تازہ ترین

GB News

گلگت بلتستان : تین دن مسلسل شدیدبرف باری کے باعث نظام زندگی جام

Share Button

گلگت،سکردو،گانچھے،استور،ہنزہ(نمائندگان)گلگت بلتستان میں تین دن مسلسل شدیدبرف باری کے باعث نظام زندگی جام ہوکررہ گیا۔برفباری کاسلسلہ تھمنے کے بعد بھی لوگوں کی مشکلات میں کمی نہیں آسکی۔تمام اضلاع کی اہم شاہراہیں مکمل بندہونے سے سینکڑوں لوگ ٹھٹھرتی سردی میں مختلف مقامات پرپھنس کررہ گئے۔ سکردوروڈ، غذرگلگت شاہراہ،شاہراہ قراقرم ہنزہ سیکشن اوراستورکی اہم شاہراہوں میں برف کے ڈھیرلگے ہوئے ہیں۔ گلگت بلتستان سے راولپنڈی اوردیگر شہروں کے لئے ٹرانسپورٹ سروس بھی معطل ہوگئی ہے۔24گھنٹے گزرنے کے باوجودکوئی اہم شاہراہ بحال نہیں کی جاسکی۔سکردو اور گردونواح میں شدید برفباری کے بعد انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے تمام دعووں کی قلعی کھل گئی شدید برفباری کے دوران صوبائی حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے دعوء کیاگیاکہ پورے علاقے میں برفباری کے دوران کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچنے اور شہریوں کو درپیش مشکلات دور کرنے کیلئے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور تمام عملے کو ڈیوٹی پر موجود رہنے کی ہدایت دی گئی ہے مگر جب پیر کی رات برفباری کا سلسلہ رک گیااور منگل کی صبح ہوئی تو صوبائی حکومت اور انتظامیہ کے تمام دعووں کی قلعی کھل کرسامنے آگئی تمام سڑکیں برف سے اٹکی رہیں تاہم متعلقہ اداروں کا عملہ مکمل طور پر پر غائب رہا محکمہ تعمیرات کا بلڈوزر بھی شہر میں آدھا گھنٹہ موجود رہنے کے بعد نظروں سے اوجھل ہوگیا شہری منگل کے روز دن بھر صوبائی حکومت اور انتظامیہ کو کوستے رہے پورا شہر اس وقت برف کا ڈھیر بن گیا ہے جس سے نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے تاجروں کو بیشمار مسائل کا سامنا ہے لیکن شہریوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے یہاں تک کہ مقپون زھر ،پریشان چوک، بے نظیر چوک، علمدار چوک میونسپل سٹیڈیم ایریا، جامع مسجد ایریاز اور آغا ہادی چوک کے ایریاز میں سڑکوں پر مٹی نہ ڈالنے کی وجہ سے گاڑیاں نہ چل سکیں سڑکوں پر بھاری مقدار میں برف موجود رہنے کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہیں مریض ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی کے باعث ہسپتالوں میں نہ پہنچ سکے شہر کے مختلف حصوں میں بجلی کی سپلائی بھی بحال نہ ہوسکی حلقہ نمبر2کے درجنوں علاقے دوسرے روز بھی اندھیرے میں ڈوبے رہے۔ استور بھر میں دو دن سے جاری طوفانی برفباری کے باعث پورا علاقہ مکمل بند ہوا ہے ہیڈ کواٹر کے اندر بھی گاڑیوں کی آمدرفت بند رہی جبکہ بالائی علاقوں کی تمام رابطہ سڑکیں مکمل بند ہوئی ہیں جبکہ لینڈسلائیڈنگ اوربرفانی تودہ گرنے کے باعث بالائی علاقوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے بجلی کا نظام اور ٹیلی موصلاتی نظام مکمل بند ہونے سے لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں استور کے ضلعی ہیڈ کواٹر میں بھی تین دن سے بجلی کا نظام مکمل بند ہے استور ویلی روڈ پر محکمہ تعمیرات عامہ روڈ کھولنے کے کام میں مصروف ہے دوسری جانب بالائی علاقوں کی عوام نے استور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بالائی علاقوں کی رابطہ سڑکوں کو کھولنے کے لیے اقدمات کئے جائیں۔ادھرخپلو شہر میں تین روز سے بجلی بند ہے بجلی کی بندش سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اس سے حوالے سے موقف لینے کے رابط کرنے پر کوئی بھی بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ تھلے پاور ہاوس میں فنی خرابی کے باعث بجلی معطل ہے شدید برفباری سے لوگ گھروں میں محصور ہیں تو وہاں محکمہ برقیات نے بھی عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

Facebook Comments
Share Button