تازہ ترین

Marquee xml rss feed

من� کی بجائے ناکمیں دانت نکل آیا ی� انوکھا واقع� چین میں پیش آیا ج�اں آپریشن کرکے ناک سے دانت کو نکال دیاگیا-سپیشل ایجنٹ بلی جو ساتھیوں کو �رار کروانے میں ما�ر �ے 6سال� بلی راستے میں آنے والی �ر رکاوٹ کو آسانی سے پار کر جاتی-آپ کے �نگر پرنٹ اب منشیات سے متعلق بھی بتائیں گے منشیات کی روک تھام کے لیے سائنسدانوں نے نیا �ارمولا ایجاد کرلیا-پیٹرول کی قیمت میں اضا�ے کے خلا� احتجاج میں40 لوگ جاں بحق ایران میں احتجاج کی صورت حال دن ب� دن بگڑتی جا ر�ی �ے-ٹک ٹاک نے امریک� کو چاروں شانے چت کر ڈالا تحقیقاتی کمپنی نے ٹک ٹاک پر امریک� کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا-ب�ادر شخص نے مگرمچھ کو اندھا کر کے خود کو موت کے من� سے نکال لیا آخری لمحے تک مگرمچھ کامقابل� کر کے زندگی جیتنے والے شخص نے ب�ادری کی مثال قائم کر دی-موٹروے پر بس حادثے کا شکار �و گئی 3 خواتین جاں بحق ،10ا�راد زخمی

GB News

رحمة اللعالمینۖ کا یومِ ولادت

Share Button

 

پوری دنیا کے مسلمان آج وجہ تخلیق کائنات’رحمة اللعالمین کا یوم ولادت نہایت تزک و احتشام سے منا رہے ہیں’اللہ تعالیٰ نے کائنات کو بنایا اور دیکھا جائے تو کائنات میں سب سے زیادہ محتاج مخلوق انسان کی ہے کیونکہ سب سے زیادہ خواہشات انسان کی ہیں۔ انسان کی خواہشات، ضرورتوں اور حاجتوں کی کوئی حد نہیں اور بے شک اللہ پاک ہی کی ہستی ہے جو اس کی ہر حاجت پوری کرنے کے لیے بے شمار خزانے رکھے ہیں اور بے شک وہ ہر حاجت پوری کرنے پر قادر ہے۔ اللہ رب العالمین کے انسان پر اتنے احسانات ہیں کہ اگر انہیں انسان گنے اور اس کا شکر ادا کرنا شروع کر دے تو اس کیلئے اس کی تمام زندگی اور سانسیں کافی نہیں ہوں گی ، پھر بھی اس پر شکر ادا کرنے کا حق باقی رہے گا۔ بے شک ہر نعمت دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے چاہے وہ دین و دنیا کی نعمت ہو یا ظاہری اور باطنی نعمتیں ہوں۔ان تمام نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت دین اسلام ہے اور یہ دین ہم تک پہنچانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان اپنے محبوب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیجا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے رحمت اللعالمین کہا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہمیں سیدھا اور صحیح راستہ دکھانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات پاک کو معیار بنایا۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی زندگی میں خوبصورت نمونہ ہے۔ یعنی آپ ۖ کو دیکھ کر ہم اس دنیا میں اپنی زندگی بسر کریں اس لئے کہ آپ ۖ کا طریقہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ ترین طریقہ ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین بنایا یعنی آپ ۖ کے بعد کوئی نبی کوئی پیغمبر نہ آیا اور نہ ہی آئے گا۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کیا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات پر آکر مکمل ہوا۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن وہ تو اللہ کے رسول ۖ ہیں اور نبیوں کی نبوت ختم کرنے والے ہیں۔یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی کوئی پیغمبر نہ آیا اور نہ آئے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سب کے رہنما ہیں۔ آپِۖ دنیا کے کامیاب ترین انسان ہیں اور جو بھی دنیا اور آخرت میں کامیاب ہونا چاہتا ہے تو اس کے لئے آپ ۖ محبت اور اتباع کیے بغیر کامیابی کا کوئی راستہ نہیں کیونکہ اللہ وحدہ لاشریک کا فرمان ہے:کہہ دو کہ اگر تم اللہ کے ساتھ محبت کرتے ہو تو میری اطاعت کرو اللہ تمہیں محبوب بنا لے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں نازل فرماتے ہیں۔آپۖ پر دن رات فرشتے درود و سلام بھیجتے ہیں اور دعائے رحمت کرتے ہیں۔آپۖ کی عمر کی قسم اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں کھا ئی۔ آپۖ کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور آپۖ کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے۔آپۖ آواز سے بلند آواز کرنے کی کسی کو اجازت نہیں۔ آپۖ کی اطاعت میں جنت ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپۖ کی اطاعت کا حکم دیا ہے تو آپۖ سے محبت کی غرض بھی اطاعت ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ ۖ کی اتباع کا حکم دیا کہ اگر تم آپۖ کی پیروی کرو گے تو ہدایت پائوگے۔ارشادِ ربانی ہے:کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے بھائی بیویاں قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اس کی راہ میں جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے، اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔یعنی وہ قریب ترین رشتہ دار اولاد بیوی ماں باپ جن کے ساتھ انسان شب و روز گزارتا ہے اور مال و اسباب، کاروبار یہ سب چیزیں اپنی جگہ اہمیت اور افادیت کی حامل ہیں لیکن اگر ان کی محبت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے زیادہ ہو جائے تو یہ بات اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسندیدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہے جس سے انسان اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے محروم ہوسکتا ہے جس طرح کے آخری الفاظ سے واضح ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نے بھی اس مضمون کو وضاحت سے بیان کیا ہے۔:قسم ہے اْس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں جب تک میں اس کو اس کے والد سے اس کی اولاد سے اور تمام لوگوں سے محبوب نہ ہو جائوں۔ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اپنی جان و مال اولاد والدین عزیزواقارب حتیٰ کہ ہر عزیز چیز سے زیادہ ہونی چاہیے اور یہی دین و ایمان کی اساس اور بنیاد ہے اور اگر اس میں کمی ہوگی تو دین و ایمان میں کمی اور خامی باقی رہ جائیگی۔گویا اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ محبت اس وقت تک سچی قرار نہیں پاتی جب تک وہ اللہ تعالیٰ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی ہر معاملے میں نہ کرے۔کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کی محبت اس وقت تک نصیب نہیں ہو سکتی جب تک وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اتباع نہ کرے اور یہی اصل محبت کا تقاضا ہے۔ بات سمجھنے کی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو راضی کرنے کیلئے آپۖ سے محبت لازمی ہے اور آپۖ سے محبت کا تقاضا یہی ہے کہ آپۖ کی اطاعت اور پیروی کی جائے اور اپنی تمام زندگی کو آپۖ کی سیرت کے سانچے میں ڈھال لیا جائے۔اصل محبت تو یہی ہے اور انسان جس سے محبت کرتا ہے اس کی اطاعت کرتا ہے، اس کی فرمانبرداری کرتا ہے، اس کی پسند ناپسند کو اپنی پسند ناپسند بنا لیتا ہے، اپنے محبوب کو جیسا کرتے پایا خاموشی سے ویسا ہی کرتے چلے جانا اْسے اپنے محبوب کی رضا مطلوب ہوتی ہے اور وہ اس کی ناراضگی سے بچتا ہے اور ہر وقت ہر محفل میں اپنے محبوب کا تذکرہ کرنا اسے اچھا لگتا ہے۔ اسے اپنے محبوب کے ذکر میں راحت محسوس ہوتی ہے۔ محبت کا ایک اور تقاضا یہ بھی ہے کہ جس سے محبت ہوتی ہے تو اس کی سوچ اور فکر کو بھی آگے پہنچایا جاتا ہے اور اپنے محبوب کے مشن کو آگے پھیلانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ اسے اپنے محبوب کی ہر ادا سے محبت ہوتی ہے اور یہی تمام چیزیں ہمیں صحابہ کرام کی زندگیوں سے ملتی ہیں اور جس کی بے شمار مثالیں ہمیں مختلف کتابوں میں ملتی ہیں۔صحابہ کرام کی محبت کا تو یہ عالم تھا کہ جب انہیں آپۖ کی پسند وناپسند کا پتہ چلتا تو اس پر بغیر کسی حیل وحجت کے عمل فرماتے یہاں تک کہ انہوں نے آپۖ کے پہننے ، اٹھنے’ بیٹھنے’ کھانے’ پینے’ چلنے’ پھرنے اور آپۖ کی ہر ہر ادا کو اپنا لیا تھا اور اپنی زندگی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے سانچے میں ڈھال لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت ایسے لوگوں کیلئے واجب ہو گی جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس درجے تک محبت کرتے تھے۔آپ ۖکی اتباع کرنا ہی آپ ۖ سے محبت کا اصل تقاضا ہے اور اصل محبت تو یہی ہے کہ ہم آپۖ کی پیروی کریں ،آپۖ کی پسند ناپسند کو اپنی پسند نا پسند بنالیں اور آپۖ کی حیات طیبہ کو اپنی زندگی کا شعار بنا لیں اور یہ تب ہی ہوسکتا ہے جب دل میں سچی محبت ہو اور ہم سچی محبت کے دعوے دار ہوں۔ہم اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کے دعوے دار تو ہیں، تو کیا ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کے طلب گار رہتے ہیں؟ کیا ہمارا طرز زندگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ کے مطابق ہے؟ کیا ہمارے لبوں پر ہر وقت اللہ اور اس کے محبوبۖ کا ذکر رہتا ہے؟ہمیں اس پر غور کرنا ہو گا۔

Facebook Comments
Share Button