تازہ ترین

GB News

کینسر اور کارڈیک ہسپتال کی نوید

Share Button

 

وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ کینسر اور کارڈیک ہسپتال جیسے بڑے منصوبے مسلم لیگ نون کے قائد محمد نواز شریف کی جانب سے عوام کیلئے تحفہ ہیں۔30مئی تک صوبے کے پہلے کینسر ہسپتال کا باقاعدہ افتتاح ہوگااور مئی تک کارڈیک ہسپتال کا بھی افتتاح کیا جائیگا۔ وزیراعلی نے کہا کہ نئے پاکستان والوں نے ہسپتالوں کو بھی آمدن کا ذریعہ بنایا ہے۔ سابق وزیراعلی پنجاب اور مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے مستحق اور غریب مریضوں کے علاج کیلئے تقریبا30کروڑ روپے ہسپتالوں کو دیے اور سابق وزیر اعظم نوا ز شریف نے گلگت بلتستان کے مستحق مریضوں کے علاج کیلئے تقریبا25 کروڑ روپے ہسپتالوںکو دیے نئے پاکستان والوں نے مفت علاج کی سہولت ختم کردی اور مستحق مریضوں کے علاج کیلئے مختص بجٹ ختم کردیا جسکے بعد گلگت بلتستان کے مستحق اور غریب مریضوں کو کینسر ، دل ،گردوں اور جگرکے علاج کیلئے کوئی راستہ نہیں تھا اسلئے صوبائی حکومت نے انڈومنٹ فنڈ قائم کیااور پاکستان کے تمام بڑے ہسپتالوں سے گلگت بلتستان کے مستحق مریضوں کے مفت علاج کیلئے معاہدہ کیا ہے۔ مستحق اور غریب مریضوں کے تمام اخراجات صوبائی حکومت اور انڈومنٹ فنڈ سے ہسپتالوں کو دیگی۔صوبے میں کینسر اور کارڈک ہسپتالوں کے فعال ہونے سے کینسر اور دل کے مریضوں کو دہلیز پر علاج معالجے کی سہولت میسر آئیگی۔ کینسر اورکارڈیک ہسپتالوں کی فعالیت یقینا ایک مثبت عمل ہو گا اور اس سے ان مہلک امراض کے مریضوں کو خاصی سہولت میسر ہو گی۔ہم جانتے ہیں کہ گزشتہ عرصے میں گلگت بلتستان میں دل کے امراض کی شدت میں خاصا اضافہ ہوا ہے’دنیا کے کئی دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی دل کی بیماریاں انسانی ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں پیدا ہونے والے ایک تہائی بچوں کو مستقبل میں امراض قلب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان میں دل کی مختلف بیماریاں عام لوگوں کی ہلاکت کی سب سے بڑی وجہ اس لیے بن چکی ہیں کہ لوگوں کی خوراک، عادات اور طرز زندگی مجموعی طور پر غیر صحت مند ہو چکے ہیں۔پاکستان میں قریب ساڑھے تین لاکھ افراد سالانہ دل کی بیماریوں کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ایک انٹرنیشنل میڈیکل سروے رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سترہ اعشاریہ پانچ ملین افراد ہر سال دل کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ان امراض کے لیے حکومت کی توجہ شہروں پر ہے تقریبا تمام بڑے شہروں میں امراض قلب کے ہسپتال تو بنائے گئے ہیں لیکن دیہی علاقوں میں صورت حال تسلی بخش نہیں۔ شہروں میں ہسپتال تو ہیں لیکن علاج مہنگا ہے۔ مریضوں کو نوے فیصد علاج اپنی ہی جیب سے کرانا پڑتا ہے۔ دل کے عارضے میں مبتلا کسی مریض کا بائی پاس ہو یا انجیوگرافی،کم از کم ایک سال کا وقت درکار ہوتا ہے۔ لیکن اتنا طویل اور مہنگا علاج خود اپنی جیب سے ادائیگی کے ساتھ کرا سکنے والے مریضوں کی تعداد بہت ہی کم ہے۔ اسی لیے جب متوسط طبقے کے کسی شہری کو دل کا عارضہ لاحق ہوتا ہے، تو اسی علاج کے باعث اس کا پورا خاندان غربت کی نچلی سطح تک پہنچ جاتا ہے۔امراض قلب کی بڑی وجوہات اور دل کی بیماریوں میں عمومی طرز زندگی کا بھی عمل دخل ہے کسی عام آدمی کی نسبت فربہ انسان کو ہارٹ اٹیک ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح تمباکو نوشی، ناقص اور غیر متوازن غذا اور ورزش کا فقدان بھی امراض قلب کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔دل کی بیماریاں بڑھنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جب ان کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں، تو لوگ انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔کینسر کو اس وقت دنیا میں تیزی سے پھیلنے والے موذی امراض میں شمار کیا جاتا ہے اور ماہرین صحت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اس کی بروقت تشخیص ہے۔ موجودہ طریقہ کار کے تحت کینسر کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب وہ شروع ہوچکا ہوتا ہے اور وہ پہلی یا دوسری اسٹیج پر پہنچ چکا جاتا ہے۔عام طور پر بریسٹ کینسر کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب وہ دوسری یا تیسری اسٹیج پر پہنچ چکا ہوتا ہے، اسی طرح دیگر طرح کے کینسر بھی تاخیر سے تشخیص ہوتے ہیں۔کینسر کی تشخیص کے بعد اگرچہ ماہرین اس کے ہونے کی وجوہات بھی جان لیتے ہیں،تاہم اب ماہرین نے ایک نئی تحقیق پر کام شروع کیا ہے جس کا مقصد کینسر کے پیدا ہونے کی وجوہات جاننا ہے۔اس وقت دنیا بھر میں کوئی ایسا طریقہ موجود نہیں، جس کے تحت یہ معلوم کیا جا سکے کہ کینسر کیسے ہوتا ہے اور اس کے پیدا ہونے کے ابتدائی دن میں انسانی جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں عام طور پر اس وقت کینسر کی تشخیص ہوتی ہے جب وہ پروان چڑھ چکا ہوتا ہے اور بعض اوقات تو کینسر کی تشخیص آخری اسٹیج میں ہوتی ہے۔کینسر اس وقت تیزی سے بڑھنے والا موذی مرض ہے اور حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق 2024 تک دنیا بھر میں کینسر کے کیسز کی تعداد ساٹھ فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اس کی بڑی وجوہات تمباکو نوشی، ناقص غذا اور دن بھر بیٹھے رہنا ہیں۔ کینسر اس طرز عمل کا نتیجہ بھی ہے جو ہم اپناتے ہیں اور اس کی سینکڑوں ماحولیاتی وجوہات بھی ہیں مثلا اگروائرس اور بیکٹیریا یا کسی کیمیکل کو چھو لینا وغیرہ لیکن کینسر کی کوئی ایک اصل وجہ مقرر نہیں کی جا سکتی ۔کینسر کا موجب ہمارے جینز کی کوئی کلیریکل غلطی بھی ہو سکتی ہے ۔ تمباکو نوشی سے اکثرکینسر ہو جاتا ہے کیوں کہ تمباکو پھیپھڑوں کے خلیوں کو ہلاک کر دیتا ہے یا انہیں نقصان پہنچاتا ہے ہر قسم کا دھواں خواہ وہ سگریٹ کا ہو یا کس دوسری چیز کا پھیپھڑوں کے خلیوں کی موت کی وجہ بنتا ہے اور پھر انہیں تبدیل کروانا پڑتا ہے۔الغرض کسی بھی قسم کی توڑ پھوڑ مزید غلطیوں کا باعث ہوگی اور آخر کار غلطیوں کا پلندا بن جائے گا بلکہ کینسر تو لاحق ہی اس وقت ہوتا ہے جب خلیوں کو بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اس لئے پراسٹریٹ گلینڈ اور تھائی رائڈ گلینڈ کا کینسر عام ہے کیونکہ انہیں ہارمونز اوردیگر اخراج کرنے پڑتے ہیں۔ہمارے جسم میں موجود ان چھوٹے انجینئروں کو ڈی این اے سے آنے والی ہدایات کو موصول کرنا اور ان پر عمل درآمد کروانا پڑتا ہے اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے ان غلطیوں میں کچھ کم دوسروں کی نسبت سے کم نقصان دہ ہوتی ہیں اور خلیے ان غلط ہدایات کے نتیجے میں نقصان اٹھاتے ہیں۔کینسر دراصل مقامی خلیوں کا گروہ ہوتا ہے جنہیں رک جا کا پیغام نہیں ملا ہوتا آپ کا مدافعتی نظام چونکہ ایک بہتر نظام ہے وہ ان خلیوں کو بے قابو ہونے سے پہلے ہی ان کو علیحدہ کردیتا ہے اس سے پہلے کہ یہ دوسرے اگر آپ بد قسمت ہیں تو یہ دوسرے خلیوں سے چمٹ جاتے ہیں اور خرابی کا عمل جاری رکھتے ہیں اورہمارا جسم یہ سمجھ لیتا ہے کہ خلیوں کا یہ مجموعہ تقسیم ہونے سے باز نہیں آئے گا۔ لہذا یہ نئی خون کی نالیاں پھینکنا شروع کر دیتا ہے تاکہ انہیں خوراک فراہم کی جا سکے اور وہی نالیاں بعد میں جمع ہو کر پھوڑے یاٹیومرے کی شکل اختیار کرلیتی ہیں کیوں کہ انہیں کبھی رکنے کا پیغام نہیں ملتا اس لئے کینسر کے خلیے لافانی ہوتے ہیں۔اگر اوائل عمر یا نوجوانی سے ہی سرطان کیخلاف مزاحمت کرنے والی غذاوں اور طرز زندگی کے دیگر امور کو اپنا لیا جائے تو کینسر کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے ۔کینسر راتوں رات انسانی جسم کو نشانہ نہیں بناتا بلکہ اس کیلئے کافی عرصہ درکار ہوتا ہے ۔طرز زندگی میں ذراسی تبدیلی کینسر جیسے مرض کا شکار ہونے سے بچا سکتی ہے۔ایک الگ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جو لوگ ٹیلیویژن کے سامنے بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں ان میں آنتوں کے کینسر کا خطرہ چون فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اگر تو کھڑا ہونا مشکل لگتا ہے تو ہر گھنٹے میں کم از کم کچھ منٹ کیلئے ارگرد کی چہل قدمی کو ہی اپنالیں جو اس موذی مرض کا خطرہ کم کرنے کیلئے کافی ثابت ہوتی ہے۔انسانی جسم میں وٹامن ڈی کی نوے فیصد مقدار سورج کی روشنی کے نتیجہ میں آتی ہے اور اس میں غذا یا کسی سپلیمنٹ کا کمال نہیں ہوتا۔ وٹامن ڈی کی کمی خلیات کے درمیان رابطے کی صلاحیت کو گھٹا دیتا ہے جس کے نتیجہ میں ان کے اکھٹے ہونے کا عمل رک جاتا ہے اور کینسر کے خلیات کو پھیلنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی خلیات کے مناسب رابطے اور دوبارہ پیدا ہونے کے عمل کو بھی روکتا ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی کے شکار افراد میں بریسٹ، آنتوں، مثانے، مادر رحم اور معدے کے کینسر کا خطرہ بہت ہوتا ہے جبکہ ہڈیوں کی کمزوری، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر بھی آپ کو شکار کرسکتا ہے۔ سورج کی روشنی میں بہت زیادہ رہنا بھی جلد کے کینسر کا باعث بھی بن سکتا ہے۔اس صورتحال میں بجا طور یہ کہا جا سکتا ہے کہ کینسر اور دل کے امراض کی بڑی وجہ ہماری عادات بھی ہیں اور ان امراض کا علاج اتنا سستا نہیں لہذا ہمیں اپنی عادات کو بھی تبدیل کرنا چاہیے اور ان امراض کی صورت حکام کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو علاج کی سہولیات بہم پہنچائے۔

Facebook Comments
Share Button