تازہ ترین

GB News

وزیراعظم کا ایران اور سعودی عرب میں دوستی کرانے کا عندیہ

Share Button

 

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری سب سے کوشش ہوگی کہ ایران اور سعودی عرب میں دوستی کرا دیں، ڈونلڈ ٹرمپ سے کہہ دیا ہے کہ ہم واشنگٹن اور تہران کو بھی قریب لانا چاہتے ہیں’مشرق وسطی کی صورتحال اور ایران امریکا کے درمیان حالیہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے دنیا کو واضح اور دوٹوک پیغام دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اب پاکستان کسی کی جنگ میں شرکت نہیں کرے گا بلکہ امن والا ملک بنے گا۔ ماضی میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں شرکت کر کے پاکستان نے بڑی قیمت ادا کی۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عہدیدار نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان دنیا کے ان رہنمائوں میں سے ایک ہیں جو ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی کے لیے آف ریمپ ڈپلومیسی میں مصروف عمل نظر آئے۔ایران تنازع پر بریفنگ کے دوران عہدیدار نے کہا کہ آف ریمپ یہاں تین سال سے ہے اور یہ صرف ہم نہیں ایرانی بھی اس کی پیشکش کرتے رہے ہیں۔دو روز قبل پاکستان نے خطے میں کسی تنازع کا حصہ نہ بننے کے عزم کی دوبارہ تصدیق کی تھی اور مشرق وسطی میں جاری بحران میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی۔وزیراعظم عمران خان نے خلیج نما عرب میں تنائو کے خاتمے کی کوشش کے تحت اور ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کے لیے اکتوبر 2019 میں ایرانی دارالحکومت کا دورہ کیا تھا۔انہوں نے اس معاملے پر مزید بات چیت کے لیے سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔ دراصل امریکہ ہرگز نہیں چاہتا کہ ایران اور سعودی عرب میں کشیدگی کا خاتمہ ہو کیونکہ اسی بنا پر تو وہ عرب ممالک کو لوٹ رہا ہے اسی لیے اس نے جنرل سلیمانی پر حملہ کیا کہ وہ مصالحت کا پیغام لے کر جا رہے تھے’ایرانی رہنمائوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے مذاکراتی حل تلاش کرنے کے لیے تمام عالمی کوششوں میں حصہ لیا تھا لیکن ٹرمپ انتظامیہ ہمیشہ پابندیوں اور فوجی اقدامات میں زیادہ دلچسپی لیتی رہی۔اسی لیے ایران نے اعلان کیا تھا کہ 2015 میں امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت جوہری پروگرام پر پابندیوں پر مزید عمل نہیں کرے گا۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشرق وسطی میں ایران کے خلاف مزید کسی فوجی کارروائی سے روکنے کے لیے قرارداد منظور کرلی ہے۔ امریکی ڈرون حملے میں اعلی ایرانی کمانڈر کی شہادت کے جواب میں ایران نے عراق میں موجود فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے تھے جہاں امریکی فوجی رہائش پذیر ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ۔اس قرار داد میں کانگریس کی اجازت لیے بغیر ایران کے خلاف امریکی افواج کو استعمال کرنے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ کے اختیار کو ختم کرنے کا حکم دیا گیا۔تاہم یہ قرار داد اب سینیٹ میں جائے گی جہاں امریکی صدر کی ریپبلکن پارٹی کا غلبہ ہے اور ایک مشکل لڑائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایک جانب قانون ساز صدارتی اختیار پر پورا دن بحث کرتے رہے دوسری جانب امریکی صدر نے کانگریس سے مشاورت کے تقاضے کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حملہ کرنے کے لیے انہیں کسی کی آشیرباد کی ضرورت نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بغیر کوئی ثبوت پیش کیے اس بات پر زور دیا تھا کہ قاسم سلیمانی نئے حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے سرگرم تھے جس میں امریکی سفارتخانوں کے خلاف حملے بھی شامل تھے اور ہم نے انہیں وہیں روک دیا۔انہوں نے اپنے ڈیموکریٹس مخالفین کا تضحیک آمیز ناموں سے مذاق اڑاتے ہوئے دعوی کیا کہ اگر ان سے مشاورت کی ہوتی تو وہ اس خفیہ آپریشن جعلی خبروں کو لیک کردیتے۔ کانگریس کی اسپیکر نینسی پلوسی کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کشیدگی کم کریں اور مزید اشتعال انگیزی سے اجتناب کریں کیوں کہ امریکا اور دنیا جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ایران نے موجودہ حالات میں جوہری معاہدے کی پاسداری نہ کرنے کا اعلان کیا تو دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر فوری طور پر اضافی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا جس سے دونوں ممالک اور خطے میں کشیدگی میں اضافے اور باقاعدہ جنگ کا خدشہ تھا۔تاہم نوجنوری کو حیرت انگیز طور پر امریکا نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے اور عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے ایران کو مذاکرات کی غیرمشروط پیشکش کی ۔ امریکا نے سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ایران سے بغیر کسی شرائط کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔امریکا کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ امریکا بغیر کسی شرائط کے ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے تیار ہے، مذاکرات کا مقصد عالی امن کو مزید خراب ہونے سے روکنا اور ایران کی حکومت کی جانب سے کشیدگی کو ختم کرنا ہے۔پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کی ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ کشیدگی میں ایک سہولت کارکی حیثیت سے مصالحانہ کردار ادا کرنے کی کوشش کے بار آور ہونے کے حوالے سے فی الحال پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔تاہم پاکستان کی ان کوششوں پر دونوں ملکوں کی طرف سے مثبت ردعمل کا آنا ہی پاکستان کے اس نئے کردار کی پذیرائی ہے۔وزیرِاعظم عمران خان نے ایرانی قیادت اور سعودی عرب کے ولی عہد دونوں سے اس سہولت کاری کے مشن کے دوران ملاقاتیں کی تھیں۔ ایران نے ان کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ۔پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے عمران خان کے ایران اور سعودی عرب کے درمیان سہولت کاری کے اس مشن کو حوصلہ افزا قرار دیا تھا۔گذشتہ ماہ سعودی عرب کے شہروں بقیق اور خریص میں آرامکو کی تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا الزام امریکہ اور سعودی عرب نے ایران پر عائد کیا تھا۔ تاہم یمن میں حوثیوں نے دعوی کیا تھا کہ انہوں نے سعودی جارحیت کے جواب میں سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملہ کیا تھا۔ آکسفورڈ انسٹیٹیوٹ آف انرجی سٹیڈیز کے ایک محقق نے سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے کو خطے میں کشیدگی کے حوالے سے رولز آف انگیجمنٹ میں اہم تبدیلی قرار دیا ہے۔ایران نے اس حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ اس سے پہلے ایران کے ساحل اور عمان کے ساحل کے قریب بھی آئل ٹینکروں پر حملے ہوئے تھے اور انگلیاں ایران کی طرف اٹھیں تھیں، تاہم ایران نے اس وقت بھی تردید کی تھی۔ ان حملوں کی ذمہ داری بھی یمن کے حوثیوں نے قبول کی تھی۔ان حملوں کے بعد سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔ امریکہ نے کسی بھی فوجی تصادم کی حالت سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب میں اپنی فوج تعینات کرنے کا اعلان کیا لیکن خود سعودی عرب سمیت خطے کے دیگر ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ ہوئی تو اس کا عالمی معیشت پر تباہ کن اثر ہو گا۔پاکستان خطے کا ملک ہوتے ہوئے اس ممکنہ جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ پاکستان ایران اور سعودی عرب کی پراکسی جنگ کی وجہ سے پہلے ہی سے اندرونی طور پر پرتشدد فرقہ وارانہ شدت پسندی کا شکار ہے۔ اس لیے پاکستان کا ان دونوں ملکوں کی جنگ سے متاثر ہونا ایک لازمی اور منطقی نتیجہ ہوگا۔پاکستان نے اس سے پہلے بھی 2016 میں بھی ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے ان کے درمیان مصالحت کی کوشش کی تھی، لیکن اسے کوئی پذیرائی نہیں ملی تھی۔ اس وقت کے پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے تجویز دی تھی کہ پاکستان ان دونوں ملکوں کے درمیان مصالحت کے لیے ایک فوکل پرسن کا تقرر کرے گا اور یہ دونوں ممالک بھی اپنے اپنے فوکل پرسنزکا تقرر کریں۔اگرچہ ایران اور سعودی عرب کی کشیدگی کی تاریخ پرانی ہے، لیکن ان کے درمیان فوجی کشیدگی کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب سے پہلے جب ایران امریکہ کا اس خطے میں خاص فوجی اتحادی ملک تھا، اور سعودی عرب بھی خلیج میں مغرب کا اتحادی تھا ان دونوں ملکوں کے درمیان مسلکی اختلاف کے باوجود دوستانہ تعلقات تھے۔ اس لیے اس دور میں پاکستان یا کسی اور ملک کو ان دونوں ملکوں کے درمیان مصالحت کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔1960 میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں گرمجوشی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ 1966 میں سعودی عرب کے اس وقت کے فرمانروا شاہ فیصل، ایران کے دورے پر گئے جب انہوں نے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کی پالیسی اپنائی۔ ان کے دورے کے بعد شاہ ایران نے بھی سعودی عرب کا دورہ کیا جس میں وہ مکہ اور مدینہ میں عمرہ اور زیارات کے لیے گئے۔ سعودی حکمران شاہ ایران کو جنت البقیع بھی لے کر گئے تھے۔ایران میں1979 کے انقلاب کے بعد سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک نے ان کے بیان کو ان کی بادشاہتوں کے لیے ایک خطرہ سمجھا۔ اس بعد ان عرب ممالک میں جہاں بادشاہتیں تھیں وہ ایران کے خلاف متحد ہوگئے۔ اس طرح سعودی عرب خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی قرار پایا۔ عراقی رہنما صدام حسین کے بارے میں شدید تحفظات کے باوجود سعودی عرب نے ایران اور عراق کی جنگ میں عراق کا بھر پور ساتھ دیا۔ اس جنگ میں دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔جنرل ضیاء نے بھی مصالحتی کوششیں کیں اب اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو عالم اسلام کا بھلا ہو گا۔

Facebook Comments
Share Button