تازہ ترین

GB News

بلتستان کے ہزاروں غریب لوگوں کے ساتھ ہاتھ ہو گیا،8ہزار صحت کارڈ تقسیم ہی نہیں کئے

Share Button

سکردو( خصوصی رپورٹ)بلتستان کے ہزاروں غریب لوگوں کے ساتھ ہاتھ ہو گیامسلم لیگ ن کی سابق وفاقی حکومت کے دور میں بلتستان کیلئے آنے والے8ہزار صحت کارڈ تقسیم ہی نہیںکئے گئے، اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب معلوم ہوا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ایک سٹور میں ہزاروں کی تعداد میں صحت کارڈ ابھی تک پڑے ہوئے ہیں اور ڈیٹ ایکسپائر ہو چکی ہے۔ ن لیگ کی سابق وفاقی حکومت نے غریب مریضوں کے مفت علاج کیلئے ملک بھر میں صحت کارڈ کا اجراء کیا تھا جس کے تحت گلگ بلتستان میں بھی کارڈ تقسیم کئے گئے۔ صحت کارڈ کی تقسیم کیلئے سروے کیا گیا، یہ سروے ایک این جی او کے ذریعے کروایا گیا جس پر لاکھوں روپے خرچ بھی ہوئے۔اس کے باوجود بلتستان میں آنے والے 8ہزار کارڈ تقسیم ہی نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے ہزاروں غریب مریض مفت علاج سے رہ گئے۔ذرائع کے مطابق ڈی ایچ کیو ہسپتال کے سٹور میں یہ کارڈ دو سال سے پڑے ہوئے ہیں، اس دوران وفاق میں ن لیگ کی حکومت بھی ختم ہو گئی اور ساتھ ہی کارڈ کی تاریخ بھی گزر گئی۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کارڈ کی تقسیم کے نام پر لاکھوں روپے بٹورے گئے ہیں، یہ صرف بلتستان ریجن کی صورتحال ہے، باقی اضلاع میں کیا کچھ ہوا یہ الگ سکینڈل ہے۔کارڈ تقسیم نہ ہونے سے نہ صرف ہزاروں مریضوں کا علاج نہ ہو سکا بلکہ قومی خزانے کولاکھوں روپے بھی نقصان ہوا ، کارڈ کی تقسیم کا ٹھیکہ این جی او کو دیا گیا تھا جس کیلئے لاکھوں روپے خرچ کیے گئے۔ہزاروں کی تعداد میں کارڈکیوں تقسیم نہیں کیے گئے ، اس کی وجوہات کیا ہیں؟ یہ معاملہ حکومت اور مسلم لیگ ن کیلئے ایک ٹیسٹ کیس ہو گا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد اب اسی طرز کا صحت انصاف کارڈ تقسیم کیا جا رہا ہے جس پر مختلف اضلاع میں انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں،اس لئے یہ سوال پیداہوگیا ہے کہ کیا اس کارڈ کا حشر بھی لیگی حکومت کے کارڈ جیسا ہوگا؟

Facebook Comments
Share Button