تازہ ترین

GB News

گلگت بلتستان میں ریکارڈ توڑ برفباری

Share Button

 

گلگت بلتستان میں کئی روز سے جاری شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے ۔اہم شاہراہیں بندہونے سے کئی علاقوں کازمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ میدانی علاقوں میں دوسے تین جبکہ بالائی علاقوں میں چار سے پانچ فٹ برف پڑ چکی ہے جس کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ چلاس میں بھی دس سال بعد شدید برفباری شروع ہو گئی ہے ، ہنزہ، استور ، گانچھے ، غذر سمیت تمام اضلاع میں برفباری سے عوام کی مشکلات بڑھ گئی ہیں، برفباری کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سکردو روڈ جگہ جگہ پر بلاک ہونے سے مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے’ شاہراہوں کی بندش سے اشیائے خوردونوش اور پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے ائیرپورٹ کو صاف کرنے میں کم ازکم دس روز لگ سکتے ہیں یوں مسافروں کی مشکلات پیچیدہ ہوگئی ہیں نظام زندگی مکمل طور پر جام ہوکر رہ گیا ہے کہیں کسی قسم کی کوئی سرگرمی نظر نہیں آتی ہے کئی مکانات کی چھتیں بھاری مقدار میں برف کا بوجھ برداشت نہ کرپانے کے باعث زمین بوس ہوگئی ہیں ‘انتظامیہ نے تمام شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں کیونکہ شدید برفباری کی وجہ سے جگہ جگہ پر لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا خطرہ ہے شہری موجودہ صورت حال میں چوکنا رہیں کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے انتظامیہ کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے تمام اداروں کے ذمہ داران کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی۔ گلگت بلتستان ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کو بین الاضلاعی سڑکوں کو بحال رکھنے، بجلی، صحت سمیت دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات کیلئے احکامات دیئے اور تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کوالرٹ رکھاجائے۔ وزیر اعلی نے کسی بھی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ریسکیو1122،پولیس، انتظامیہ، ہسپتالوں اور دیگر فیلڈ سٹاف کی چھٹیاں فوری طور پر منسوخ کرکے ڈیوٹی پر حاضر کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔ حالیہ برفباری نے گلگت بلتستان میں سو سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے ۔گلگت بلتستان سمیت پورا ملک ہی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے اور سردی کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں’ جن علاقوں میں برفباری ہو رہی ہے یہ ریکارڈ ساز ہے’ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے دوسرے بڑے شہراسکردو سمیت دیگر علاقوں میں چوبیس گھنٹے کے دوران نو انچ تک برف باری ہوئی ہے۔اسکردو میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے برف باری جاری ہے، محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگلی صبح تک برف باری جاری رہنے کا امکان ہے۔اسکردو شہر کا درجہ حرارت منفی بارہ ، بالائی علاقوں میں منفی پچیس ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، محکمہ موسمیات نے چوبیس گھنٹوں کے دوران شدید برف باری کی پیش گوئی کر دی ہے، گلگت بلتستان حکومت اور انتظامیہ کو بر وقت اقدامات کا خط بھی لکھ دیا گیا ہے۔رواں موسم سرما میں یہ اب تک کی شدید برف باری ہے، برف باری کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں، بالائی علاقوں کے راستے بھی شدید برف باری سے بند ہو گئے ہیں، اسکردو گلگت روڈ بھی بند ہو چکا ہے۔ یہ درست ہے کہ حکام بالا کو اس نوعیت کی صورتحال کا اندازہ نہیں تھا تاہم عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہر صورتحال کے لیے پیشگی اقدامات کیے جائیں تاکہ وقت پڑنے پر مشکل نہ ہو ہم بارہا ان سطور میں لکھ چکے ہیں کہ متعلقہ اداروں کی فعالیت بہت ضروری ہے اس کے علاوہ اشیائے خوردونوش’ادویات اور پٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ بھی کیاجانا چاہیے۔برفباری جہاں قدرتی حسن میں اضافہ کرتی ہے وہاں یہ مقامی افراد کے لیے مسائل کا باعث بھی بنتی ہے’برف باری کے دوران سڑکیں بند ہوجانے سے مقامی افراد کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس دوران اگر کسی قسم کی ایمرجنسی کی صورتحال کا سامنا ہو تو یہ تکلیف دگنی ہوجاتی ہے۔بعض دفعہ بروقت طبی مدد نہ ہوپانے کی وجہ سے مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتا ہے۔لہذا یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ حکومت ان علاقوں کی رابطہ سڑکیں بحال رکھنے کے لیے پہلے سے بلڈوزر کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ اس کے علاوہ ان علاقوں میں موبائل ہسپتالوں کی سہولت بھی فراہم کرے تاکہ کم از کم وہاں کے مریضوں کو فرسٹ ایڈ جیسی بنیادی طبی امداد کی سہولت تو میسر ہو۔ ان موبائل ہسپتالوں میں سردی سے ہونے والی بیماریوں سے بچائو کی ادویات بھی دستیاب ہونی چاہئیں۔ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف مقامی عوام کی مشکلات کم ہوسکیں گی بلکہ یہاں آنے والے سیاحوں کا بھی اعتماد بڑھے گا اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔حکومت کو چاہیے کہ ان علاقوں میں سردی کے موسم میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائے اور موسم سرما میں بجلی کے بلں پر سبسڈی دے تاکہ لوگ بجلی کے ہیٹرز استعمال کرسکیں اور لکڑی پر انحصار کم سے کم ہو۔ ان علاقوں کے عوام کو اگر سبسڈی پر گیس سلنڈرز بھی فراہم کیے جائیں تو بھی یہ بہتر ہوگا کیونکہ یوں ایندھن کیلیے جنگلات کاٹے جانے سے محفوظ ہوجائیں گے۔سردیوں کے دوران درجہ حرارت منفی ہونے کی وجہ سے پانی فراہم کرنے والی پائپ لائنیں جم جاتی ہیں جس کے سبب پانی کی فراہمی بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے اور پھر لوگوں کو سخت سردی میں گھروں سے دور جاکر پانی لانا پڑتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ان سیاحتی مقامات میں رونقیں قائم رہیں تو ہمیں وہاں کے مقامی افراد کو درپیش مسائل اور مشکلات کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا۔گلگت بلتستان میںگزشتہ چھتیس گھنٹے سے مسلسل بارش اور برف باری کے باعث ہنزہ اور نگر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور تمام سرکاری اداروں کو الرٹ کردیا گیا۔بالائی علاقوں میں ایک فٹ جبکہ نشیبی علاقوں میں دس انچ تک برف باری ہو چکی ہے۔بالائی علاقوں میں رابطہ سڑکیں اور شاہراہِ قراقرم ہرقسم کی ٹریفک کی لیے بند ہوچکی ہے۔ دو روز سے گلگت بلتستان کا فضائی اور زمینی رابطہ ملک کے دوسرے حصوں سے منقطع ہے۔برف باری اور بارش کی وجہ سے سردی کی شدت میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے۔گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے عوام کو پہاڑی علاقوں کے سفر سے روکنے کے لیے الرٹ جاری کیا ہے برف باری کی وجہ سے گلگت بلتستان کے مختلف حصوں میں بجلی کا نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے۔برف باری کی وجہ سے گلگت بلتستان کے تمام سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری بھی انتہائی کم ہے۔ماحولیاتی تبدیلیاں گزشتہ چند برسوں سے ایک مرتبہ پھر خاص موضوع بنی ہوئی ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں ماحولیاتی تبدیلی کے عنوانات سے تحقیقات ہورہی ہیں ، کانفرنسز اور سیمینارز منعقد ہورہے ہیں اور کرہ ارض کو شدید ماحولیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سے بچانے کے لئے معاہدے ہورہے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی اس کرہ زمین کا خاصہ رہی ہے اور اس کی پیدائش سے لے کر اب تک یہاں بے شمار تبدیلیاں آئی ہیں لیکن اس کی رفتار نہایت سست رہی ہے، تاہم صنعتی انقلاب آنے کے بعد اس میں تیزی آئی ۔پولینڈ میں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے کانفرنس میں ماہرین نے خبردار کیا تھاکہ زمین نازک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ بچائو کے اقدامات کرنے میں کوئی بھی تاخیربہت نقصان دہ ہوگی۔ ماہرین کے مطابق کے ٹو اورمائونٹ ایورسٹ کے پہاڑ ایک صدی سے بھی کم عرصے میں خالی چٹانوں میں تبدیل ہوجائیں گے،فضائی آلودگی اور بڑھتے درجہ حرارت سے برف پگھلنے کا عمل تیز ہوسکتا ہے۔ اس وقت پوری زمین ماحولیاتی تبدیلی کی زد میں ہے اور روز اس سے متعلق قدرتی آفات کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ قدرتی وجوہات کے علاوہ اس ماحولیاتی تبدیلی کی چند بڑی وجوہات ایسی بھی ہیں جن کا ماخذ انسان کی اپنی سرگرمیاں ہیں، مثال کے طور پراس وقت ہوا اور سمندروں کے پانی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کی وجہ کوئلہ، تیل اور گیس جلاکر توانائی کا حصول ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسان زراعت یا آبادیاں بسانے کے لئے جنگلات کا بے دریغ کٹائو کر رہا ہے اور اس کی صنعتی سرگرمیوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ان عوامل کے باعث ہماری آب ہوا آلودہ ہورہی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی ازل سے ہے اور ابد تک جاری رہے گی لیکن ہم بطورانسان اپنی سرگرمیوں سے اس کی رفتار اور منفی اثرات پر کسی حد تک قابو پاسکتے ہیں اور اس کے لئے ہمیں ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔

Facebook Comments
Share Button