تازہ ترین

GB News

ڈیزاسٹرمینجمنٹ کے پاس ایک بلڈوزربھی نہیں،فنڈزکہاں گئے؟جاویدحسین

Share Button

گلگت(خصوصی رپورٹ )قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے چیئرمین جاوید حسین نے کہا ہے کہ اتوار اورپیر کے روز ہونے والی مسلسل برف باری کی وجہ سے نگر کے تمام مضافاتی علاقے ہوپر،نگر خاص ،ہسپر، پھکر، ڈاڈیمل،میاچھر،ہوپئی چھپروٹ اور یر کی تمام رابطہ سٹرکیں مکمل طورپربندہیں اور ان علاقوں کے عوام گزشتہ تین دن سے محصور ہو کر رہ گئے ہیں اوران علاقوں کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ مکمل طورپر بند ہے اس مشکل صورتحال میں عوام اپنی مدد آپ کے تحت رابطہ سٹرکیں بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر ان رابطہ سٹرکوں کی بحالی اور عوام کو مشکل حالات سے نکالنے کیلئے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اورمحکمہ تعمیرات عامہ کا وجود کہیں نظر نہیں آرہاہے ۔انہوںنے کے پی این سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں گزشتہ تین دنوںسے نگر کے عوام سے رابطے میں ہوں،سڑکوں کوبحال کرنے کیلئے ان اداروں کے پاس ایک بلڈوزر بھی نہیں ہے انہوںنے بتایا کہ شاہراہ قراقرم بھی برف باری کے باعث ہنزہ نگر سیکشن بند ہے اور ہنزہ کے بالائی علاقوں کے عوام بالخصوص سوست،گوجال کے عوام محصور ہو رہ گئے ہیں مگر شاہراہ قراقرم ہنزہ نگر سیکشن کی بحالی کیلئے سرے سے کوئی کوشش ہی نہیں ہورہی ہے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کاکہیں پرنام و نشان بھی نہیں ہے۔انہوںنے کہا کہ یہ کتنی ستم ظریفی کی بات ہے کہ سی پیک روٹ تین دنوںسے مکمل طورپر بند ہے مگر اس سٹرک کی بحالی کے ذمہ دار ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، ان اداروں سے عوام کو ایک روپے کا فائدہ نہیں پہنچا ہے البتہ یہ ادارے عوام کوفائدہ پہنچانے کے نام پر سالانہ اربوں روپے کے فنڈز ضرور وصول کرتے ہیں یہ فنڈز کس کس کی جیب میں چلے جاتے ہیں اس کی تحقیقات ہونی چاہیے اور تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن بنایا جائے انہوںنے کہا کہ یہ کتنی افسوس کی بات ہے کہ شاہراہ قراقرم جو سی پیک روٹ ہے سے برف ہٹانے کیلئے ان اداروں کے پاس ایک بلڈوزر اورایک ٹریکٹر تک نہیں ہے انہوںنے فورس کمانڈر سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں اور ان اداروں کو ملنے والا سرکاری بجٹ بند کر کے یہ بات ہنزہ نگر کے عوام کو دیا جائے تاکہ علاقے کے عوام اپنی مدد آپ کیت حت قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے بروقت اقدامات کریں گے۔

Facebook Comments
Share Button