تازہ ترین

GB News

گلگت بلتستان میں تعلیم کا رجحان

Share Button

 

بلتستان یونیورسٹی کے مطالعاتی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے گلگت بلتستان میں تعلیمی رجحان توقع سے زیادہ ہے طلباء کو چاہیے کہ وہ سیکھنے کے جدید طریقے اپنائیں’یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کی عمر کے مطابق تعلیم دینے والے ماہر اساتذہ کی بہت کمی ہے پھر دوسری زبان کا بھوت عوام و خواص، دونوں کے ذہنوں میں گھس بیٹھا ہے۔ انگریزی کو پہلی کلاس سے متعارف کرایا جارہا ہے، جب کہ حالت یہ ہے کہ انگریزی پڑھانے والے بیشتر اساتذہ کا تلفظ تک درست نہیں۔برطانوی تعلیمی مشیر جان کلاگ نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ طالب علم کو لازمی اپنی زبان میں تعلیم دینی چاہیے کیوں کہ غیر زبان میں تعلیم دینے سے طلبا اور اساتذہ کا بہت سا قیمتی وقت ترجموں کی نذر ہو جاتا ہے جس کے بعد بھی بچے مفہوم کے لحاظ سے غبی رہتے ہیں لیکن رٹے کی بنیاد پر امتحان پاس کر لیتے ہیں جو کسی بھی علم کا مقصود نہیں۔ جو علم ذہن کو شعوری روشنی نہ بخشے وہ اند ھیرے میں ہی رہتا ہے۔ جان کلاگ کا بھی یہی موقف تھا کہ ایسی پالیسی جو بدیسی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کے لیے وضع کی جائے وہ تعلیم کو ایک مجبوری کا عمل بنا سکتی ہے۔ یہ اہم نکتہ ہے جس پر والدین اور تعلیمی ماہرین کو خصوصی غور کرنا چاہیے۔انگلش میڈم اسکولوں میں صرف صاحب ثروت، اعلی سرکاری عہدیداران، جاگیرداروں اور وڈیروں کی اولادیں تعلیم حاصل کر رہی ہیں جب کہ غیر معیاری نام نہاد انگریزی میڈیم اسکول گلی گلی، کوچے کوچے، تعلیم کی حرمت کو پامال کر رہے ہیں اور سادہ لوح عوام کو انگلش میڈیم کے نام پر دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔اگر انگلش میڈیم اسکول معیاری تعلیم دے رہے ہیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مادری زبان میں یہ نا ممکن ہے۔ جاپان، جرمنی، فرانس، چین، مشرق وسطی اور بھارت میں ابتدائی تعلیم مادری زبانوں میں ہی دی جاتی ہے۔ انگریزی تعلیم ایک زبان کے طور پرسیکنڈری سطح سے شروع ہوتی ہے۔حقیقت میں مادری زبان میں ابتدائی تعلیم بچے کے ذہن، فہم، حافظے کی استعداد اور فطرت کے مطابق ہے۔ آزادی سے قبل کے نظام تعلیم کو سامنے رکھیں تو اس میں ایک تسلسل تھا۔ پرائمری تک مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے سیکنڈری میں با آسانی نہ صرف انگریزی سیکھتے تھے بلکہ اس میں مہارت کا یہ حال تھا کہ ان کو کالج اور یونیورسٹی میں انگریزی میں تعلیم حاصل کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی۔مولانا محمد علی جوہر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے میں پورے ملک میں اول آئے اور انگریزی میں تاریخ ساز نمبر لے کر ایک ریکارڈ قائم کیا۔ اس میں دو رائے نہیں کہ معیاری تعلیم کا سہرا ان محترم اساتذہ کے سر ہے جو ہر مضمون کے ساتھ انصاف کرتے تھے اور تعلیم محض امتحان پاس کرنے کے لیے نہیں بلکہ حقیقی آگاہی کے لیے دیتے تھے۔ہم کسی موثر تعلیمی حکمت عملی نہ ہونے کے باعث بہت وقت ضائع کر چکے، اب جلد ازجلد طالب علم کے لیے ایسی پالیسیاں اپنانی چاہئیں جو سیکھنے اور تعلیم کے تقاضوں کو پورا کرتی ہوں۔کسی بھی قوم کی بنیادی ضرورت یہ ہے کہ معاشرے کے ذہین افراد تدریس کی طرف آئیں۔ جب کہ ہمارے یہاں یہ بات زبان زد عام ہے جس کو کوئی اور کام نہیں ملا وہ استاد بھرتی ہوگیا۔ تاکہ دال روٹی کا انتظام ہو سکے۔ ہمارے اساتذہ کو جو تعلیم سرٹیفکیٹ’ڈگری’ماسٹرز کے تعلیمی پروگرامز کے تحت دی جاتی ہے وہ بنیادی طور پر ان کو پڑھانے کی تکنیک یا طریقہ تعلیم کے لیے تیار نہیں کرتی۔ ٹیچر ایجوکیشن انسٹیٹیوشن عام طور سے نام نہاد مجلسی انداز کے اصول پر ٹیچرز کو تعلیم دیتے ہیں جہاں ان کی حیثیت انفعالی ہوتی ہے۔ نتیجے میں جب یہ عملی میدان میں آتے ہیں تو ان کی بڑی تعداد طلبا کو بامعنی تعلیم دینے سے قاصر رہتی ہے۔ٹریننگ کے ذریعے ہی ایک استاد پیشہ وارانہ ترقی کے نتیجے میں بہتر پلاننگ کے ساتھ طلبا کو تعلیم دے سکتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں مستقبل کے اساتذہ کی ذہانت، فطری میلان اور رویے کے بارے میں اطمینان بخش رپورٹ کے بعد معاشرتی پس منظر اور جسمانی، ذہنی و نفسیاتی صحت کے بارے میں ماہرین کی ٹیم فیصلہ کرتی ہے پھر امیدوار کو ٹریننگ کے مختلف طریقوں سے استفادے کا موقع دیا جاتا ہے۔مثلا کریکٹیکل فرینڈ شپ کا طریقہ نئے ٹیچر کی ٹریننگ کے لیے سب سے زیادہ کام یاب ہے۔ اس طریقے میں سینئر ٹیچر اور ٹرینی ٹیچر کے درمیان دوستی کے معاہدہ کے تحت دوران لیکچر ٹیچر کلاس میں موجود رہتا ہے اور بعد میں اپنے دوست کو اس کی خامیوں سے آگاہی اور مشورے دیتا ہے ٹریننگ کے دیگر طریقوں میں کوآپریٹو لرننگ انکوائری اور مونٹرز کے طریقے بھی ترقی یافتہ ملکوں میں مقبول ہیں۔ہمارے اسکولوں کے کلاس رومز میں یک طرفہ ٹریفک نظر آتی ہے جہاں ہر استاد اپنی ذہنی سطح کے مطابق پڑھاتا نظر آتا ہے اور عام طور پر سے تیار شدہ نوٹس سے سالہا سال گزارہ کرتا ہے۔ اکثر اساتذہ اپنی کوتاہیوں کا الزام طلبا، والدین نصابی کتب اور امتحان کے طریقے کار پر ڈال کر بے فکر ہو جاتے ہیں۔تعلیم کا جدید طریقہ مکالمہ ہے،استاد اگر طلبا کو پڑھائے جانے والے موضوع پر سوال جواب کا طریقہ اختیار کرے تو یقینا اس طرح استاد اور طالب علم دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہوں گے۔ لگے بندھے کلاس نوٹس لکھنا انتہائی غلط طریقہ ہے۔ طلبا کو خود نوٹس بنانے کی ترغیب دینی چاہیے۔نصابی لحاظ سے بھی ہمارا نظام تعلیم مختلف زمروں میں بٹا ہوا ہے، جب کہ قیام پاکستان سے قبل پورے ہندوستان میں یکساں نصاب تعلیم تھا۔ معیار تعلیم اتنا بلند تھا کہ جس نے میٹرک میں محنت کر لی وہ ایم ایس سی تک کامیاب ہوتا چلا جاتا تھا۔اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ ہمارا نصاب تعلیم آئے دن تجربات کی زد پر رہتا ہے۔ اسکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب میں ہر سال تبدیلی سے معیار تو کیا بلند ہوتا، اساتذہ اور طلبا کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوا، پھر مستزاد یہ کہ مددگار کتب کے نام پر طلبہ و طالبات کو مہنگی کتب خریدنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔نصابی کتب کو قومی امنگوں اور بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، جب کہ موجودہ کورس قومی اور بین الاقوامی تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر ہے ساتھ ہی نصابی کتب کا معیار پست ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملکی ماہرین تعلیم میٹرک اور اولیول کے نصاب کا تقابلی جائزہ لیں اور ہماری قومی ضروریات کے مطابق جلدازجلد قومی سطح کا فوری نافذ ہونے والا نصاب تیار کریں، جو طلبا اور نصاب کے درمیان ایک ہم آہنگی اور توازن برقرار رکھے ہوئے ہو اور ایسی تعلیم فراہم کرے جس میں بنیادی تعلیم نہایت مضبوط ہو۔امتحانی طریقہ کار میں تبدیلی اساتذہ اور طلبا دونوں کے لیے فائدہ مند ہوگی، آٹھویں جماعت تک سالانہ نظام کو سہ ماہی کر دیا جائے۔ کورس کو پڑھائی کے تین مرحلوں میں تقسیم کر دیا جائے ۔ ایک یونٹ تین ماہ کا ہو جس میں منظور شدہ کورس پڑھایا جائے اور امتحان میں کامیابی کے بعد ہی طالب علم کو دوسرے یونٹ میں ترقی دی جائے گی۔ اس طرح جو طالب علم فائنل یونٹ میں فیل ہوگا اس کو دوباہ اسی یونٹ کا امتحان دینا ہوگا، جس کے لیے گرمی کی چھٹیوں کے فوری بعد انتظام ہونا چاہیے۔اس طرح طالب علم کا قیمتی سال ضائع ہونے سے بچ جائے گا۔ تین ماہ کے طریقہ امتحان کے باعث طلبا پر امتحانات کا نفسیاتی دبائو کم ہوگا۔ طلبا کی قابلیت کو بڑھانے اور نقل کے رجحان کی نفی کے لیے معروضی سوالات کا طریقہ پوری دنیا میں مقبول ہے اس لیے ہر مضمون کی مناسب سے زیادہ سے زیادہ سوالات معروضی نوعیت کے ہونے چاہئیں تاکہ مکمل نصاب سے انصاف ہوسکے۔ویسے تو معیارِ تعلیم، سکول میں دستیاب سہولیات، معیارِ تدریس اور اساتذہ کی تربیت سمیت کئی عوامل ایسے ہیں جو کسی بھی نظام ِتعلیم کو جامع بنانے کیلئے لازم ہیں۔ یہ تعلیمی نظام کا ایک ایسا حساس موضوع ہے جس پر اگر تھوڑی سی توجہ بھی دی جائے تو وسائل وتربیت کی کمی اور دیگر خامیوں کے باوجود ایسا راستہ نکالا جاسکتا ہے جس پر چل کر ہمارے بچے ترقی یافتہ دنیا کے بچوں کے ہم پلہ ہو سکتے ہیں۔یہ مسئلہ ہے طالب علموں کے لرننگ ڈپریشن کا۔ہر کلاس میں بچوں کی ایک بڑی تعدادلرننگ ڈپریشن کا شکار رہتی ہے۔ ہر بچے کے لرننگ ڈپریشن کا شکار ہونے کے عوامل مختلف ہوتے ہیں مگر خوش قسمتی سے آج کے جدید دور میں اس سے نجات کے بہت سے سادہ، کم وقتی اور دلچسپ طریقے دریافت ہوچکے ہیں ۔ صرف سکولوں کی حالت بہتر بنانے سے تمام مسائل حل نہیں ہوجائیں گے لرننگ ڈپریشن ہمارے بچوں کے ڈراپ آئوٹ کے بڑے عوامل میں سے ایک ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بچوں کی درست انداز میں رہنمائی کریں لیکن بد قسمتی سے ہمارے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی نفسیاتی اور عملی تربیت کا کوئی بندوبست نہیں جس سے ہم ان کے طریقہِ تدریس سے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر سکیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بچے سکول کے امتحان میں نوے فیصد سے زائد نمبر بھی حاصل کر لیتے ہیں مگر انکی تعلیمی قابلیت جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہوتی ۔ جب ہمارے طالب علم چودہ سال کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کسی دوسرے ملک میں جاتے ہیں تو ان کو اپنی تعلیم دوبارہ سے ایک نئے طریقے سے شروع کرنا پڑتی ہے اور یوں ان کا زیاد ہ تر وقت پڑھائی کے طریقہ کار کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے میں صرف ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ان کے گریڈ بھی کم آتے ہیں۔

Facebook Comments
Share Button