تازہ ترین

GB News

بجلی کی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی

Share Button

 

وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے ہمارے بڑے بڑے کالم نویسوں نے کبھی اس حوالے سے نہیں لکھا کہ لوگ کیوں بل نہیں دیتے جس کی وجہ سے بحران پیدا ہورہا ہے۔ یہاں برقیات کے ملازمین برف توڑ کر بجلی بحال رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا گلگت بلتستان میں سرکاری ادارے مینول سسٹم پر چل رہے ہیں جس میں کرپشن کا خطرہ موجود ہوتا جب یہ سسٹم ای ماڈل پر منتقل ہوگا جس کی ایک مثال یہ ہے کہ جب ہم نے ای سسٹم کے تحت سمارٹ میٹر متعارف کرایا تو سب چیزیں کمپیوٹرائزڈ ہو گئیں جس کی وجہ سے بجلی کی چوری، نادہندگی کا مسئلہ حل ہوگیا ان علاقوں میں اب بجلی کا بل دینے کی شرح سوفیصد ہے اور کوئی شارٹ فال بھی نہیں۔لوگ بجلی کا بل نہیں دیتے، قاضی، آغا اور دیگر علما نے باقاعدہ فتوی بھی دیا ہے کہ بغیر بل کے بجلی کا استعمال حرام ہے ، گلگت میں اس وقت آٹھ گھنٹے تک بجلی مل رہی ہے، ایک ماہ کے اندر ڈیڑھ میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوگی، جبکہ رواں سال سترہ میگاواٹ مزید بجلی پیدا کی جائے گی، گلگت بلتستان واحد صوبہ ہے جو اپنے وسائل سے بجلی پیدا کررہا ہے اور پاور منصوبے لگارہا ہے۔اس موقع پرسیکرٹری واٹر اینڈ پاور سجاد حیدر نے کہا ہمارے ملازمین سخت سردی میں بھی بجلی کو بحال رکھے ہوئے ہیں ،عوام سے تعاون کی ضرورت ہے، بل کی بروقت ادائیگی کی ضرورت ہے۔ علما سے بھی درخواست ہے کہ وہ عوام کو بل کی ادائیگی کیلئے باور کرائیں ، گلگت بلتستان میں بجلی کے بڑے بڑے منصوبوں پر کام ہورہا ہے، اس وقت گلگت بلتستان کے کئی علاقے لوڈشیڈنگ فری ہیں، بہت سارے علاقوں میں شدید بحران ہے جس کا ہمیں احساس ہے۔بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی بلاشبہ بہت بڑا جرم ہے اسلامی اعتبار سے بھی یہ حرام فعل ہے اور علماء اس حوالے سے مختلف فتاوی جات بھی دے چکے ہیں’ہمارے ہاں بجلی چوری بھی عام ہے اور کسی کو اس شرمندگی نہیں ہوتی’ملک میں اربوں روپے کی بجلی چوری ہونے کا انکشاف ہوتا رہتا ہے، خیبر پختونخوا بجلی چوری میں پہلے نمبر پر ہے جہاں 23.48 ارب روپے کی بجلی چوری ہو رہی ہے جبکہ سندھ کا دوسرا نمبر ہے۔پاور ڈویژن ذرائع کے مطابق پنجاب میں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی ریجن میں 6.6 بلین روپے کی چوری ہو رہی ہے۔ ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنی میں 3.03 بلین روپے کی چوری ہورہی ہے۔ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں 1.5 بلین روپے کی بجلی چوری کی جارہی ہے۔ گجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنی میں 1.002 بلین روپے کی چوری ہو رہی ہے۔ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں 22 کروڑ روپے کی چوری ہو رہی ہے۔صوبہ سندھ کی حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں 6.78 ارب روپے کی چوری ہو رہی ہے۔ سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی میں 9.721 ارب روپے کی چوری ہو رہی ہے۔ صوبہ بلوچستان کی کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی میں 6.75 ارب روپے کی چوری ہو رہی ہے۔ایک سال میں وزارت توانائی کی ناقص کارکردگی کے باعث قومی خزانے کو 78 ارب کا نقصان پہنچا۔بجلی چوری کی مد میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگایا گیا۔ پولیو کی طرح بجلی چوری میں بھی خیبرپختونخوا نے پہلا نمبر حاصل کرلیا اور 36 ارب کا نقصان پہنچایا۔سندھ کی سائیں سرکار دوسری نمبر پر رہی اور بجلی چوری کی مد میں 25 ارب کا نقصان کرڈالا’ بلوچستان بجلی چوری میں تیسرے نمبر پر رہا اور 8ارب 63 کروڑ روپے نقصان کیا جبکہ پنجاب 8 ارب 27 کروڑ روپے نقصان کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہا۔مالی سال دو ہزار اٹھارہ اور انیس میں 114 ارب یونٹس بجلی خریدی گئی’اور صرف 93 ارب 88 کروڑ یونٹس ہی فروخت ہوسکی۔کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کراچی الیکٹرک سپلائی کاپوریشن نے مختلف دینی اداروں سے تعلق رکھنے والے بارہ علما سے بجلی چوری کے خلاف فتوی حاصل کیا ہے۔اس فتوے میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی چوری ناجائز، حرام اور گناہ ہے، جو مسلمان کنڈے کے استعمال، میٹر کی رفتارسست کر کے یا کسی اور طریقے سے بجلی چوری کے مرتکب ہوتے رہے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ ا س گناہ سے توبہ کرتے ہوئے اب تک کی چوری شدہ بجلی کی قیمت کے برابر رقم بجلی کمپنی کو اداکریں۔کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ترجمان صادق جعفری کا کہنا تھا کہ بڑی پیمانے پر بجلی کی چوری ہو رہی ہے جس کی روک تھام کے لئے ان کے ادارے نے علما کو فتوی جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔پچھلے سال کے ای ایس سی کو بجلی چوری کی وجہ سے سولہ ارب روپے کا نقصان ہوا اور اس سال ہر مہینے تقریبا ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔علما نے بجلی چوری کے مرتکب شہریوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اللہ سے معافی مانگیں اور آئندہ متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر بجلی استعمال نہ کرنے کا پختہ عہد کریں۔ ورنہ جب تک ناجائز بجلی استعمال ہوتی رہے گی، تو کنڈا لگا کر یا میٹر کی رفتارکم کر کے بجلی استعمال کرنے والے گناہ کبیرہ میں مبتلا رہیں گے۔ محفل میلاد یا دوسری محافل پر چراغاں کے لیے کنڈے کی بجلی استعمال کرنا بھی چوری میں شمار ہے جوکہ ناجائز اور حرام ہے لہذاایسے میلاد سے ثواب کی امید نہیں رکھی جا سکتی کیونکہ اللہ تعالی مال حلال ہی قبول فرماتا ہے۔علمائے کرام نے اپنے فتوی میں کہا کہ بجلی چوری کرنے کے لیے میٹربند کرنا، کنڈالگانا، میٹر کی رفتارکم کرنا یا اس کے علاوہ کوئی اور ایسی صورت اختیارکرنا جو حکومت یامتعلقہ ادارے کی طرف سے قانونا ممنوع ہو، شرعا ناجائزاور گناہ ہے۔ اور اس میں دوطرح کاگناہ لازم آتاہے۔ ایک تو یہ ایک ایسے ادارے کی چوری ہے جس سے بہت سے لوگوں کے حقوق وابستہ ہیں اور چوری اگر ایک آدمی کی ہوتب بھی سخت گناہ ہے اور اگر بہت سے لوگوں کی ہو تو گناہ مزید بڑھ جاتاہے۔دوسرے یہ کہ جائز امورمیں حکومتی قوانین کی پاسداری واجب ہے ، چونکہ بجلی کی چوری حکومت کی طرف سے قانونا ممنوع ہے جو کہ عوامی مصالح کے پیش نظرجائز پابندی ہے اس لیے بجلی چوری کرناجائز حکومت کی مخالفت کرنا ہے جوکہ ناجائز اور گناہ ہے۔کسی بھی شخص یا ادارے کے لیے متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر کنڈا لگا کر یا میٹر کی رفتار کم کر کے بجلی استعمال کرنا حرام اورگناہ کبیرہ ہے اور ایسے لوگوں پر لازم ہے کہ جتنی بجلی متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر استعمال کی ہے اسی ادارے کو اس کی ادائیگی کریں اور جو گناہ ہوا ہے اس کی انتہائی پشیمانی اور عاجزی کے ساتھ اللہ تعالی سے معافی مانگیں۔ سرکار نے بجلی چوری کا نیا توڑ نکالا تھا، ملک بھر میں بجلی کے پری پیڈ میٹر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جتنا بیلنس ہوگا اتنی ہی بجلی ملے گی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے توانائی بحران پر قابو پانے اور بجلی کی چوری روکنے کیلئے سخت اقدامات کا اعلان کیا تھا۔صارفین اپنی ضرورت کے مطابق ہر ماہ کارڈ لوڈ کریں گے پھر بجلی ملے گی، کارڈ ختم ہوتے ہی بجلی بند ہوجائے گی، پرانے بقایا جات ادا کرنے پر پری پیڈ میٹر فراہم کیا جائے گا۔ای سی سی نے فیصلہ کیا ہے کہ مسلسل تین ماہ بل نہ دینے پر متعلقہ فرد یا ادارے کی بجلی منقطع ہوگی، سرکاری و نجی افراد یا اداروں سے بھی کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔بجلی چوری دو طرح سے ہوتی ہے اول ڈائریکٹ یعنی ٹرانسمشن لائن پر کنڈی ڈال کر اور دوم بجلی کے میٹر میں کوئی گڑبڑ کرکے اگر بجلی کی چوری ڈائریکٹ کی جارہی ہو تو پھر ڈیٹیکشن بل کو سول کورٹ میں چیلنج کیا جائے گااور اگر بجلی کی چوری میٹر میں کوئی گڑ بڑ کرکے کی جارہی ہو تو پھرڈیٹیکشن بل کو سول کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا بلکہ الیکٹرک انسپکٹر کے پاس چیلنج کیا جا سکتا ہے’وزیراعظم عمران خان نے بھی بجلی اور گیس کی چوری میں ملوث عناصر کو عوام کے سامنے بے نقاب کرنے کی ہدایت کی تھی۔وزیر توانائی عمر ایوب خان نے وزیر اعظم کو توانائی کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات سے آگاہ کیا تھا۔عمر ایوب خان نے بجلی اور گیس چوری کی روک تھام کی مہم سے متعلق بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا۔وزیراعظم نے بجلی گیس چوری کے خلاف کامیاب مہم پر وزیر توانائی اور ان کی ٹیم کو سراہا۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بجلی، گیس چوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی جاری رکھی جائے۔بہرحال یہ سوسائٹی کے تمام طبقات کی ذمہ داری ہے کہ وہ بجلی کی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی کی صورتحال کے تناظر میں اپنا اپنا کردار ادا کریں’وزیراعلی کی جانب سے مینول سسٹم کو تبدیل کرنے اور ای سسٹم ماڈل لانے کی جو بات کی ہے وہ درست ہے اس طرح کرپشن کی شرح کم بلکہ ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Facebook Comments
Share Button