تازہ ترین

Marquee xml rss feed

سعودی شا�ی خاندان کے ش�زادے کی خاموشی سے پاکستان آمد ش�زاد� منصور بن محمد بن سعد اپنے و�د کے �مرا� خصوصی طیارے میں سعودی عرب سے ڈی غازی خان ایئر پورٹ پر پ�نچے-صوبے کو دستیاب وسائل سے بھرپور طریقے سے مست�ید �ونے کیلئے منظم میکنزم اور پالیسی پر عمل پیرا �ونے کی ضرورت �ے ،جام کمال خان صوبائی حکومت صوبے کو درپیش معاشی چیلنجز سے ... مزید-ش�بازشری� کی زیر صدارت (ن)لیگ کی مرکزی قیادت کا لندن میں اجلاس ، ملکی سیاسی صورتحال اور پارلیمانی امور پر تبادل� خیال اجلا س میں اسحاق ڈار کی بھی شرکت ، آرمی چی� کی مدت ... مزید-حکومت ملک کو درپیش اقتصادی مسائل کے حل کیلئے ٹھوس کوششیں کرر�ی �ے، مشیر خزان� ڈاکٹر ح�یظ شیخ آئی بی اے سے �ارغ التحصیل طلباء ان خصوصی صلاحیتوں اور اوصا� کی قدر کریں ... مزید-سندھی، پنجابی، پشتون، بلوچ اور م�اجر شناخت �میں روز حشر میں ن�یں بچائیگی،مصط�ی کمال �م مسلمان �یں تو قبر میں رسول ﷺ کے امتی کی حیثیت سے اتارے جائیں گے، مجھے ت�ریق کر ... مزید-و�اقی حکومت کے قرضوں میں ایک سال میں 6�زار 358ارب روپے کا اضا�� ، ملکی قرضی4 �زار 377 ارب روپے بڑھ گئے-روس کا پاکستانی معیشت کی ب�تری میں کردار ادا کرنے کا �یصل�-لندن میں ش�باز شری� کی زیر صدارت لیگی ر�نمائوں کااجلاس آرمی چی� کی مدت اور الیکشن کمیشن آ� پاکستان کے اراکین تعنیات سمیت دیگر پارلیمانی امور پر مشاوت ، اسحاق ڈار بھی ... مزید-سندھی، پنجابی، پشتون، بلوچ اور م�اجر شناخت �میں روز حشر میں ن�یں بچائے گی، مصط�ی کمال مجھے ت�ریق کر ک� ووٹ حاصل ن�یں کرنا۔ ب�تر �ے اپنے دلوں سے تعصب اور لسانیت کو ختم ... مزید-ش�ر قائد کے �نڈ کراچی کو ن�یں مل ر�ے، اکیلا سندھ حکومت سے لڑ ر�ا �وں، عمران خان سے 3 ملاقاتوں کا بھی کوئی نتیج� ن�یں نکلا، میئر کراچی

GB News

شاہراہ قراقرم پر فٹ پاتھ اور حفاظتی جنگلوں کی تعمےر کی ضرورت

Share Button

وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ شاہراہ قراقرم سے ملحقہ آبادیوں میں ٹریفک حادثات میں قیمتی انسانی جانوں کے نقصان کو روکنے کیلئے فوری طور پر شاہراہ قراقرم پر آبادی والے علاقوں میں حد رفتار متعین کی جائے اور ڈرائیوروں کو حد رفتار پر سختی سے عملدرآمد کا پابند بنایا جائے۔ حافظ حفیظ الرحمن نے این ایچ اے کے متعلقہ آفیسران کو ہدایت کی ہے کہ شاہراہ قراقرم پر آبادی والے علاقوں میں فوری طو پر فٹ پاتھ اور حفاظتی جنگلے کی تعمیرکیلئے اقدامات کئے جائیں مسلم لیگ نون کی وفاقی حکومت کے دور میں شاہراہ قراقرم سے ملحقہ آبادی والے علاقوں کیلئے سروس روڈ کی تعمیر کیلئے منصوبہ رکھا گیا تھا بدقسمتی سے موجودہ وفاقی حکومت نے اس منصوبے کو ختم کردیا۔ حفاظتی اقدامات اور سروس روڈ نہ ہونے کی وجہ سے اب تک تقریبا 100راہگیر ٹریفک حادثات میں جاںبحق ہوچکے ہیں۔ وزیر اعلی نے شاہراہ قراقرم پر ہائی وے پولیس اور شاہراہ قراقرم سے ملحقہ آبادی والوں علاقوں کیلئے سروس روڈ کی تعمیر اور ہنگامی بنیادوں پر فٹ پاتھ اور حفاظتی جنگلے کی تعمیر کیلئے چیئرمین این ایچ اے کو مراسلہ بھی تحریر کردیا ہے۔ حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ سی پیک جیسی اہم شاہراہ پر حفاظتی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہورہا ہے جس کی روک تھام کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان حکومت اپنے محدود وسائل سے بھی شاہراہ قراقرم سے ملحقہ علاقوں میں فٹ پاتھ اور حفاظتی جنگلے کی تعمیر کیلئے وسائل فراہم کرے گی۔ شاہراہ قراقرم کو حادثات سے محفوظ بنانے کےلئے حکومتی اقدامات خوش کن ہےں‘غےر محفوظ جگہوں پر جنگلوں کی تنصےب بہت ضروری ہے تاکہ راہگےروں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے‘شاہراہ قراقرم پر آبادی والے علاقوں میں ےہ ممکن بناےا جانا چاہےے کہ حفاظتی جنگلے اور اوور ہےڈ برج تعمےر کےے جائےں اور پےدل چلنے والوں کے لےے زےادہ سہولتےں مہےا کی جائےں‘شاہراہ قراقرم نے پاکستان اور چین کی دوستی کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔اس شاہراہ کی تعمیر کے دوران ہزاروں جوانوں نے قربانےاں دےں‘ چینی قوم دنیا کی عظیم قوم ہے وہ ہر دم جستجو میں رہتی ہے چین نے بحری گزرگاہوں کا جائزہ لیا تو ان کے محقق اس نتیجے پر پہنچے کہ بحری گزرگاہیں بڑی مہنگی پڑتی ہیں ان پر وقت بھی زیادہ لگتا ہے اور اخراجات بھی زیادہ ہوتے ہیں چنانچہ چین کے حکمران اور ٹیکنوکریٹس سوچ بچار کرتے رہے اور اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ چین کو دنیا کے مختلف خطوں سے رابطہ کرنے کے لئے زمینی راستوں پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ بحری راستے محفوظ بھی نہیں ہوتے جب کہ شاہراہیں عام طور پر محفوظ سمجھی جاتی ہیں۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے اکتوبر 2013 میں اپنے عظیم ویژن ون بیلٹ ون روڈکا اعلان کیا جس کا باضابطہ افتتاح چین میں ایک عالمی کانفرنس کے دوران 2017 میں کیا گیا۔ ون بیلٹ ون روڈ کا منصوبہ انسانی تاریخ کا حیرت انگیز منصوبہ ہے اس منصوبے کے تحت دنیا کے 152 ممالک میں سرمایہ کاری کی جائے گی جن میں شاہراہوں راہ داریوں اور دیگر تجارتی و ترقیاتی منصوبوں پر ایک کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی جس کا مقصد چین کے مغربی حصے کو ترقی یافتہ بنانا ہے۔ اس عالمی منصوبے کے تحت ایشیا کو یورپ سے ملایا جائے گا۔ افریقہ امریکہ اور مڈل ایسٹ بھی اس عظیم چینی منصوبے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔چین کے معاشی سفارتکاری کے بنیادی اصولوں میں باہمی اعتماد مفاہمت اور اشتراک شامل ہیں جن کی وجہ سے سے گلوبل ٹیلنٹ کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ چین ٹیکنالوجی دوسرے ملکوں کو منتقل کرنے میں گریز نہیں کرتا۔چین کی پالیسی یہ ہے کہ پوری دنیا ترقی کرے اور دنیا بھر کے انسانوں کو روزگار کے مواقع ملیں۔چین کے عالمی معاشی منصوبے کا بنیادی نکتہ مقامی گروتھ میں اضافہ ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں چھ راہداریوں کی تعمیر بھی شامل ہے جن میں چین سے روس راہداری‘ چین منگولیا روس راہداری‘ چین ترکی راہداری‘ چین سنگاپور راہداری ‘چین بنگلہ دیش میانمار راہداری اور چین پاکستان یعنی سی پیک راہداری شامل ہیں۔ راہ داریوں کی تعمیر کے بعد دنیا کے مختلف علاقوں کو ترقی کے مواقع مل سکیں گے۔ سرمایہ کاری سے روزگار پیدا ہوں گے چین کی ایک پرانی کلاسیکل ضرب المثل ہے کہ امیر ہونا ہے تو سڑکیں تعمیر کرو راہداریوں کے منصوبے اسی چینی ضرب المثل کے پیش نظر شروع کیے گئے ہیں۔ہمارے ہاں سڑکوں کی خستہ حالت کے باعث لوکل اور بین الاضلاعی روٹس پر ٹریفک حادثات کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے،اکثر سڑکوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے، محکمہ ہائی وے کی عدم توجہی اور لاپرواہی کے باعث سڑکوں پر پڑے ہوئے گڑھے اور بعض سڑکوں پر بکھری ہوئی سنگلاخ بجری ٹریفک کے بہاﺅ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس کیوجہ سے آئے روز کسی نہ کسی علاقہ سے بڑے حادثے کی اطلاع ملتی رہتی ہے ، حادثات کے باعث یہ سڑکیں انسانی خون سے رنگین ہورہی ہیں ، لیکن ارباب اختیار کی جانب سے سڑکوں کی حالت زار بہتر بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی، یہ بات قابل ذکر ہے کہ منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی ایوانوں میں علاقہ اور عوام کی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوئے ترقیاتی سکیموں فنڈز منظور کراتے ہیں لیکن بدقسمتی سے سڑکوں کے لئے یاتوحکومت فنڈز جاری ہی نہیں کرتی اور اگر فنڈز جاری ہوجائیں تو یہ منصوبے افسر شاہی کے سرخ فیتے کی لپیٹ میں آجاتے ہیں ،اکثرسڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہو رہی ہیں جس کے باعث سفر غیر محفوظ اور آمد ورفت میں رکاوٹیں پیش آتی ہیں ۔حےرت ےہ ہے کہ جہاں اوور ہےڈ برج اور انڈر پاس بنے ہوئے ہےں وہ بھی غیر محفوظ ہیں؟ بس کے انتظار میں کھڑے عوام کو یہ خدشہ ڈراتا ہے کہ کہیں فلائی اوور پر سے گزرتی کوئی تیز رفتار کار ان پر نہ گر پڑے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ان حادثات میں کہیں نہ کہیں انسانی لاپرواہی نے کلیدی رول ادا کیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ بھارت کی سڑکیں دنیا میں سب سے زیادہ پرخطر اور غیر محفوظ سمجھی جاتی ہیں۔ گزشتہ برس سڑک پر حادثات میں ڈیڑھ لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔حکومت کے جاری اعداد و شمار کے مطابق ممبئی شہر میں بھارت کے باقی تمام شہروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ حادثات ہوتے ہیں۔ یہاں سڑکوں پر پیدل چلنے والوں، سکوٹروں، گاڑیوں، بسوں اور ٹرکوں کا ایک سیلاب ہے جو ٹریفک کے اشاروں اور تمام قوانین کی پروا کیے بغیر بہتا چلا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں سڑک پر حادثے کی صورت میں لوگ مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں لیکن بھارت میں ایسا نہیں ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سب سے زیادہ اور سب سے اندوہناک ٹریفک حادثات ہوتے ہیں وہاں زخمیوں کو سڑکوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔اگرچہ پاکستان میں اےسا نہےں لےکن حادثات کی رفتار بڑھ رہی ہے‘ہمارے ہاں لاقانونیت کا طوفان غیر محفوظ گاڑیوں کی شکل میں بھی سڑکوں پر دندناتا پھرتا ہے حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اب سرکاری ادارے بھی ٹیکس کے پیسوں سے ایسی گاڑیاں خرید رہے ہیں‘ غیر قانونی چنگ چی اور موٹر سائیکلوں سے تین پہیوں والی گاڑیوں کی خرید و فروخت بھی بڑھ رہی ہے یہ گاڑیاں اب پی ڈی اے سامان لے جانے کیلئے استعمال ہوتی ہیں جن کی سواری نہایت خطرناک اور بے توازن ہے اوپرسے یہ غیررجسٹرڈ بھی ہیں لےکن سرکاری ادارے ایسی گاڑیاں استعمال کر رہے ہےں۔پولیس اور خصوصا ٹریفک پولیس میں نفری زیادہ ہونے کے باوجود ٹریفک کے قوانین نافذ کرنے میں کامیابی حاصل نہیں ہورہی اس سلسلے میں قانون کے ہاتھ میں زیادہ اختیارات نہ ہوں اور ان کو آہنی ہاتھ سے نافذ نہ کیا جائے تو بہتری کی امید ہر گز نہیں ہوتی دراصل حکومت میں افسر شاہی کو کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہیں سفارش کہیں سیاسی دھونس اور کہیں یونین بازی کے ہاتھوں نہ تو حکومت کو صحیح قانون سازی کی ہمت پڑتی ہے اور نہ ان کے نفاذ میں اس وقت پوری دنیا میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر بہت زیادہ کام ہورہا ہے۔ وہی کام جو حکومت دس ملازمین کے ساتھ سو روپے میں کرتی ہے وہی کام پرائیویٹ کمپنیاں دو ملازمین کیساتھ بیس روپے میں کرنے کو تیارہوتی ہیں پھر ایسے معاملات جہاں جرمانے اور ٹیکسوں کے سلسلے میں آمدنی کا امکان ہوتو وہاں حکومت کو کم خرچ میں زیادہ رقم حاصل ہوجاتی ہے حکومت اگر بہت سے ایسے کام پبلک پرائیویٹ اشتراک میں کرنا شروع کردے تو اسے صرف نگرانی کا سٹاف رکھنا پڑتا ہے امریکہ میں تو اب جیل بھی پرائیویٹ سیکٹر کو دے دی گئی ہیں جو سرکاری خرچ کے آدھے سے بھی کم میں چل رہی ہیںاس لئے اگر پرائیویٹ سیکٹر کیساتھ مل کر ٹریفک کنٹرول کا معاون ادارہ بنایا جائے جسے اعلی درجے کی ٹریننگ مل سکے۔ اسی ادارے کو گاڑیوں کی فٹنس کا کام بھی سونپا جاسکتا ہے۔ گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ان کے روڈ ٹیکس کا نظام بھی فی الحال درہم برہم ہے اسے بھی راہ راست پر لایا جاسکتا ہے نئی یا پرانی درآمد شدہ گاڑیوں کے بارگین سنٹروں پر پابندی لگائی جاسکتی ہے کہ نمبر پلیٹ اور رجسٹریشن کے بغیر نہ بیچ سکیں۔ بہرحال حکومت گلگت بلتستان کو چاہےے کہ اگر وفاق سے فنڈز نہےں ملتے تو اپنے وسائل سے جنگلوں کی تعمےر اور سروس روڈز کےلئے اقدامات کےے جائےں تاکہ حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح اور قےمتی جانوں کے ضےاع کو روکا جا سکے۔

Facebook Comments
Share Button