ کو اندھا کر کے خود کو موت کے من� سے نکال لیا آخری لمحے تک مگرمچھ کامقابل� کر کے زندگی جیتنے والے شخص نے ب�ادری کی مثال قائم کر دی-موٹروے پر بس حادثے کا شکار �و گئی 3 خواتین جاں بحق ،10ا�راد زخمی

GB News

حکومت انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کےلئے عدالتی کمیشن بنانے پر متفق

Share Button

حکومت انتخابی دھاندلی کی تحقےقات کے لئے عدالتی کمیشن بنانے پرمتفق ہوگئی ہے جبکہ اپوزیشن کی رہبرکمیٹی نے حکومت پرمزیددباﺅبڑھانے کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ2دن بعد دھرنانیارخ اختیار کرے گا۔مولانافضل الرحمن نے کہا ہے کہ مذاکرات کی ضرورت نہیں حکومتی کمیٹی نے آنا ہے تو وزیراعظم کا استعفیٰ لے کرآئے۔تحقےقات اس کی ہونی ہے جس چوری کاکوئی گواہ نہ ہو۔یہاں پوری قوم دھاندلی کی گواہ ہے جبکہ چوہدری پرویزالٰہی کاکہنا ہے کہ جس بات پرمولاناراضی ہوں گے وہی بات ہوگی اچھانتیجہ نکلے گا۔نجی ٹی وی کے مطابق حکومت عام انتخابات2018میں دھاندلی کی تحقےقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے پرتیار ہوگئی ہے۔حکومت نے اپوزیشن کوباضابطہ طورپرانتخابات کی تحقےقات کی پیشکش کردی ہے۔حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن یاپارلیمانی کمیٹی کے ذریعے الیکشن2018کی تحقےقات کراسکتے ہیں۔چودھری پرویزالٰہی کے ذریعے حکومت نے فضل الرحمن کوتجویز بھجوادی ہے۔دوسری جانب اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے حکومت پر مزید دبا بڑھانے کا فیصلہ کر لیاہے۔ جمعرات کورہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم خان درانی نے اتحادیوں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جو رہبر کمیٹی کے فیصلے کے علاوہ ہو۔انہوں نے کہا کہ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ رہبر کمیٹی کرے گی، اس کے علاوہ کوئی فیصلہ نہیں ہوگا۔رہبر کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ آزادی مارچ دو دن بعد نیا رخ اختیار کرے گا۔ جبکہ دباﺅ بڑھانے کےلئے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا ہے جبکہ آئندہ کے فیصلے کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا، تمام جماعتیں آزادی مارچ کو جاری رکھنے پر متفق ہیں جبکہ آزادی مارچ میں شرکت کےلئے مزید قافلے بھی آرہے ہیں اور ان کی رہائش اور کھانے پینے کے انتظامات زور وشور سے جاری ہیں۔ کچھ پتے ہم اپنے پاس رکھیں گے اور حکومت کو سرپرائز دیں گے۔ادھرآزادی مارچ کے شرکاسے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت اس اجتماع کو سنجیدہ لے، مذاکرات کی ضرورت نہیں، آنا ہے تو وزیراعظم کا استعفیٰ لیکر آو¿، کبھی کہتے ہیں دھاندلی کے لیے قومی کمیشن بنایا جائے، جس چوری کی گواہ پوری قوم ہو اس کی تحقیق نہیں استعفیٰ ہوتا ہے، اب آپ کو کوئی این آر او نہیں ملے گا۔شرکا نے آئین و قانون کی پاسداری کی، کارکنوں نے نظم وضبط اور امن کا پیغام دیا ہے، آزادی مارچ نے مغربی میڈیا کا منفی تاثر زائل کر دیا۔ آزادی مارچ نے صبروتحمل کا مظاہرہ کیا۔ ہم نے پندرہ ملین مارچ پرامن طریقے سے کیے۔مولانا فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے پورے ملک سے کنٹینر منگوائے، کنٹینرزکی وجہ سے ملک کوکروڑوں کانقصان پہنچایا گیا، کنٹینرز لگانے کی وجہ سے ملک کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا، آزادی مارچ سے کوئی شہری پریشان نہیں ہوا، ہے کوئی ادارہ جویہ حساب لے، کل اگر امن خراب ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟پاکستان تحریک انصاف کے پارٹی فنڈنگ کے حوالے سے امیر جے یو آئی کا کہنا تھا کہ پانچ سال سے پارٹی فنڈنگ کیس چل رہا ہے، یہ کیس زیر التوا ہے، بیرون ملک سے اکٹھا کیا گیا فنڈز کہاں گیا؟پاک فوج کے ترجمان کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ میرے متعلق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کے بیان کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ واضح کر دیا فوج غیر جانبدار ادارہ ہے۔ دوران تقریر آزادی مارچ کے شرکاءنے پاک فوج کے حق میں بلند شگاف نعرے لگائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی بہن کے پاس دبئی میں 60 ارب کہاں سے آئے؟اس سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں آصف علی زرداری کے لیے دعاگو ہوں، میری دعائیں ان کے لیے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں صحت دے۔ جو ملک چلانے کے سلیقے جانتا ہے، ان کو جیل میں ڈال کر نااہل لوگوں کو مسلط کیا گیا۔ نااہلوں کو حکومت عطا کر دی گئی ہے تو ملک کیسے چلے گا؟ بنیادی طور پر سیاسی قیادت کی گرفتاری ناجائز عمل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کی ٹاپ لیڈر شپ انتہائی قابل احترام ہے، ان کے ساتھ جو رویہ روا رکھا ہوا ہے، وہ انتہائی گرا ہوا کردار ہے جو اس وقت حکومت کے ایوانوں سے قوم کے سامنے آ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک پر قابض افراد پتھر دل لوگ ہیں جو سیاسی قیادت پر جبر روا رکھے ہوئے ہیں۔ ان سیاست دانوں کی عمر 70 سال سے بھی تجاوز کر چکی لیکن وہ استقامت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن چوہدری پرویز الہیٰ کی جمعیت علماءاسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے چوتھی ملاقات ہوئی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں چوہدری پرویز الہیٰ اور مولانا فضل الرحمان نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کی تجاویز پر مبنی آپشنز پر تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات میں صوبائی وزیر حافظ عمار یاسر اور سینیٹر طلحہ محمود بھی شریک تھے۔ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ جس بات پر مولانا فضل الرحمان راضی ہوں گے وہی بات ہوگی، مولانا فضل الرحمان کو بہت ساری تجاویز دی ہیں، سب پر امید ہیں چیزیں بہتری کی طرف جارہی ہیں جلد خوشخبری سنائیں گے اور اچھا نتیجہ نکلے گا۔نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے پرویز الٰہی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات سے دن بدن بہتری آرہی ہے ، کچھ چیزیں ایسی ہیں جن پر ہمیں تحفظات ہیں ، ہماری کوشش ہے کہ یہ بھی دور ہو جائیں، وزیراعظم عمران خان الیکشن کمیشن کو خود مضبوط کرنا چاہتے ہیں ،ا گر اپوزیشن کوئی حلقے کھلوانا چاہتی ہے یا جوڈیشل بنانا چاہتی ہے تو اس کےلئے بھی وزیراعظم آمادہ ہیں، ، دھرنے کا سب سے زیادہ فائدہ مولانا فضل الرحمان کو ہوا ہے ، وہ آج پارلیمنٹ میں نہیں لیکن سب انہیں اپنا لیڈر مان رہے ہیں

Facebook Comments
Share Button