تازہ ترین

GB News

قومی اسمبلی، حکومت کا مہنگائی اور افراط زر میں اضافے کا اعتراف

Share Button

حکومت نے قومی اسمبلی میں مہنگائی بڑھنے کا اعتراف کرتے ہوئے عذر بھی پیش کردیئے جبکہ وزارت خزانہ کی جانب سے بتایا گیا کہ سرکاری گاڑیوں کی مرمت پر کروڑوں روپے اخراجات آئے ۔قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات میں حکومت نے اعتراف کیا کہ جولائی تا دسمبر مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ سویا بین، خام تیل، دالوں اور پام آئل کی قیمتوں میں اضافہ، بجلی گیس کی قیمتوں میں ردوبدل، ڈیڑھ ارب کی تنوروں کو سبسڈی اور 226 ارب روپے کی بجلی کے لائف لائن صارفین کو سبسڈی مہنگائی کی وجہ بنی، 14.9 فیصد تک مہنگائی ریکارڈ کی گئی۔ایوان کو بتایا گیا کہ وزارت خزانہ اور ماتحت اداروں نے پانچ سال میں 1909 سرکاری گاڑیوں کی مرمت پر 195 کروڑ 64 لاکھ روپے سے زائد خرچ کیے۔وزارت خزانہ کی 31 گاڑیوں کی مرمت پر 4 کروڑ 68 لاکھ، ملٹری فنانس ونگ کی تین گاڑیوں پر 10 لاکھ 29 ہزار، آڈیٹر جنرل کی 198 گاڑیوں پر 4 کروڑ 64 لاکھ سے زائد خرچ ہوئے۔خزانہ ڈویژن کے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ نیشنل سیونگ کی 61 گاڑیوں پر 2 کروڑ 5 لاکھ روپے اور ایس ای سی پی کی 14 گاڑیوں پر 31 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔اسی طرح زرعی ترقیاتی بینک کی 54 گاڑیوں پر ایک کروڑ 92 لاکھ اور نیشنل بینک کی 58 گاڑیوں پر 4 کروڑ 94 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ ایف بی آر کی 1490 گاڑیوں کی مرمت پر ایک ارب 77 کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوئے۔ قو می اسمبلی کو آ گاہ کیا گیا کہ2019میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے دی گئی ایمنسٹی سکیم سے62ارب جمع ہوا، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی ایمنسٹی سکیم سے 123ارب وصول ہوئے ،2015سے 2019تک متعارف کرائی گئی4ٹیکس ایمنسٹی اسکیموں کے تحت2لاکھ15ہزار سے زائد لوگوں نے استفادہ کیا، جب تک ملک سودی نظام سے نہیں نکلے گا معاشی طور پر خوش حال نہیں ہو سکتے، سودی نظام کا خاتمہ فوری طور پر ممکن نہیں بلکہ یہ بتدریج ہو گا، ایم ایل ون سمیت سی پیک منصوبوں کی کل مالیت تقریباً 50ارب ڈالر ہے، جن میں سے 11ارب ڈالر سے 13منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 18ارب ڈالر کی لاگت سے 13منصوبے زیر تکمیل ہیں، ملک کی برآمدات میں 4.6فیصد اضافہ ہوا ہے، تجارتی خسارہ 35فیصد کم ہوا ہے، چین کو چاول کا کوٹہ 52فیصد اضافہ ہوا اورچینی کا کوٹہ 58فیصد اضافہ ہوا ہے، 45فیصد یو اے ای میں برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، چین کے ساتھ برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے،ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کےلئے ای ڈی ایف کی جانب سے 27کروڑ 40لاکھ روپے گزشتہ 5سال میں خرچ کئے گئے۔اجلاس کے دوران وفاقی وزراءاور پیپلز پارٹی ارکان آمنے سامنے آ گئے اورایک دوسرے پر شدید تنقید کی۔وفاقی وزراء مراد سعید اور عمر ایوب خان نے کہا کہ لاڑکانہ میں کتے کاٹنے کی ویکسین نہ ملنے سے متاثرہ لوگ موت کی منہ میں چلے جاتے ہیں ، ڈینگی سے لوگ مررہے ہیں لیکن سندھ حکومت آنکھیں بند کیئے ہوئے ہیں، سرکاری خرچہ پر قبریں بنتی ہیں لیکن وہ زندہ لوگوں کو قبر میں گاڑ رہے ہیں، سندھ حکومت کے پاس فنڈز کی کمی نہیں مگر وہاں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں،سابق حکومتوں نے ملکی اداروں کو گروی رکھ دیا ،پورا ملک گروی تھا سود کی مد میں10ارب ڈالر واپس کرنے تھے۔پیپلز پارٹی عبدالقادر پٹیل اور نفیسہ شاہ نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی کابینہ کا سب سے بڑا مسئلہ ٹک ٹاک ہے،حکومت ٹک ٹاک کی ماری ہوئی ہے، عوام کو سچ بتائیں، ملک کے ہر گلی کو چے میں بے روزگار، مہنگائی کے مارے لوگ ملیں گے،اس حکومت میں ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ مہگائی بڑھی،دواﺅں کی قیمتیں350فیصد بڑھیں، وزیراعظم وزیر کو فارغ کرنے کی بجائے دواﺅں کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن واپس لیتے،پونے دو کروڑ لوگ حکومتی پالیسیوں سے غربت میں دھکیلے گئے، حکومت نے بغیر کسی سروے کے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8لاکھ لوگوں کو نکال دیا،کے پی کے میں ایک سال میں 172پولیو کے کیسز سامنے آئے۔

Facebook Comments
Share Button