تازہ ترین

GB News

بنیادی سیاسی حقوق کیلئے تحریک کا عندیہ

Share Button

 

عوامی ایکشن کمیٹی نے بنیادی سیاسی حقوق کیلئے تحریک چلانے کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کی حقوق کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک ڈائریکشن دی ہے جس میں ہمارے حقوق کی وضاحت ہے ہمیں متنازعہ حیثیت کے حقوق دیئے جائیں یا ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت مکمل آئینی حقوق فراہم کئے جائیں ‘عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کے آرڈر کو تسلیم نہیں کیا جائے گاوفاقی جماعتیں دہرا معیار ترک کریں۔ گلگت بلتستان کی قوم پر رحم کریں ۔ حکومتی اراکین اسمبلی کی جانب سے پریس کانفرنس صرف الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے اور سیاسی شہید بننے کے علاوہ کچھ نہیں ہے اپوزیشن جماعتوں نے پہلے بھی آرڈر کے خلاف میدان سجایا تھا جس میں ہم بھی ان کے ساتھ تھے اور اب بھی ہم اسی موقف پر ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ اب زیادتی بند کی جائے دیگر صورت ماضی کی طرح اب آرڈرز کے خلاف پورے گلگت بلتستان کو جام کیا جائے گا۔ جب آرڈر2009آیا تونون لیگ نے مخالفت کی بعد میں اسی آرڈر کے مزے لئے اس وقت بھی ہم نے مخالفت کی پھر آرڈر2018آیا جس پر ہمارے اوپر احتجاج کرنے پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ نون لیگ نے کرائی اور آرڈر2018کو آسمانی صحیفہ قرار دیا لیکن اب کس منہ سے عوام کے پاس آکر حقوق کی بات کررہے ہیں۔سیاسی جماعتوں کے افراد کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی جب بھی وفاق میں کسی کی حکومت آتی ہے اس کا نمائندہ گلگت بلتستان میں بھیگی بلی بن جاتا ہے اور اپنے مفادات کی خاطر قومی حقوق کا سودا کرتا ہے اس قسم کے روئیے کو مکمل طور پر ترک کیا جائے تاکہ ہماری آنے والی نسل کو ایک بہترین مستقبل مہیا ہوسکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کو پبلک کیا جائے۔ اس بار بھی دھوکہ ہوا تو گورنر اور وزیر اعلی قومی مجرم ہونگے ہم یہی چاہتے ہیں کہ تمام جماعتوں کے ساتھ رابطہ کرکے اے پی سی بلاکر ایک قومی بیانیہ سامنے لائیں جس سے گلگت بلتستان کے حقوق اور گلگت بلتستان کے وسائل کاتحفظ ہوسکے اور ملازمین جس طرح وفاق سے مقرر کردہ کوٹے سے زائد آرہے ہیں ان کو بند کیا جائے جتنے وفاق سے گلگت آرہے ہیں اسی طرح گلگت بلتستان کے ملازمین کو دیگر صوبوں کو بھجوایا جائے۔ مسلم لیگ نون نے فورتھ شیڈول اور اے ٹی اے کے تحت اپنی حکومت چلائی ہے قومی تحریک چلانے والوں کے خلاف مقدمات بنائے گئے پھر بھی ہم مایوس نہیں ہوئے ہم نے عوام کو شعور دینے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔نوجوان نسل کو اب شعور حاصل ہوچکا ہے اور نوجوان نسل اپنے مستقبل کے حوالے سے سوچ کر ہی کام کرے گی،عوامی رابطہ مہم کا سلسلہ مزید تیز کیا جائے گا اور اس کے بعد قوم کو لیکر میدان عمل میں اترا جائے گا ۔گلگت بلتستان کے حقوق کے حوالے سے بھانت بھانت کی بولیاں ہمیشہ سے ہی سنائی دیتی رہی ہیں’ان حقوق کے ضمن میں آل پارٹیز کانفرنسز بھی ہوئیں لیکن اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی جاتی رہی’حقوق کے حوالے سے مختلف موقف بھی سامنے آتے رہے’ مختلف جماعتوں’ طبقات’حکومت اور اپوزیشن حقوق کے بارے اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتی رہی ہیں حالانکہ ہم بارہا انہی سطور میں یہ کہتے رہے ہیں کہ کیونکہ حقوق کا معاملہ سب کا مشترکہ معاملہ ہے اس لیے اس کیلئے جدوجہد بھی مشترکہ ہونا چاہیے۔ حقوق کے لیے بھی ایک پوائنٹ ایجنڈے پر اتفاق نہیں پایا جاتا کہیں یہ آواز سنائی دیتی ہے کہ آئینی صوبہ بنایا جائے’کہیں سے عبوری صوبے کی بات کی جاتی ہے’قومی و صوبائی اسمبلی میں نمائندگی کی بات کی جاتی ہے’آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ دینے کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا اور اب متنازعہ خطے کے حقوق کی بات کی جا رہی ہے’اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے حقوق اور اس کے ضمن میں مطالبات کا تعین کر لیا جائے ازاں بعد اس حوالے سے جدوجہد کی جائے تاکہ حقوق کی منزل قریب آ سکے’اگر اختلافات کو ختم نہ کیا گیا تو حالات کی تبدیلی کو ممکن نہیں بنایا جاسکتا’ہم دیکھتے ہیں کہ ملک کے مسائل میں پیچیدگی اور تنائو بڑھتا ہی جارہا ہے لیکن غور سے دیکھا جائے تو زیادہ تر پیچیدگیاں ہماری مقتدرہ کی اپنی پیدا کی ہوئی بھی ہیں۔ جبکہ تمام مسائل کا حل انتہائی سادہ اور براہ راست اپروچ میں پنہاں ہے۔مختلف قیادتوں کی جانب سے حقوق کی اِس چھینا جھپٹی میں سب سے زیادہ متاثر ریاست اور اس کے کروڑوں محبِ وطن مگربے بس، مظلوم اوربے آواز شہری ہیں جن کے بنیادی آئینی حقوق جنہیں پورا کرنے کی ضمانت ریاستِ پاکستان نے لی ہوئی ہے فروعات اور نان ایشوز میں دبا دئیے گئے ہیں۔حالانکہ اگر واقعی پاکستان کو مزید کمزور ہونے سے بچانا اور ترقی کی شاہراہ پر ڈالنا ہے تو اب بھی وقت ہے، اِس ریاست کے عوام کے آئینی حقوق بحال کرکے عوام کو مضبوط کیجئِے۔جعلی قیادتوں سے ملک کے عوام کی توجہ اور ہمدردیاں ہٹانے کا صرف ایک طریقہ ہے اور وہ یہ کہ ریاست اور نظام کو چلانے والے صرف پاکستان اور اس کی یک جہتی کے نعرے نہ لگائیں بلکہ وطن اور اس کے عوام سے محبت کا عملی ثبوت بھی دیں۔ کچھ نہیں تو ملک کی بگڑتی ہوئی معیشت سے اپنے ظاہری طرزِ زندگی کا عدم تفاوت دور کریں۔ اپنی تنخواہوں اور جائز مراعات کے اندر رہ کر زندگیاں بسر کریں اوردنیا کی باقی مہذب اور ذمہ دار ایلیٹ کی طرح اس ملک کا نظام چلانا شروع کریں۔اگر واقعی پاکستان کو مزید کمزور ہونے سے بچانا ہے اور اسے قوت کے ساتھ ترقی کی شاہراہ پر ڈالنا ہے تو اب بھی وقت ہے، اِس ریاست کے عوام کے آئینی حقوق بحال کرکے عوام کو مضبوط کیجئِے۔ اِن کے پرنسپلز آف پالیسی میں درج آئینی حقوق کی ادائیگی فورا شروع کردیجیے۔اندرونی و بیرونی قوتیں جنہوں نے ملک کے شہریوں کے آئینی حقوق کی عدم فراہمی کو لسانی اور علاقائی عوام کے حقوق کی جنگ میں تبدیل کرنا شروع کردیا ہے، وہ اس جنگ کو بہت جلد خود آئین اور ریاست کے خلاف جنگ میں تبدیل کرنے پر تلی نظر آتی ہیں۔ ایسے میں اس ملک کا سیاسی نظام چلانے والوں کواگر بحیثیت ایلیٹ یہاں اپنی نسلوں کا مستقبل محفوظ رکھنا ہے توانہیں خود ہی عوام کے حق میں فوری طور پرانقلابی پالیسی فیصلے کرنا ہونگے۔ آئین کے پرنسپلز آف پالیسی کے حصے پر عوام کے حق میں فوری طور پر عملدرآمد شروع کرنا ہوگا اور تمام صوبائی حکومتوں کو بھی مجبور کرنا ہوگا کہ وہ صوبوں کے عوام کے آئینی حقوق بحال کریں۔ صدرِ پاکستان اور صوبائی گورنرزپر فرض ہے کہ آئین کے آرٹیکل 29 سی کے مطابق ہر سال پارلیمنٹ میں پرنسپلز آف پالیسی پر کس قدر عمل ہوا اس بابت رپورٹ پیش کروائیں، جائزہ لیں، بحث کروائیں، کمیٹیاں بنوائیں، کے پی آئیز مقرر کروائیں اور وہ سب کچھ کریں جو عوام کے اندر بنیادی ضروریات سے محرومی کے نتیجے میں جنم لینے والی بے سمتی کو ختم کرسکے۔ یہی بے سمتی ہے کہ جسے قیادتیں اپنے نعروں کی سمت میں موڑ لیتی ہیں اور اِس بے سمتی کو ختم کیا جانا یوں بھی ضروری ہے کہ یہی عوام کو ریاست سے مایوس کررہی ہے۔ اس بے سمتی کو دور کرنے میں ہی اب پاکستان کی مضبوطی، بقا اور ترقی کی ضمانت ہے۔موجودہ صورتحال میں حقوق کے نعرے لگانے والے لیڈرز اپنے اپنے صوبوں کے عوام کو گمراہ کر کرتے ہیں کیونکہ ان لیڈرز میں سے بہت سے اسی ایلیٹ کے ساتھ سیاسی کھیل کا حصہ ہیں۔ ایسے میں کتنی حیرت کی بات ہے کہ پورے ملک کا کوئی محبِ وطن دانشور اور سیاسی قیادت ان صوبوں کے عوام کو یہ نہیں بتا رہے کہ صرف تمہارے صوبے ہی کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے شہریوں کے تمام حقوق پورے کرنے کی ریاستِ پاکستان اپنے آئین میں ضمانت لیتی ہے۔ تمہارے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے شہریوں کے آئینی حقوق اِس ملک کی ایلیٹ نے دبائے ہوئے ہیں۔ افسوس کچھ محب وطن سیاسی قیادت اور دانشوروں کا بظاہرخیال یہی ہے کہ جب لسانی آوازوں کو کچلا جاسکتا ہے توپورے ملک کے شہریوں کو آئینی حقوق دینے کی کیا ضرورت ہے۔گلگت بلتستان ستر سالوں سے حقوق کا منتظر ہے اس خطے کو حقوق دینے کیلئے ہردور میں مختلف النوع وعدے اور دعوے کیے جاتے رہے’سیاسی پارٹیوں نے انتخاب جیتنے کے لیے آئینی حقوق دینے کی بات کی مگر حکومت میں آتے ہی سب کچھ فراموش کر دیا’پیپلز پارٹی’نون لیگ’تحریک انصاف نے یہاں کے عوام کے ساتھ وعدے کیے لیکن عملدرآمد کی نوبت ہنوز نہیں آئی۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے ہاں احتجاج کے بغیر حکام کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانا ناممکنات میں سے ہے اگر اس حوالے سے تحریک چلانا ہے تو پہلے سب جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے اور پھر مشترکہ جدوجہد کی جائے۔

Facebook Comments
Share Button