تازہ ترین

GB News

جب تک ہم متحدہو کے وفاق کے فیصلوں کی مخالفت نہیں کریںگے تب تک ہمارے مسائل حل نہیں ہونگے،جاوید حسین

Share Button

گلگت(خصوصی رپورٹ)قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن کے چیئرمین جاوید حسین نے کہا ہے کہ جب تک ہم متحدہو کے وفاق کے فیصلوں کی مخالفت نہیں کریںگے تب تک ہمارے مسائل حل نہیں ہونگے۔انہوں نے ہفتہ کے روز ایوان میں دو قراردادوں پر ہونے والی بحث کے دوران تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جب سے میں اسمبلی میں آیا ہوں شروع دن سے ایک ہی بات کرتا آیا ہوں کہ وفاق ہمیں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلا رہا ہے اگر وفاق میں پی پی کی حکومت ہو تو پی پی گلگت بلتستان وفاقی حکومت کے غلط فیصلوں کی حمایت کرتی ہے اگر وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہو تو مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان والے وفاق کے غلط فیصلوں کی حمایت کرتے ہیں اب وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہے تو گلگت بلتستان میں تحریک انصاف والے وفاقی حکومت کے غلط فیصلوں کی حمایت کررہے ہیں ہمیں اس خول سے باہر نکلنا ہوگا اور وفاق میں جس پارٹی کی بھی حکومت ہو غلط فیصلوں کی متحد ہو کے مخالفت کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی قیادت میں تمام اراکین اسمبلی ایک مسئلے پر دیامر گئے تھے اور اس ہائوس نے ایک متفقہ فیصلہ کیاتھا اور ایک متفقہ قرارداد منظور کی تھی مگر وزارت امور کشمیر کے ایک کلرک نے اس فیصلے کو پھاڑ کر پھینک دیا اور دو دن بعد اسمبلی سے منظور ہونے والی قرارداد کے برعکس نوٹیفکیشن جاری کر کے بتادیا کہ اس اسمبلی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور اراکین اسمبلی متحد ہونے کے باوجود کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیںمگر اس پر ہم خاموش رہے اوراحتجاج تک نہ کرسکے۔انہوںنے کہا کہ یہ بات طے ہے کہ اس اسمبلی سے منظور ہونے والی قراردادوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے اس لئے پہلے بھی کہا تھا کہ اب بھی کہتا ہوں کہ ہم کسی بھی آرڈر کو تسلیم نہیں کریںگے ہمیں پانچواں آئینی صوبہ دیا جائے اگر اس میں مسئلہ کشمیررکاوٹ ہے تو ہمیں آزاد کشمیر طرز کا آئین دیاجائے آزاد کشمیر کے آئین اور قانون کے تحت کوئی غیر مقامی شخص آزاد کشمیر سپریم کورٹ کا جج نہیں بن سکتا ہے ہمیں وہی آئین چاہیے۔انہوںنے کہاکہ ہنزہ نگر سی پیک کاگیٹ وے ہے اس لئے شاہراہ نگر کی تعمیر ہر صورت میں ہونی چاہیے۔انہوںنے کہا کہ بیورو کریسی کو وزیر اعلیٰ نے طاقتور بنایا ہے نیب کا قانون لاتے وقت میں نے کہا تھا کہ نیب کے کالے قانون کوواپس کیا جائے مگر وزیر قانون نے میری مخالفت کی انہوںنے کہا کہ وفاق کی موجودہ حکومت سے کوئی توقع نہ رکھیں انہوںنے نواز شریف اور آصف علی زرداری کو جیل میں ڈالا ہے تو بے چارہ حفیظ الرحمن اور جاوید حسین کی ان کے مقابلے میں کیا حیثیت جلد ہم دونوں بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونگے ۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے وزیراعلیٰ کی جانب سے چار نئے اضلاع کے اعلان کے وقت ہی کہا تھا کہ نئے اضلاع بنانے کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس نہیں ہے اگر صوبائی حکومت کے پاس نئے اضلاع بنانے کا اختیارنہیں تھا تو نئے اضلاع کا نوٹیفکیشن کیوں جاری کیا نئے اضلاع کیلئے بجٹ کیوں رکھا اور یہ ڈرامی کیوں کیا۔ اگر صوبائی حکومت کے پاس نئے اضلاع بنانے کا اختیار تھا تو اب ایوان میں حکومت کی جانب سے قرارداد کیوں لائی گئی ہے ۔

Facebook Comments
Share Button