تازہ ترین

GB News

عراق میں امریکی سفارتخانے پر راکٹ حملہ، واشنگٹن کی ایران سے غیر مشروط مذاکرات کی خواہش

Share Button

عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا جبکہ امریکہ نے اقوام متحدہ کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ غیرمشروط مذاکرات کے لئے تیار ہے،غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا، گرین زون میں امریکی سفارتخانے پر 3 راکٹ داغے گئے 2 راکٹ امریکی سفارتخانے کے قریب گرے تاہم امریکی سفارتخانے کو راکٹ حملے سے کوئی نقصان نہیں پہنچا تیسرا راکٹ ہدف سے دور گرا۔ خبر ایجنسی کے مطابق عراقی فوج کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کٹیوشا کے 2 راکٹ گرین زون کے اندر گرے اور یہ زون امریکی سفارت خانہ، مغربی ممالک کے دیگر سفارت خانوں اور غیر ملکی تجارتی مراکز پر مشتمل ہے تاہم اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی،آخری اطلاعات تک کسی نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی راکٹ داغے جانے کے بعد علاقے کی سیکورٹی مزید سخت کردی گئی ہے،دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد امریکہ نے کہا ہے کہ وہ ایران سے ‘سنجیدگی کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے۔اقوام متحدہ کو لکھے گئے ایک خط میں امریکہ نے جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ جنرل سلیمانی کو قتل کرنے کی وجہ امریکہ کی جانب سے دفاعی اقدام تھا۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کیلی کرافٹ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ امن مذاکرات کے لیے تیار ہے ‘جس کا مقصد ہے کہ بین الاقوامی امن و امان کو مزید نقصان نہ ہو اور ایرانی حکومت مزید جارحیت اختیار نہ کرے۔’امریکہ نے نکتہ پیش کیا کہ اقوام متحدہ کی شق 51 کے تحت جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ کرنا درست فیصلہ تھا۔ امریکہ نے مزید کہا کہ وہ مشرق وسطی میں اپنے اہلکاروں اور مفادات کے تحفظ کے لیے ‘ضرورت کے تحت مزید اقدام’ اٹھائیں گے۔واضح رہے کہ شق 51 کے مطابق حملہ آور ملک پر لازم ہے کہ وہ سلامتی کونسل کو فوری طور پر خبر دے کہ انھوں نے اپنے دفاع میں یہ قدم اٹھایا ہے۔ دوسری جانب ایران نے بھی اقوام متحدہ کو اپنے حملے کی توجیہ پیش کرتے ہوئے شق 51 کا سہارا لیا ہے۔اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر ماجد تخت روانچی نے لکھا کہ ‘ایران نہ کشیدگی میں اضافہ چاہتا ہے نہ جنگ’ لیکن اپنے دفاع کی خاطر ‘ایران نے عراق میں امریکی اڈے کو نشانہ بنا کر ایک مناسب اور خاطر خواہ جواب دیا ہے۔’ایرانی سفیر نے لکھا ‘آپریشن بہت احتیاط اور تیاری سے کیا گیا جس میں صرف امریکی دفاعی مفادات کو نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے کوئی شہری متاثرنہیں ہوا۔’ادھرامریکی ایوانِ نمائندگان میں اس قرارداد پر ووٹنگ بھی متوقع ہے جس کے تحت صدر ٹرمپ کو پابند کیا جائے گا کہ وہ کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی نہیں کر سکتے۔امریکی کانگریس کی سپیکر نینسی پلوسی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کانگریس کے ارکان کو ٹرمپ انتظامیہ کے ایران کے خلاف عسکری اقدامات کرنے کے فیصلے اور

Facebook Comments
Share Button