تازہ ترین

GB News

بھارتی دھمکیوں کا ٹھوس و جامع جواب

Share Button

بھارت کے نئے آرمی چیف جنرل منوج مکند نروانے نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھارتی پارلیمنٹ حکم دیتی ہے تو بھارتی فوج پاکستان کے کشمیر کے حصول کے لیے کارروائی کرے گی۔ہندوستان ٹائمز کے مطابق انہوں نے کہا کہ پورا جموں اور کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔ اگر پارلیمنٹ کسی وقت یہ خواہش کرتی ہے کہ یہ حصہ بھی ہمارا ہوجائے اور اس حوالے سے ہمیں کوئی احکامات موصول ہوتے ہیں تو لازمی طور پر کارروائی کی جائے گی۔بھارتی آرمی چیف پاکستان کو دھمکیاں دیتے رہتے ہیں سبکدوش ہونے والے آرمی چیف نے بھی جاتے جاتے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ وہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی سے باز رہے ورنہ کنٹرول لائن پرحالات کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ بھارتی حکام ہر وقت، اٹھتے بیٹھتے پاکستان پر کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کا الزام لگا دیتے ہیں۔وہ خود سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے اور پھر سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے، جس میں اسے منہ کی ہی کھانا پڑتی ہے، لیکن پھر بھی وہ باز نہیں آتا۔وہ نت نئے حربے استعمال کر تا رہتا ہے۔بھارت لائن آف کنٹرول پر تو جو آگ برسا رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کا سر کچلنے کے لئے اپنے ہی آئین کے ساتھ کھلواڑ بھی کر رہاہے۔مودی سرکار نے اگست میں تمام قانونی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا، اس کے بعد اب کشمیرمرکز کے زیر اہتمام ریاست یا یونین ٹیریٹری ہو گی،ا س کے علاوہ بھارتی شہری بھی زمین خرید کروہاں رچ بس سکتے ہیں، جس سے خدشہ ہے کہ اگر کبھی اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق استصواب رائے ہوا تونتائج گمبھیر ہو سکتے ہیں۔گزشتہ پانچ ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے،اس کو دنیا کی سب سے بڑی جیل قرار دیا جا رہا ہے، اہل ِ کشمیر کی زندگی اجیرن ہے،عورتیں اور بچے بھی ان کے ظلم سے محفوظ نہیں ہیں۔یہاں تک کہ پانچ ماہ سے انٹرنیٹ سروس بھی منقطع ہے، جس کے باعث ان کا دنیا سے کوئی رابطہ نہیں اور کاروباری زندگی بھی مفلوج ہے۔اب دو روز قبل بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکار کو ایک ہفتے کے اندر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کا حکم دیا ہے کورٹ نے کہا ہے انٹرنیٹ سروس بند کرنا آزادی حق رائے دہی کے منافی ہے اور کسی کو بھی اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔بھارتی عوام، سیاسی جماعتیں اور عدالت بھی حکومت کے ہم خیال نظر نہیں آتے،کسی بھی جمہوریت کے دعویدار، سیکولر ملک میں اس سے زیادہ بدتر صورتِ حال اور کیا ہو گی۔بھارتی حکومت نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ترمیمی شہریت بل بھی پاس کردیا، یہ بل دس جنوری سے بھارت میں نافذ ہو چکا ہے۔اس بل کی رو سے مسلمانوں کے سوا دوسری تمام اقلیتوں کو شہریت حاصل کرنے کا حق دیا گیا ہے، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بھارت میں مذہب کی بنیاد پر شہریت دی جائے گی۔بھارت کے اپنے شہری اس بل کے مخالف ہیں، ملک بھر میں احتجاج جاری ہے، اب تک 35 کے قر یب افرادمارے جا چکے ہیں۔چھ بھارتی ریاستوں نے فورا اس بل کو مسترد کر دیا، گیارہ ریاستوں میں اس کے خلاف آواز بلند کی جا رہی ہے، لیکن مودی سرکار کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔بھارت کے اندرونی حالات بدسے بدتر ہوتے جا رہے ہیں، پھر بھی وہ پاکستان کے خلاف محاذ کھولنے کی خواہش میں مبتلا ہے۔اس طرح کی اوچھی حرکتیں کر کے وہ صرف عالمی برادری کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا چاہتا ہے۔اس وقت وہ ایک بدمست ہاتھی کی طرح سب کچھ اپنے پائوں تلے کچلنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ بھارت کی لگامیں کھینچے، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بھائی چارے کا نعرہ بلند کرنے والے ممالک کوبھی دخل اندازی کر کے بھارت کا راستہ روکنا ہو گا۔مودی سرکار کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ اگر اس نے پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتائج بھی اسی کو بھگتنا ہوں گے۔5 جنوری کو دیے گئے ایک بیان میں بھارت کے نئے آرمی چیف منوج نروانے کے پاکستان مخالف بیانات سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ وہ آرمی چیف کے عہدے پر نئے ہیں اور اپنی جگہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن وہ بھارتی فوج میں نئے نہیں آئے۔انہوں نے کہا تھا کہ بھارتی آرمی چیف کو خطے کے حالات اور پاکستان کی افواج کی قابلیت کا بخوبی علم ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ وہ 27 فروری کو بھارتی فوج کا حصہ تھے تو وہ نئے نہیں ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ بھارتی آرمی چیف عقل و فہم کا دامن مزید ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے، افواج پاکستان ملک کا دفاع کرنا جانتی ہیں اور بھارت کو بھی اس سے بخوبی آگاہی ہے۔پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کا بیان معمول کی ہرزہ سرائی ہے اور پاک فوج بھارت کی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔بھارتی آرمی چیف کا آزاد کشمیر میں فوجی کارروائی کا بیان معمول کی ہرزہ سرائی ہے اور وہ اپنے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ایسے بیان دے رہے ہیں۔بھارتی آرمی چیف کا بیان اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاک فوج، بھارت کی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔بھارت بھر میں متنازع شہریت ترمیمی قانون اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز این آر سی کے خلاف بڑے پیمانے پر جاری مظاہروں کی وجہ سے بھارتی جارحیت کے خدشات پھر سے پیدا ہوگئے ہیں۔علاوہ ازیں یہ شبہ ہے کہ بھارتی حکومت اپنے ملک کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی کر سکتی ہے۔وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اس حوالے سے کئی بار خدشات کا اظہار کرچکے ہیں کہ بھارتی فوج پاکستان میں جارحیت کر سکتی ہے۔ساتھ ہی بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر میزائل نصب کرنے اور بھارتی فوجیوں کی غیر معمولی نقل و حرکت کی وجہ سے ان خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔بھارت کے موجودہ آرمی چیف گزشتہ ماہ بھارتی فوج کے 28ویں سربراہ کے عہدے پر تعینات ہوئے تھے اور میڈیا کو دیے گئے پہلے انٹرویو میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی دہلی لائن آف کنٹرول کے پار حملوں کا اختیار رکھتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سرحد پار دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔دفتر خارجہ نے بھارتی آرمی چیف کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘پاکستان کے عزم اور تیاری کے بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے، کسی بھی جارحانہ اقدام پر سخت جواب دیا جائے گا، کسی کو بھی بالاکوٹ میں بھارتی مس ایڈوینچر کے نتیجے میں پاکستان کے موثر ردعمل کو یاد رکھنا چاہیے۔بیان میں کہا گیا تھا کہ بھارت کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود پاکستان خطے میں امن اور سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔پانچ جنوری کو دیے گئے ایک بیان میں بھارت کے نئے آرمی چیف منوج نروانے کے پاکستان مخالف بیانات سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ وہ آرمی چیف کے عہدے پر نئے ہیں اور اپنی جگہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن وہ بھارتی فوج میں نئے نہیں آئے۔بھارتی آرمی چیف کو خطے کے حالات اور پاکستان کی افواج کی قابلیت کا بخوبی علم ہے۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے عزم اور تیاری کے بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے، کسی بھی جارحانہ اقدام پر سخت جواب دیا جائے گا، کسی کو بھی بالاکوٹ میں بھارتی مس ایڈوینچر کے نتیجے میں پاکستان کے موثر ردعمل کو یاد رکھنا چاہیے۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ سرحد پار دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق جنرل منوج مکند ناراوین اپنی تعیناتی سے قبل بھارت کے نائب آرمی چیف کے عہدے پر بھی تعینات رہے ہیں اور انہیں یہ عہدہ سابق آرمی چیف بپن روات کی ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفس اسٹاف تعینات ہونے کے بعد ملا تھا۔گزشتہ ماہ بپن روات نے کہا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر صورتحال کبھی بھی کشیدہ ہوسکتی ہے جس کے رد عمل میں انٹر سروسز پبلک ریلیشن کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ان کے بیان کو دنیا کی بھارت کے متنازع شہریت ترمیمی قانون پر بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا تھا۔ادھر بھارتی آرمی چیف کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے دفتر خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ کشمیر میں غیر انسانی لاک ڈائون کو پانچ ماہ دس دن ہوچکے ہیں، پاکستان بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کے حق میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔مقبوضہ کشمیر میں صورتحال معمول پر لانے کے دعووں میں کوئی حقیقت نہیں، حکام اقوام متحدہ کی قومی سلامتی کی قراردادوں کے مطابق معاملہ حل کریں۔

Facebook Comments
Share Button