تازہ ترین

Marquee xml rss feed

من� کی بجائے ناکمیں دانت نکل آیا ی� انوکھا واقع� چین میں پیش آیا ج�اں آپریشن کرکے ناک سے دانت کو نکال دیاگیا-سپیشل ایجنٹ بلی جو ساتھیوں کو �رار کروانے میں ما�ر �ے 6سال� بلی راستے میں آنے والی �ر رکاوٹ کو آسانی سے پار کر جاتی-آپ کے �نگر پرنٹ اب منشیات سے متعلق بھی بتائیں گے منشیات کی روک تھام کے لیے سائنسدانوں نے نیا �ارمولا ایجاد کرلیا-پیٹرول کی قیمت میں اضا�ے کے خلا� احتجاج میں40 لوگ جاں بحق ایران میں احتجاج کی صورت حال دن ب� دن بگڑتی جا ر�ی �ے-ٹک ٹاک نے امریک� کو چاروں شانے چت کر ڈالا تحقیقاتی کمپنی نے ٹک ٹاک پر امریک� کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا-ب�ادر شخص نے مگرمچھ کو اندھا کر کے خود کو موت کے من� سے نکال لیا آخری لمحے تک مگرمچھ کامقابل� کر کے زندگی جیتنے والے شخص نے ب�ادری کی مثال قائم کر دی-موٹروے پر بس حادثے کا شکار �و گئی 3 خواتین جاں بحق ،10ا�راد زخمی

GB News

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی زمین پر ہندوئوں کا دعویٰ تسلیم کرلیا

Share Button

نئی دہلی (آئی این پی ) بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی زمین پر ہندوئوں کا دعویٰ تسلیم کرلیا ہے اور مرکزی حکومت کو مندر تعمیر کرنے کا حکم دیدیاہے ،عدالت نے فیصلے میں کہاکہ بابری مسجد کے نیچے ایک ایسا ڈھانچہ ملا ہے جو اپنی ہیت میں اسلامی نہیں ہے لیکن بابری مسجد مندر توڑ کر نہیں بنائی گئی تھی۔ جس زمین کا تنازع ہے اس پر رام مندر تعمیر کیا جائے گا، مسلمانوں کو ایودھیا میں مسجد کی تعمیر کے لئے متبادل جگہ دی جائے،فیصلے پر ہندورہنمائو ں نے خوشی کا اظہار کیا ہے فیصلے کا اعلان ہونے کے بعد بھارت بھر میں ہندو خوشیاں مناتے سڑکوں پر نکل آئے جبکہ مسلمان رہنمائوں نے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے مسلم پرسنل لا بورڈ نے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے جبکہ مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ بیرسٹر اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ مسجد کے لئے کسی زمین کی خیرات نہیں چاہئے مسلمانوں کو یہ تجویز مستردکردینی چاہئے، فیصلے کے بعدایودھیا سمیت پورے بھارت میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی، اتر پردیش میں تمام اسکول، کالج اور تعلیمی ادارے 11 نومبر تک بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ، دہلی پولیس نے پانچوں ججوں کی رہائش گاہوں کے باہر سکیورٹی سخت کر دی ، متعلقہ حکام کو حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کرنے کے احکامات بھی جاری کر دئیے گئے، ایودھیا میں پانچ ہزار سے زائد پولیس اور پیرا ملٹری فورس کے اہلکار تعینات کر دئیے گئے۔بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رانجن گنگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنا دیا ، پانچ رکنی بنچ میں مسلمان جج ایس عبدالنذیر بھی شامل تھے۔چیف جسٹس رانجن گنگوئی نے کیس کا فیصلہ سنا یا۔ ان کا کہنا تھا کہ بابری مسجد کیس کا فیصلہ متفقہ ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہندو ایودھیا کو رام کی جنم بھومی جب کہ مسلمان اس جگہ کو بابری مسجد کہتے ہیں۔بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلے میں کہنا ہے کہ عدالت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ مذہب پر بات کرے، عبادت گاہوں کے مقام سے متعلق ایکٹ تمام مذہبی کمیونٹیز کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ مسجد کی جگہ پر رام کی جنم بھومی تھی اور بابری مسجد کے نیچے اسلامی تعمیرات نہیں تھیں، بابری مسجد خالی پلاٹ پر تعمیر نہیں ہندو اسٹرکچر پر تعمیر کی گئی،انھوں نے کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق ایودھیا کی بابری مسجد 1528 میں کسی خالی زمین پر نہیں بنائی گئی تھی۔ آثار قدیمہ کے مطابق مسجد کے نیچے کسی مندر کے باقیات تھے اور محکمے نے اس کے ثبوت بھی پیش کیے تھے۔ لیکن آثار قدیمہ نے یہ نہیں کہا تھا کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر اس کے اوپر تعمیر کی گئی تھی۔جسٹس گوگوئی نے مزید کہا کہ سنہ 1949 میں بابری مسجد کے اندر مورتی رکھنا عبادت گاہ کی بے حرمتی کا عمل تھا اور سنہ 1992 میں اسے منہدم کیا جانا قانون کی خلاف ورزی تھی۔ انھوں نے کہا کہ سنہ 1949 میں مسلمانوں کو مسجد سے بے دخل کیا جانے کا عمل قانون کے تحت نہیں تھا۔بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق مطابق ریونیو ریکارڈ کے مطابق زمین سرکاری تھی اور زمین پر ہندوئوں کا دعویٰ جائز ہے۔چیف جسٹس رانجن گنگوئی نے بابری مسجد کی زمین ہندوں کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ دی جائے، سنی وقف بورڈ کو 5 ایکڑ متبادل زمین دی جائے۔بھارتی سپریم کورٹ نے متنازع 2 اعشاریہ 77 ایکٹر زمین مرکزی حکومت کے حوالے کرتے ہوئے تین ماہ میں ٹرسٹ قائم کرنے اور مندر تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق اتر پردیش میں تمام اسکول، کالج اور تعلیمی ادارے 11 نومبر تک بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور ایودھیا سمیت پورے بھارت میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق فیصلے سے قبل ہی ہزاروں ہندو سادھو اور عقیدت مند ایودھیا پہنچ گئے ہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے پر بھارتی وزارت داخلہ کے سینئر افسر نے بتایا کہ مختلف حکومتی ایجنسیاں ممکنہ تشدد روکنے کیلئے تیاریاں کر رہی ہیں۔ ہر سکیورٹی افسر عدالتی فیصلے کے بعد ہر قسم کے فسادات کو روکنے کیلئے پرعزم ہے۔ ضرورت پڑنے پر مختلف سکولوں میں عارضی جیلیں قائم کی جا سکتی ہے جن کی ریاستی حکومتیں نشاندہی کر چکی ہیں۔اترپردیش کے پولیس چیف اوم پرکاش سنگھ نے بتایا کہ ایودھیا شہر سے 500 سے زائد افراد گرفتار کئے گئے ہیں، زیادہ تر گرفتاریاں شبہ میں جبکہ 70 افراد کو اشتعال انگیز سوشل میڈیا پوسٹس شیئرکرنے پر گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر علاقے میں انٹرنیٹ سروس بند کی جا سکتی ہے۔پولیس نے 10 ہزار سے زائد افراد کی نشاندہی کی ہے جوکہ شرپسند ہیں۔ تمام ضروری احتیاطی اقدامات کئے جا رہے ہیں، اشتعال انگیز پوسٹس کی نشاندہی کیلئے سوشل میڈیا سائٹس کی نگرانی کی جا رہی ہے،فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں کے حق کی وکالت کرنے والے وکیل ظفریاب جیلانی نے کہا ہے کہ ‘ہم مسجد کسی کو نہیں دے سکتے۔ یہ ہماری شریعت میں نہیں ہے۔ لیکن عدالت کا فصلہ مانیں گے۔’ہم فیصلے پر مشورہ کریں گے اور بعد میں طے کریں کہ اس کے جائزے کے لیے اپیل دائر کریں یا نہیں۔ اس فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔ ہمیں اس کے خلاف کوئی مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔’مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے حقائق کے بجائے عقیدے کی جیت قرا ردیا،انھوں نے کہا ‘آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرح میرا بھی یہ موقف ہے کہ ہم اس سے مطمئن نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ سپریم ضرور ہے لیکن ایسا نہیں کہ اس سے غلطی نہ ہو۔اور یہی بات جسٹس جے ایس ورما نے کہی تھی۔ اویسی نے مزید کہا کہ ‘جنھوں نے چھ دسمبر کو بابری مسجدشہید کی تھی آج انھی کو سپریم کورٹ کہہ رہی ہے کہ ٹرسٹ بنا کر مندر کا کام شروع کیجیے۔ میرا یہ کہنا ہے کہ اگر مسجد نہیں گرائی گئی ہوتی تو کورٹ کیا فیصلہ دیتا؟’انھوں نے کہا کہ ہم اپنے قانونی حق کے لیے لڑ رہے تھے۔ مسلمان غریب ہے اور اس کے ساتھ تعصبات بھی ہوا ہے۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود وہ اتنا گیا گزرا بھی نہیں کہ اپنے اللہ کے لیے پانچ ایکڑ زمین نہ خرید سکے۔ ہمیں کسی کے خیرات یا بھیک کی ضرورت نہیں۔میری ذاتی رائے ہے کہ مسلمانوں کو اس تجویز کو مسترد کر دینا چاہیے۔ ملک اب ہندو ملک کے راستے پر جا رہا ہے۔ سنگھ پریوار اور بی جے پی ایودھیا میں اسے استعمال کرے گی۔وہاں مسجد تھی اور رہے گی۔ ہم اپنی نسلوں کو یہ بتاتے جائیں گے کہ یہاں 500 سال تک مسجد تھی لیکن 1992 میں سنگھ پریوار نے اور کانگریس کی سازش نے اس مسجد کو شہید کر دیا۔

Facebook Comments
Share Button