تازہ ترین

Marquee xml rss feed

من� کی بجائے ناکمیں دانت نکل آیا ی� انوکھا واقع� چین میں پیش آیا ج�اں آپریشن کرکے ناک سے دانت کو نکال دیاگیا-سپیشل ایجنٹ بلی جو ساتھیوں کو �رار کروانے میں ما�ر �ے 6سال� بلی راستے میں آنے والی �ر رکاوٹ کو آسانی سے پار کر جاتی-آپ کے �نگر پرنٹ اب منشیات سے متعلق بھی بتائیں گے منشیات کی روک تھام کے لیے سائنسدانوں نے نیا �ارمولا ایجاد کرلیا-پیٹرول کی قیمت میں اضا�ے کے خلا� احتجاج میں40 لوگ جاں بحق ایران میں احتجاج کی صورت حال دن ب� دن بگڑتی جا ر�ی �ے-ٹک ٹاک نے امریک� کو چاروں شانے چت کر ڈالا تحقیقاتی کمپنی نے ٹک ٹاک پر امریک� کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا-ب�ادر شخص نے مگرمچھ کو اندھا کر کے خود کو موت کے من� سے نکال لیا آخری لمحے تک مگرمچھ کامقابل� کر کے زندگی جیتنے والے شخص نے ب�ادری کی مثال قائم کر دی-موٹروے پر بس حادثے کا شکار �و گئی 3 خواتین جاں بحق ،10ا�راد زخمی

GB News

وزیراعظم نے کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح کردیا

Share Button

کرتارپور(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی،آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے سکھ برادری کے مذہبی پیشوا باباگرونانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح کردیا۔ضلع نارووال میں واقع کرتارپور میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم عمران خان کے علاوہ بھارت سے بھی شخصیات نے شرکت کی۔افتتاحی تقریب میں وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر مذہبی امور پیرنور الحق قادری، گورنر پنجاب چوہدری سرور، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی ذوالفقار بخاری، معروف کاروباری شخصیت انیل مسرت و دیگر افراد نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ بھارت سے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ، بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ امرندر سنگھ، سابق کرکٹر اور سیاستدان نووجوت سنگھ سدھو، بالی وڈ اداکار سنی دیول و دیگر سمیت ہزاروں سکھ یاتریوں نے شرکت کی۔علاوہ ازیں کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پر غیر ملکی سفرا، میڈیا اور ہائی کمشنرز بھی تقریب میں موجود تھے۔وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح کیا اور تقریب سے خطاب میں سکھ برادری کو بابا گرونانک دیوجی کے 550ویں جنم دن کی مبارک باد دی۔وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور سے جڑے منصوبوں کو 10 ماہ کے قلیل عرصے میں مکمل کرنے والے تمام اداروں اور وزارتوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میری حکومت اتنی محنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جو بھی اللہ کے پیغمبر اس دنیا میں آئے وہ انصاف اور انسانیت کا پیغام لے کر آئے، انصاف اور انسانیت جانوروں کے معاشرے سے فرق کرتی ہے کہ جہاں نہ انسانیت ہوتی نہ انصاف اور وہاں صرف طاقتور ہوتا ہے جو بچ جاتا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بابا گرونانک کا نظریہ اور فلسفہ بھی انسانیت اور محبت کی بات کرتا ہے، یہ انسانوں کو تقسیم کرنے اور نفرتیں پھیلانے کی بات نہیں کرتا۔عمران خان نے کہا کہ برصغیر میں وہ لوگ جو انسانیت کے لیے آئے تھے، جن میں بڑے بڑے صوفی بابا فرید شکر گنج، نظام الدین اولیا، حضرت محی الدین چشتی شامل ہیں، لوگ آج بھی ان کے مزاروں پر جاتے ہیں کیونکہ وہ انسانیت کے لیے آئے تھے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہم آپ کے لیے یہ راہداری کھول سکے کیونکہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ برصغیر میں کرتارپور کی کیا اہمیت تھی، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کرتارپور دنیا کی سکھ برادری کا ‘مدینہ’ ہے۔دوران خطاب عمران خان نے کہا کہ اللہ کے تمام پیغمبر لیڈرز تھے اور لیڈر نفرت نہیں پھیلاتا بلکہ لوگوں کو ملاتا ہے جبکہ لیڈر نفرت پھیلا کر ووٹ نہیں لیتا۔ساتھ ہی نیلسن منڈیلا کی مثال دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نیلسن منڈیلا نے 27 سال جیل میں کاٹنے کے بعد اپنے مجرموں کو معاف کیا اور محبت کا پیغام دے کر خون کی ہولی سے ملک کو بچا لیا۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بتایا کہ ‘خطے میں سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے’ اور تجارت اور سرحدیں کھولنے سے خوشحالی آسکتی ہے۔انہوں نے کہا میں نے نریندر مودی سے کہا تھا کہ ہمارے درمیان کشمیر کا مسئلہ موجود ہے، جسے ہم ہمسایوں کی طرح بات چیت کرکے حل کرسکتے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے ایک تقریب میں کہا تھا کہ ‘مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل کردیا جائے تو برصغیر کا خطہ ابھر سکتا ہے’، میں نے یہی کچھ نریندر مودی سے کہا تھا لیکن اب یہ مسئلہ خطے کی حدود سے نکل کر انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے، ’80 لاکھ لوگوں کے انسانی حقوق ختم کرکے انہیں 9 لاکھ فوج سے بند کیا ہوا ہے، اس وقت یہ انسانیت کا مسئلہ ہے یہ زمین کا مسئلہ نہیں، زبردستی ان کا وہ حق لے لیا ہے جو اقوام متحدہ کی قرادادوں نے انہیں دیا تھا۔بھارتی وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اس طرح کبھی امن نہیں ہوگا، نریندر مودی سے کہنا چاہتا ہوں کہ انصاف سے امن ہوتا ہے، ناانصافی سے انتشار پھیلتا ہے، کشمیر کے لوگوں کو انصاف دیں اور سارے برصغیر کو اس مسئلے سے آزاد کریں تاکہ ہم انسانوں کی طرح رہ سکیں۔عمران خان نے کہا کہ اس مسئلے کے حل نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے درمیان 70 سال سے نفرتیں ہیں، جب کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا، ان کے حقوق مل جائیں گے تو برصغیر میں خوشحالی آئے گی اور وہ دن اب دور نہیں ہے، امید ہے یہ ایک شروعات ہے، انشا اللہ اگر ہمارا کشمیر کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے تو ایک دن ہمارے تعلقات اور حالات بھارت سے وہ ہوں گے جو ہونے چاہیے تھے۔ قبل ازیں کرتارپور آمد پر وزیراعظم عمران خان نے ٹرمینل ون اور امیگریشن کاؤنٹرز کا دورہ کیا اور یاتریوں کے لیے چلائی جانے والی شٹل سروس سے گوردوارہ پہنچے، جہاں انہوں نے گوردوارے کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا۔

Facebook Comments
Share Button