تازہ ترین

Marquee xml rss feed

من� کی بجائے ناکمیں دانت نکل آیا ی� انوکھا واقع� چین میں پیش آیا ج�اں آپریشن کرکے ناک سے دانت کو نکال دیاگیا-سپیشل ایجنٹ بلی جو ساتھیوں کو �رار کروانے میں ما�ر �ے 6سال� بلی راستے میں آنے والی �ر رکاوٹ کو آسانی سے پار کر جاتی-آپ کے �نگر پرنٹ اب منشیات سے متعلق بھی بتائیں گے منشیات کی روک تھام کے لیے سائنسدانوں نے نیا �ارمولا ایجاد کرلیا-پیٹرول کی قیمت میں اضا�ے کے خلا� احتجاج میں40 لوگ جاں بحق ایران میں احتجاج کی صورت حال دن ب� دن بگڑتی جا ر�ی �ے-ٹک ٹاک نے امریک� کو چاروں شانے چت کر ڈالا تحقیقاتی کمپنی نے ٹک ٹاک پر امریک� کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا-ب�ادر شخص نے مگرمچھ کو اندھا کر کے خود کو موت کے من� سے نکال لیا آخری لمحے تک مگرمچھ کامقابل� کر کے زندگی جیتنے والے شخص نے ب�ادری کی مثال قائم کر دی-موٹروے پر بس حادثے کا شکار �و گئی 3 خواتین جاں بحق ،10ا�راد زخمی

GB News

قومی اسمبلی میں11آرڈیننس بغیر بحث منظور

Share Button

قومی اسمبلی میں حکومت نے قائمہ کمیٹیوں کو بائی پاس کرتے ہوئے اور بغیر کسی بحث کے 11آرڈیننسز کو بلوں کی شکل میں منظور کروا لیا جبکہ3آرڈیننس کو120دن کی توسیع کی قرار دادیں منظور کروا لیں۔7آرڈیننسز کو سپلیمنٹری ایجنڈے میں شامل کر کے انہیں بلوں کی شکل میں منظور کروایا گیا ۔قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس کی روشنی میں مجموعہ ضابطہ دیوانی ترمیمی بل اورنیا پاکستان ہاﺅسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل بھی منظور کر لئے گئے ۔ اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر کے ڈائس کا گھیراﺅ کیا اور آرڈیننسز و بلوں کی کاپیاں پھاڑ دیں ۔اپوزیشن نے حکومت مخالف شدید نعرے بازی بھی کی اور جعلی ڈپٹی سپیکر ،ووٹ چور نامنظور ،آرڈیننس فیکٹری بند کرو کے نعرے لگائے ۔اپوزیشن ارکان مسلسل ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کو متوجہ کرتے رہے مگر ڈپٹی سپیکر نے کسی کی نہ سنی اور بلوں کی منظوری کا عمل جاری رکھا۔ ڈپٹی سپیکر نے بل منظور کروانے کے بعد نماز مغرب کی ادائیگی کیلئے اجلاس کی کارروائی 15منٹ کیلئے ملتوی کی۔بعد ازاں اپوزیشن کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس (آج)جمعہ تک ملتوی کر دیا۔اپوزیشن نے ڈپٹی سپیکر کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا ہے۔پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جگہ پاکستان میڈیکل کمیشن کے قیام کا بل ، میڈیکل اور صحت کے شعبوں سے متعلق معاملات سننے کےلئے الگ سے ” میڈیکل ٹربیونلز” کے قیام کے بل بھی منظور کر لئے گئے۔جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت ہوا ۔اجلاس کے آغاز میں وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے ایجنڈے پر موجود وقفہ سوالات ملتوی کرنے کی تحریک پیش کی جس کی اپوزیشن نے مخالفت کی ۔ ڈپٹی سپیکر نے کثرت رائے سے تحریک منظور کر لی ۔ اس کے بعد علی محمد خان نے میڈیکل ٹربیونل آرڈیننس 2019 (نمبر 14بابت2019)ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن نے احتجاج کیا ۔احتجاج کے دوران پارلیمانی سیکرٹری نوشین حامد نے میڈیکل ٹربیونل آرڈیننس 2019 کی روشن میں خصوصی عدالتی ٹربیونل کے قیام کا بل (طبی ٹربیونل بل2019) منظوری کےلئے پیش کیا جس پر اپوزیشن نے احتجاج شروع کردیا ۔اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ بل منطور کرنے کی بجائے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بجھوایا جائے ۔ڈپٹی سپیکر نے بل قائمہ کمیٹی بھیجنے کی بجائے رائے شماری کے بعد بل کثرت رائے سے منظور کر لیا جس پر اپوزیشن نے آرڈیننس اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور ڈپٹی سپیکر کے ڈائس کا گھیراﺅ کیا ۔اپوزیشن نے حکومت مخالف شدید نعرے بازی بھی کی اور جعلی ڈپٹی سپیکر ،ووٹ چور نامنظور ،آرڈیننس فیکٹری نامنظور کے نعرے لگائے ۔طبی ٹربیونل بل2019 کے تحت میڈیکل اور صحت کے شعبوں سے متعلق معاملات سے پیدا ہونے والے تنازعات کو فی الفور اور مناسب طریقے سے سننے کےلئے میڈیکل ٹربیونلز قائم کیے جائیں گے اور تنازعات کا فیصلہ کیا جا سکے گا ۔طبی ٹربیونلز کے فیصلوں کی اپیل سپریم کورٹ میں کی جا سکے گی ۔پارلیمانی سیکرٹری صحت نوشین حامد نے پاکستان طبی کمیشن آرڈیننس2019(نمبر 15بابت2019)پیش کیا جس کے بعد پارلیمانی سیکرٹری نے آرڈیننس کی روشنی میں پاکستان طبی کمیشن بل 2019منظوری کےلئے پیش کیا ۔ اس بل کو بھی ڈپٹی سپیکر نے کمیٹی کو بجھوانے کی بجائے اور بل کی شق وار منظوری کی بجائے تمام شقوں کو یکجا کر کے رائے شماری کے بعد منظور کر لیا ۔بل کے تحت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی تحلیل کے بعد اس کی جگہ پاکستان طبی کمیشن قائم کیا جائے گا ۔ بعدازاں پارلیمانی سیکرٹری ملائکہ بخاری نے مجموعہ ضابطہ دیوانی ترمیمی بل 2019اوروزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے نیا پاکستان ہاﺅسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل2019پیش کیا ۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور سینیٹر اعظم خان سواتی نے ایجنڈے میں شامل نہ ہونے کے باوجود گزشتہ دنوں صدر مملکت کی جانب سے جاری کئے گئے 8آرڈیننس میں سے 7آرڈیننس ایوان میں پیش کر دیے اور ساتھ ہی ان آرڈیننس کے بل بھی منظوری کےلئے ایوان میں پیش کر کئے جس پر ایک بار پھر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ کم ازکم ہمیں پڑھنے کےلئے بل دیے جائیں تا کہ ہم دیکھ سکیں کہ کون سے بل منظور کئے جا رہے ہیں اور ان میں کیا ہے ۔ ڈپٹی سپیکر نے اپوزیشن کا مطالبہ سننے کی بجائے بلوں کی منظوری کا سلسلہ جاری رکھا ۔سینیٹر اعظم خان سواتی نے بے نامی ٹرانزکشنز ممانعت ایکٹ2018میں ترمیم کا بل پیش کیا جس کو ڈپٹی سپیکر نے رائے شماری کے بعد کثرت رائے سے منظور کر لیا ۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے مخبر کے تحفظ اور نگران کمیشن کے قیام کےلئے انتظام کرنے کا آرڈیننس بل کی صورت میں پیش کیا جس کو ڈپٹی سپیکر نے رائے شماری کے بعد کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ اعظم خان سواتی نے عدالتی لباس اور انداز مخاطب کے فرمان (تنسیخی )آرڈیننس 2019کا بل پیش کیا جس کو ڈپٹی سپیکر نے رائے شماری کے بعد کثرت رائے سے منظور کر لیا ۔ بل کے تحت عدالتی لباس اور طرز تخاطب سے متعلق معاملہ کو اعلیٰ عدالتیں ہی منضبط کریں گی۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے نیب ترمیمی بل 2019پیش جس کو ڈپٹی سپیکر نے کثرت رائے سے منطور کر لیا ۔ بل کے تحت 50ملین روپے سے زائد کی کرپشن کے الزام میں گرفتار ملزم جیل میں درجہ(ج)یا اس کے مساوی سہولیات کا حقدار ہوگا ۔ اعظم خان سواتی نے قانونی معاونت و انصاف اتھارٹی کے قیام کا بل 2019پیش کیا اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماﺅں خواجہ محمد آصف، راجہ پرویز اشرف ، نوید قمر،خرم دستگیر اور مولانا اسعد محمود قومی اسمبلی میں بغیر بحث کے بل اور آرڈیننس منظور کیئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس قانون سازی کو چیلنج کرنے اور ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کردیا،اپوزیشن رہنماو¿ں نے کہا کہ فسطائی رویوں کو ایوان کے فلور پر ناچتا ہوا دیکھا ہے، 14 بل اور دو آرڈیننسز بغیر کسی بحث کے منظور کیے گئے، آرڈیننسز کو کھڑے کھڑے بلوں میں تبدیل کر کے منظور کر لیا گیا یہ کوئی قانون سازی نہیں،شرمناک انداز سے قانون سازی کی گئی ،آرڈیننس بلڈوز کئے گئے ہیں ، جو پارلیمنٹ کو لپیٹنا چاہتے ہیں حکومت ان کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے ؟، سگنل مل رہا ہے کہ یہاں پارلیمنٹ کی کوئی ضرورت نہیں ، ادارے عوام کے ساتھ کھڑے ہو جائیں ،ایک ناجائز حکومت کے لیے اپنے ملک کو داﺅ پر لگانا عقلمندی نہیں،حکومتی رویئے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ایوان بند یا بے توقیر ہوں گے تو اپوزیشن سڑکوں پر نظر آئے گی۔

Facebook Comments
Share Button