تازہ ترین

GB News

گلگت بلتستان :شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج،ایمرجنسی نافذ

Share Button

گلگت، سکردو ، ہنزہ، غذر ، چلاس،استور (نمائندگان)گلگت بلتستان میں کئی روز سے جاری شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ۔اہم شاہرائیں بندہونے سے کئی علاقوں کازمینی رابطہ منقطہ ہوگیا ہے۔ میدانی علاقوں میں 2سے 3جبکہ بالائی علاقوں میں 4سے پانچ فٹ برف پڑ چکی ہے جس کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ چلاس میں بھی 10سال بعد شدید برفباری شروع ہو گئی ہے ، ہنزہ، استور ، گانچھے ، غذر سمیت تمام اضلاع میں برفباری سے عوام کی مشکلات بڑھ گئی ہیں، برفباری کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سکردو روڈ جگہ جگہ پر بلاک ہونے سے مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے راولپنڈی سے سکردو لائی جانے والی میت ڈومبوداس سے پانچ گھنٹے کے بعد سکردو پہنچی فضائی سروس اور روڈ کی بندش سے بلتستان کے لوگ پھنس گئے ہیں شاہراہوں کی بندش سے اشیائے خوردونوش اور پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے ائیرپورٹ کو صاف کرنے میں کم ازکم دس روز لگ سکتے ہیں یوں مسافروں کی مشکلات پیچیدہ ہوگئی ہیں نظام زندگی مکمل طور پر جام ہوکر رہ گیا ہے کہیں کسی قسم کی کوئی سرگرمی نظر نہیں آتی ہے کئی مکانات کی چھتیں بھاری مقدار میں برف کا بوجھ برداشت نہ کرپانے کے باعث زمین بوس ہوگئی ہیں برگے نالہ میں برفانی تودہ گرگیا تاہم کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا ہے بجلی کی ٹرائسمیشن لائنیں منقطع ہونے سے پورے سکردو میں بجلی کی سپلائی بند ہوگئی انتظامیہ نے تمام شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں کیونکہ شدید برفباری کی وجہ سے جگہ جگہ پر لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنیکا خطرہ ہے شہری موجودہ صورت حال میں چوکنا رہیں کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے انتظامیہ کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے تمام اداروں کے ذمہ داران کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی۔استور میں دو روز سے جاری طوفانی برفباری کے باعث بالائی علاقوں کی تمام رابطہ سڑکیں مکمل بند ہوچکی ہیں، علاقے میں بجلی کا نظام مکمل ختم ہوچکا ہیے دوسری جانب ایس کام اور ڈی ایس ایل انٹرنیٹ سروس بحالی کے چار گھنٹے بعد پھر بند ہوگئی جس کے بعد سے اب تک استور بھر میں ایس کام سروس اور انٹرنیٹ سروس مکمل بند ہونے سے علاقے کے عوام کا رابطہ پوری دنیا سے مکمل کٹا ہواہے۔ دو دن سے جاری برفباری کے باعث استور کے بالائی علاقے کالا پانی، میر ملک، گشاٹ، سکمل، مرمی، درلے، رٹو، منی مرگ برزل ٹاپ ، چیلم سمیت دیگر علاقوں میں پانچ سے6 فٹ برف پڑ چکی ہے جبکہ ہیڈ کواٹر عیدگاہ اورگوریکوٹ میں ایک سے دو فٹ تک برفباری ہونے سے تمام ٹریفک بند ہے اور برفباری کے باعث شاہرہ استور بھی ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے گلگت اور رولپنڈی بس سروس بھی گزاشتہ روز سے بند ہے مسافروں کو سفری مشکلات کا سامنا ہے استور میں دو روز سے جاری برفباری میں زلزلے سے متاثرہ علاقے ڈوئیاں ،ڈشکن، شلتر،تربیلنگ،مشکن، ہرچو سمیت دیگر درجنوں گاوں میں اب بھی آفٹر شاکس محسوس کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے لوگ شدید طوفانی برفباری میں ٹینٹوں میں زندگی گرانے پر مجبور ہیں۔ ادھر برفباری کے باعث غذر اور گلگت کا بھی زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے اور غذر چترال روڑ بھی گزشتہ دو روز سے بند ہے جس سے علاقہ مکین شدید مسائل کا شکار ہیں۔گاہکوچ شہر اور قریبی دیہاتوں میں اب تک 14 انچ جبکہ بالائی علاقوں میں کئی فٹ برفباری ریکارڈ ہوئی ہے مسلسل ہونے والی برفباری سے ایک طرف ضلع غذر میں خشک سالی کا خاتمہ ہوا ہے تو دوسری طرف زبردست برف باری سے ماضی کے کئی ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔برفباری کے بعدغذر بھر میں تمام پاور ہاوسز بند ہوچکے جگہ جگہ پول گرنے اور ٹرانسمیشن لائنیں ٹوٹنے سے ضلع بھر میں اندھیرا چھا گیا ہے۔مقامی لوگوں نے فوری طور پر بجلی کے نظام کو ٹھیک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ضلع ہنزہ اور نگر کے مختلف علاقوں میں بھی گزشتہ 48گھنٹوں سے برف باری کا سلسلہ جاری ہے، محکمہ ڈیزاسٹرکے مطابق ضلع نگر اور ہنزہ کے بالائی علاقوں میں ایک فٹ سے زائد سنٹر میں 8انچ اور لور میں 6انچ ریکارڈ کیا گیا ہے مقامی بزگوں کے مطابق حالیہ دنوں میں ہونے والی برفباری سے60سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ۔ضلع ہنزہ اور نگر کے بالائی اور میدانی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کی وجہ سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو اہے۔ ضلع ہنزہ اور نگر میںہونے والی برفباری کی وجہ سے گلگت ہنزہ نگر کے درمیان ٹریفک معطل ہو چکی ہے جبکہ بالائی ہنزہ خصوصاً شمشال، چیپرسن ، مسگر سوست تاششکٹ کے علاوہ ہوپر ، نگر خاص اور ہسپر کے عوام کو شدید مشکلات کاسا منا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ دوسری جانب پاک فوج کے انجینئرکور نے ہیوی مشینری کے مدد سے سنٹر ہنزہ مرتضی آباد تاعطاآباد ٹنل جبکہ کیمپ مورخون نے سوست تا ششکٹ شاہراہ قراقرم سے برف ہٹانے کا کام گزشتہ روز شروع کر دیا ہے ۔ چلاس شہر میں دس سال بعد برفباری نے ہر منظر دلفریب بنا دیا۔دیامر میں گزشتہ 18گھنٹوں سے جاری برف باری سے دس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔دیامر کے نالہ جات داریل، تانگیر، تھک، کھنر، تھور، بٹوگاہ، گوہرآباد، بونر نالہ، گیس بالا، پائین میں شدید برفباری سے سڑکیں بند اور راستے مسدود ہوکر رہ گئے، بالائی علاقوں میں مال مویشی کے ساتھ رہائش پذیر لوگوں کے مشکلات میں آضافہ ہوگیا ہے۔دوسری طرف برف باری اور بارش کے بعد لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہ قراقرم کوہستان کے مختلف مقامات پر بلاک ہوچکی ہے۔ادھر دیامر اور استور میں شدید برف باری کے بعدکمشنر دیامر فہیم خان آفریدی نے سنو ایمرجنسی نافذ کر دیاہے۔سنو ایمرجنسی حالیہ موسمی شدت اور برف باری کی وجہ سے لگا دیا گیاہے۔کمشنر دیامر نے برف باری کے بعد چھٹیاں منسوخ کرکے تمام اداروں کے ملازمین کو اپنے دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کر دی ہے اور عوام کو برف باری اور بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے اجتناب کیا ہے۔کمشنر دیامر نے محکمہ صحت کو برف باری سے متاثرہ علاقوں میں صحت کے سہولیات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کر دی ہے۔کمشنر ہاوس سے جاری پریس ریلیز کے مطابق دیامر اور استور میں کسی بھی ناگہانی آفت سے نمٹنے کیلئے کنٹرول رومز قائم کیے گئے ہیں۔دوسری جانب ڈی جی ڈیزاسٹرمینجمنٹ نے برفباری سے پیداصورتحال پروزیراعلیٰ کوبریفنگ دی اس موقع پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے صوبے میں جاری برفباری کی وجہ سے گلگت بلتستان ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی، ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کے احکامات جاری کئے ۔امدادی اداروں، ہسپتالوں، ریسکیو1122، پولیس، انتظامیہ، محکمہ برقیات اور محکمہ تعمیرات کے فیلڈ سٹاف کی چھٹیاں فوری طور پر منسوخ کرکے حاضری کو یقینی بنانے کے احکامات دیئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ استور بونجی میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا گیا ہے دیگر اضلاع سے بھی رپورٹ لی جارہی ہے۔ شہریوں سے غیرضروری سفر سے اجتناب کرنے کی اپیل کی ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں حالیہ برفباری سے سابقہ سو سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ گلگت بلتستان ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کو بین الاضلاعی سڑکوں کو بحال رکھنے، بجلی، صحت سمیت دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات کیلئے احکامات دیئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کوالرٹ رکھاجائے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے ڈی جی گلگت بلتستان ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ تمام اضلاع میں مشینری کو بھی الرٹ رکھا جائے۔ ویئر ہائوسز میں ضروری سامان کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔ عوام احتیاطی طور پر غیرضروری سفر سے اجتناب کریں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ حالیہ زلزلے اور برفباری کی وجہ سے ضلع استور بونجی میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ دیگر اضلاع سے بھی رپورٹ لی جارہی ہے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کسی بھی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ریسکیو1122،پولیس، انتظامیہ، ہسپتالوں اور دیگر فیلڈ سٹاف کی چھٹیاں فوری طور پر منسوخ کرکے ڈیوٹی پر حاضر کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔ حالیہ برفباری نے گلگت بلتستان میں سو سالہ ریکارڈ توڈ دیا گیا۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے گلگت شہر کا دورہ کیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر گلگت اور دیگر متعلقہ اداروں کوروڈ سے برف ہٹانے اور ضروری اقدامات کرنے کے احکامات دیئے۔ مختلف مقامات پر عوام سے ملے اور ان کے مسائل دریافت کئے۔

Facebook Comments
Share Button