تازہ ترین

GB News

ایف آئی اے کو سائبر کرائم کرپشن اور منی لانڈرنگ روکنا ہو گی، وزیراعظم

Share Button

اسلام آباد(آئی این پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایف آئی اے کو سائبر کرائم کرپشن اور منی لانڈرنگ روکنا ہو گی، بیوروکریسی ذمہ داریوں کو جہاد سمجھ کر ادا کرے، حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں معاشی استحکام آیا ہے، نوکریوں کے مواقع پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیج ہے اس مقصد کیلئے آئوٹ آف باکس سوچ اور تجاویز پیش کی جائیں،پیر کووزیراعظم عمران خان سے نئے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء نے ملاقات کی ،اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر بھی موجود تھے ۔ملاقات کے دوران وزیراعظم نے اس عزم کو دہرایا کہ بلاتفریق احتساب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا بنیادی ایجنڈا ہے ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کو کرپشن ،سائبر کرائم ، معاشی جرائم اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے ۔ اس موقع پر نئے تعینات کئے گئے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء نے وزیراعظم کو بتایا کہ وہ ملک کی خدمت کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے ۔دریں اثناء حال ہی ترقی پانے والے وفاقی سیکرٹر یز سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان تاریخ کے اہم دوراہے پر کھڑا ہے ، ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے جہاں سیاسی لیڈرشپ نے وژن دینا ہے وہاں بیوروکریسی نے اس وژن کو عملی جامہ پہنانا ہے ، آج سیاسی قیادت اور بیوروکریسی نے ملک کے مستقبل کا تعین کرنا ہے،اس کے لئے نئی سوچ اور بہتر طرز حکومت (گڈگورننس) کی ضرورت ہے، ترقی پانے والے افسران اپنی ذمہ داریاں جہاد اور قومی فریضہ سمجھ کر ادا کریں، وزیرِ اعظم نے وفاقی سیکرٹری صاحبان کو ہدایت کی کہ بہتر طرز حکومت کے حوالے سے وفاقی بیوروکریسی مثال قائم کرے،سیکرٹریز اپنی توانائیاں اور تجربہ ملک و قوم کی خدمت اور عوامی فلاح و بہبودکے لئے برے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ پندرہ ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے معیشت کے ہر شعبے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ موجودہ حکومت کی کوششوں کی وجہ سے آج ملک میں معاشی استحکام ہے اور ملکی وغیر ملکی سرمایہ کار اور کاروباری برادری ملکی معیشت اور پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی ادارے بھی ملکی معیشت میں آنے والی بہتری کا اعتراف کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس استحکام کو مزید تقویت دینے کے لئے ضروری ہے کہ بیوروکریسی طرز حکومت اور عوام کی فلاح و بہبود کے ضمن میں اپنابھرپور کردار ادا کرے۔وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ زیر التوا کیسز کے جلد از جلد حل کے لئے کوششیں تیز کی جائیں، اٹارنی جنرل آفس کو درکار تمام وسائل فراہم کیے جائیں گے، مقدمات کے جلد حل سے کاروباری برادری کے مسائل حل ہوں گے، ریفنڈز کی ادائیگیوں کے سلسلے میں متعارف کرائے جانے والے نظام کو مزید آسان بنایا جائے، مشکل معاشی حالات کے باوجود حکومتی اقدامات کے نتیجے میں معاشی استحکام آیا ہے،چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کی جائے،ان کو مالی وسائل کی قلت پیش نہ آئے، معاشی استحکام،نوجوانوں اور ہنر مندوں کیلئے نوکریوں کے مواقع پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس مقصد کے لئے آؤٹ آف باکس سوچ اور تجاویز پیش کی جائیں، حکومت کی تمام تر توجہ عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے، ترقیاتی منصوبوں پر بلاتعطل پیش رفت کو یقینی بنانے سے جہاں معاشی عمل میں تیزی آئے گی، وہاں نوجوانوں کے لئے نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے، اس ضمن میں بین الوزارتی اور محکموں کے درمیان ربط و تعاون کو مزید بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اٹارنی جنرل نے اجلاس کو سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ، لاہور لائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ میں ایف بی آر سے متعلقہ زیر التوا کیسز پر تفصیلی طوربریف کیا۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ایف بی آر سے متعلق1089کیسز میں سے 551کا فیصلہ ہو چکاہے جبکہ 285مقدمات زیر التوا ہیں۔ دیگر مقدمات میں یا تو فیصلہ محفوظ ہے یا زیر سماعت ہیں۔ معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے ٹاپی گیس پائپ لائن کی پیش رفت سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ سیکرٹری خزانہ نے نان ٹیکس ریونیو میں اضافے کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی۔ وزیرِ اعظم نے نان ٹیکس ریونیو بڑھانے کے سلسلے میں کوششوں کو سراہا۔

Facebook Comments
Share Button