تازہ ترین

GB News

وادی نیلم ،برفانی تودہ گرنے سے ڈکی چکناڑ میں 3 دیہات دب گئے، 14 لاشوں کو نکال لیا گیا

Share Button

مظفر آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) وادی نیلم میں ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں برفانی تودہ گرنے سے ڈکی چکناڑ میں 3 دیہات دب گئے، امدادی ٹیموں نے 14 لاشوں کو نکال لیا ہے۔ذرائع کے مطابق برفانی تودے میں درجنوں افراد کے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم سہولیات کے فقدان کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔اب تک برفانی تودوں سے جاںبحق افراد کی تعداد76سے تجاوزکرگئی ہے۔ سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) کا کہنا ہے کہ موسم کی خرابی کے باعث نیلم ویلی کے مکینوں کی مشکلات میں اضافہ ہو چکا ہے۔ خرابی موسم کے باعث بالائی علاقوں میں فلائٹ ریسکیو آپریشن بھی روک دیا گیا ہے۔ وادی گریس میں ڈھکی اور چکناٹھ کے متاثرین تک تاحال ریسکیو ٹیمیں بھی نہیں پہنچ سکی ہیں۔ پی ڈی ایم اے غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق متعدد مکانات، مسجد، دکانیں اور گاڑیاں بھی برفانی تودوں کی زد میں آکر تباہ ہو گئے ہیں۔ادھرپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان اور بلوچستان کے برفباری سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ریلیف آپریشن تیزی سے جاری ہے ، پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز متاثرین تک امدادی سامان ،خیمے ، کمبل ، راشن ،پکا ہوا کھانا اور ادویات پہنچا رہے ہیں جبکہ پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر بھی منتقل کیا جا رہا ہے، کئی بند شاہراہوں پر سے برف ہٹا کر ان کو بحال کردیاگیا ہے ،متاثرہ خاندانوں میں ریلیف گڈز بھی تقسیم کردی گئی ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج ،ایف ڈبلیو او اور شہری انتظامیہ مسلسل گزشتہ 36گھنٹوں سے مشترکہ کوششوں میں مصروف عمل ہیں ۔آئی ایس پی آر کے مطابق بند قراقرم ہائی وے ، پٹن کے مقام پر جگلوٹ ،سکردوروڈ ،مٹہ بانڈا ،شتیال ، تتہ پانی ،ہنزہ ،سوست ،مورکون، خنجراب اور دموداس شاہراہیں ٹریفک کیلئے بحال کردی گئی ہیں جبکہ بلوچستان میں این50اوراین25کے خان مہتر زئی اور لکپاس ٹنل کے زیادہ تر حصے کلیئر کردیے گئے ہیں ۔آئی ایس پی آر کے مطابق قراقرم ہائی وے کی رکاوٹوں والی جگہ پرایف ڈبلیو او کی ٹیمیں تعینات کردی گئی ہیں تا کہ خلل کے بغیر ہموار طریقے سے ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جا سکے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرہ خاندانوں میں ریلیف گڈز بھی تقسیم کردی گئی ہیں ۔

Facebook Comments
Share Button