تازہ ترین

GB News

صوبائی کابینہ کا اگلا اجلاس ڈی چوک پر بلائیں گے اپوزیشن بھی آنا چاہے تو ویکم کریں گے ، وزیراعلیٰ

Share Button

گلگت(جنرل رپورٹر)وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ صوبائی کابینہ کا اگلا اجلاس ڈی چوک پر بلائیں گے اپوزیشن بھی آنا چاہے تو ویکم کریں گے ، وہاں کسی کو گالیاں نہیں دیں گے ، کوئی گملہ نہیں توڑیں گے بلکہ میڈیا اور دوسرے لوگوں کو بلائیں گے اور بتائیں گے کہ وفاقی حکومت نے ہمیں جو اختیار دیا تھا اس پر عمل کرنے نہیں دیا جا رہا ہے ، ہفتہ کے روز قانون ساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے آخری اجلاس میں اتفاق ہوا تھا کہ گلگت بلتستان کے اپنے نمائندوں کے ذریعے ہی کوئی نظام دیا جائے کیونکہ آرڈر 2019ء کو قومی اسمبلی کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے تو بعد میں لوگ یہ نہ کہیں کہ جس اسمبلی میں ہماری نمائندگی نہیں ہے وہ کس طرح یہاں کوئی نظام لاگو کر سکتی ہے اس لئے جی بی اسمبلی اور کونسل کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے جس کی صدارت چیئرمین کونسل کریں اور ریفارمز جوائنٹ سیشن میں پیش کی جائیں ، اس اتفاق کے بعد میری اور گنڈاپور کی ذمہ داری لگائی گئی کہ تاریخ طے کریں اور مشترکہ اجلاس کیلئے ماحول بنائیں، اسی میٹنگ میں کہا گیا کہ جی بی اسمبلی میں تحریک انصاف کا ایک ہی نمائندہ ہے جبکہ ن لیگ کی اکثریت ہے چونکہ یہ حساس معاملہ ہے اور اسمبلی کا ماحول خراب بھی ہو سکتا ہے میڈیا غلط رنگ دے سکتا ہے جس پر میں نے کہا کہ اگر اس طرح کا کوئی خدشہ ہے تو وزیراعظم جو کونسل کے چیئرمین ہیں وہ تمام اراکین اسمبلی کو اسلام آباد بلائیں اور ان کیمرہ سیشن میں بحث کریں، اس فیصلے کے بعد میں 22مرتبہ گنڈاپور سے رابطہ کر چکا ہوں لیکن کوئی جواب نہیں مل رہا ہم نے اپنے حصے کا کام کر دیا تمام اراکین سے رائے لی اور رپورٹ بھیج دی کہ کون کون کس نظام کی حمایت کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ آرڈر 2019کے خلاف ہم نے کیخلاف ہم نے اس لئے سٹینڈ لیا تھا کہ ایک شخص کو جج لگانے کیلئے عمر کی شرط 70سال رکھی گئی ہمیں خدشہ ہوا کہ جب چاہے کسی کو نوازنے کیلئے اس میں ترمیم کی جا سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع کی پہلے اسمبلی بعد میں کابینہ نے منظوری دی، 2018ء کے آرڈر میں وفاقی قانون سازی کی لسٹ دی گئی تھی یہ لسٹ تمام صوبوں کے پاس ہے یعنی وہ اس لسٹ پر قانون سازی نہیں کر سکتے باقی تمام چیزوں پر قانون سازی کی جا سکتی ہے 2018ء کے آرڈر میں کہیں نہیں لکھا کہ صوبائی حکومت نئے اضلاع نہیں بنا سکتی، اضلاع کے حوالے سے ایک پالیس بنائی، فاصلہ ،آبادی اور پسماندگی کو مدنظر رکھا گیا اس پالیسی کے تحت روندو، داریل ، تانگیر اور گوپس یاسین اضلاع کی منظوری ہوئی پوسٹوں کی تخلیق بھی تیار ہے صرف تبادلے کرنا باقی تھا اسی دوران چیف سیکرٹری نے تجویز دی کہ آرڈر 2018ء میں اضلاع کی تعداد 10ہے جس کو 14کرنا ہے چونکہ آرڈر میں ترمیم کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہے اس لئے ایک سمری بھیجی گئی ، 3ماہ تک کوئی جواب نہیں آیا بعد میں ایک خط آیا جس میں پوچھا گیا کہ پہلے تین اضلاع کیسے بنائے اور پھر نئے اضلاع کن وسائل سے بنائیں گے ، ہم نے جواب دیا کہ ہم آپ سے پیسے نہیں مانگ رہے کیونکہ پہلے صوبے کی اپنی نان ٹیکس آمدن صرف ساڑھے 12کروڑ روپے تھی اب سوا ارب روپے ہے، اضلاع کو چلانے کے لئے سالانہ 10کروڑ کی ضرورت ہے ، اس کے بعد پھر پوسٹوں کا معاملہ اٹھایا گیا ، انہوں نے کہا کہ 2009ء کے آرڈر میں پوسٹوں کی تخلیق صوبائی حکومت کا اختیار تھا اس وقت جب کچھ زیادہ ہی اسامیاں پیدا کی گئیں تو چیف سیکرٹری نے وفاق کو ایک خط لکھا جس میں بتایا گیا کہ پوسٹوں کی تخلیق کے اختیار کا غلط فائدہ اٹھایا جا رہا ہے اس کو واپس لیا جائے ہمارا مطالبہ ہے کہ جب وفاق کسی بھی آرڈر کے تحت کوئی بھی اختیار دیتا ہے تو اس آرڈر تو واپس لینے کا اختیار ایوان کو ہونا چاہیے کسی بیوروکریٹ کو نہیں، یہاں وزیراعظم سے میٹنگ ہوئی تو انہیں بھی بتایا گیا کہ پرائمری سکول سے لے کر اسمبلی تک کی اسامیوں کیلئے پی سی فور کا اختیار وفاق کے پاس ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم کوئی پرائمری سکول بناتے ہیں تو جب تک وفاق سے پی سی فور کی منظوری نہیں آتی تو تب تک کیا ہم پرائمری سکول کو تالے لگا کر رکھیں اس معاملے کا حل نکلنا چاہیے، انہوں نے کہا کہ مجھے ذرائع نے بتایا ہے کہ چیف سیکرٹری کو بتایا گیا ہے کہ اگر آپ نے کسی اے سی یا ڈی سی کا تبادلہ کیا تو ہم آپ کا تبادلہ کر دیں گے ، ہم سیاسی لوگ ہیں تنخواہ دار نہیں وفاقی حکومت نے مزید کوئی مداخلت کی تو برداشت نہیں کریں گے ہم اپنے اختیار کی حفاظت کریں گے انہوں نے کہا کہ اضلاع کے حوالے سے گنڈاپور نے بھی کہا اور اتفاق کیا کہ آپ کو اختیار حاصل ہے لیکن ہماری سیاسی مجبوری ہے اس لئے نوٹیفکیشن نہیں کر سکتے، کریڈٹ شیئر کریں ، حفیظ الرحمن نے کہا کہ ہمیں اپنے اختیارات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ہم پہلے ہی اختیارات کا رونا رو رہے ہیں۔

Facebook Comments
Share Button