تازہ ترین

GB News

انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن ایکٹ 2017 کو بحال کرنا ہوگا، اورنگزیب ایڈووکیٹ

Share Button

گلگت(ثاقب عمر سے) صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اس وقت پورے ملک میں الیکشن ایکٹ 2017 لاگو ہے جو گلگت بلتستان میں بھی تھا وفاقی حکومت نے ان قوانین کو ختم کیا تو شدید قانونی و آئینی بحران پیدا ہوسکتا ہے انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن ایکٹ 2017 کو بحال کرنا ہوگا۔کے پی این سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اس وقت آرڈر 2018 کے تحت ہی تمام امور چلائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں مختلف دھڑوں پر مشتمل پی ٹی آئی کی تنظیم جس احتساب کی بات کررہی ہے اب تو اس احتساب کو بھی دفن کیا گیا اب یہ لوگ اپنے عبوری آئینی صوبے کے اعلان کو شاید بھول گئے ہیں جس آرڈر سے ان کو سخت چڑ تھی اور آرڈر کے خلاف اکلوتے ممبر اسمبلی اور ان کی جماعت کے ممبران نے احتجاج کیا اب یہ لوگ پھر سے آرڈر 2020جاری کرنے کی بات کررہے ہیں ان کا جو دعوی تھا کہ عبوری آئینی صوبے سے کم کوئی سیٹ اپ قبول نہیں ہے اب وہ اعلانات کہا ںگئے وہ بیانات کہاں گئے آرڈر کے خلاف یہ لوگ اپنا احتجاج بھول گئے ہیں اب ہم بھی انتظار میں ہیں کہ یہ لوگ عوام کے پاس کیا لیکر جاتے ہیں ان لوگوں کو خواب میں بھی نواز شریف ، حفیظ الرحمن کی حکومت کے ترقیاتی کام نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نگراں حکومت کے لئے ترمیم کرکے سپریم کورٹ آف پاکستان کو آگاہ کرسکتی ہے یا سپریم کورٹ آف پاکستان سے اجازت لیکر ترمیم کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعفر شاہ اور فتح اللہ نے عوام کو عبوری آئینی صوبے کے وعدے وعید کئے تھے عوام کو کہا تھا کہ عبوری آئینی صوبے سے کم سیٹ اپ نہیں ملے گا پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے عوام کو عبوری آئینی صوبہ دلائے گی اب ہم بھی دیکھ رہے ہیں کہ یہ لوگ کونسا عبوری آئینی صوبہ بنا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جس آرڈر کے خلاف پی ٹی آئی نے احتجاج کیا واویلا کیا اب وفاقی وزیر امور کشمیر نے آرڈر 2020 لانے کا کہا اب یہ لوگ کہا ہیں اب یہ لوگ آرڈرز لیکر عوام کے پاس جائینگے ان کا تو کہنا تھا کہ کسی بھی قسم کا کوئی بھی آرڈر ہمیں قبول نہیں ہے ہم عبوری آئینی صوبے کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن اب 2020 کا آرڈر لیکر یہ لوگ عوام کے پاس جائینگے؟ انہوں نے کہا کہ اب تو چیئرمین نیب کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی ہوگیا ہے کہ 50 کروڑ تک کرپشن کرنے والوں کا احتساب نہیں ہوگا جن میں وزراء ،تاجر اور تمام سرکاری آفیسر شامل ہیں تو اب یہ لوگ گلگت بلتستان میں کس طرح احتساب کی بات کررہے ہیں یہ سب عوام کو دھوکہ دینے کی باتیں ہیں جس طرح پی ٹی آئی نے ملک کو معاشی بحران میں ڈالا ہے اسی طرح یہ لوگ گلگت بلتستان میں معاشی بدحالی پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں ان کے تمام وعدے جھوٹے نکل رہے ہیں اب مختلف دھڑوں میں تقسیم پی ٹی آئی کی جماعت کا تماشہ ہم بھی دیکھ رہے ہیں کہ یہ لوگ آئندہ انتخابات میں عوام کے پاس کونسے نعرے کو لیکر جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے جو وعدے کئے ہیں ان وعدوں کے تحت کام کیا ملک سمیت گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا تاریخ میں پہلی مرتبہ (ن) لیگ کی حکومت نے وہ ترقیاتی کام کئے ہیں جو ستر سال میں نہیں ہوئے تھے (ن) لیگ اپنی کاکردگی سے مطمئن ہے اور ہم نے ایک بار پھر عوامی مینڈیٹ لیکر کامیاب ہونا ہے جس کا ہمیں مکمل یقین ہے۔

Facebook Comments
Share Button