تازہ ترین

GB News

مہنگائی کا بے قابو جن اور بے چارے عوام

Share Button

قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیرریونیو حماد اظہر نے اعتراف کیا ہے کہ سخت فیصلے کرنا پڑے جس سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہوا۔ اپوزیشن ماضی میں اس لیے نہیں جانا چاہتی کہ انہیں پتہ ہے کہ انہوں نے معیشت کا کیا حال کیا ہے،نون لیگ کے وزیر خزانہ آخری مہینوں میں آئی ایم ایف بیل آﺅٹ کی بات کررہے تھے، اگر ان کے دور میں معیشت ٹھیک تھی تو یہ لوگ توپھرآئی ایم ایف کے پاس کیوں گئے؟ کیوں بل آﺅٹ پیکج پربات کی؟جب ہم نے حکومت سنبھالی توملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، زرمبادلہ کے ذخائر آدھے سے بھی کم تھے، پچھلی حکومت میں پانچ سوملین ڈالر کا ہرماہ خسارہ ہو رہا تھا، سابقہ حکومت کے خسارے آج ہم پورے کر رہے ہیں، آج آئی ایم ایف ہمیں خسارے ختم کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں، دسمبر 2020 تک ہم نے گردشی قرضوں کو صفر پر لانا ہے۔ آج بجلی اور گیس کی قیمتوں کی بات ہورہی ہے، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانا کسی بھی حکومت کے لیے مقبول فیصلہ نہیں ہوتا، مجبوری ہوتی ہے، سخت فیصلے کرنا پڑے جس سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہوا، لیکن آٹا بحران کی وجہ سندھ حکومت کا وقت پر گندم نہ خریدناہے اسی وجہ سے سندھ میں قلت پیدا ہوئی، کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں زیادہ ہوئیں ان پر قابو پانے کے لئے کابینہ آج اہم فیصلے کرے گی، آٹے اور گندم کی قیمت نیچے آگئی ہے، سندھ اور کراچی میں بھی جلد قیمتیں نیچے آجائیں گی، گندم اور چینی بحران کی تحقیقات کو سامنے لے کر آئیں گے۔ہم نے ملک کواستحکام کی جانب گامزن کیا، عالمی ادارے پاکستان کے ریٹنگ کو مثبت قرار دے رہے ہیں، گزشتہ سال جولائی سے زرمبادلہ کے ذخائرمیںپچاس فیصداضافہ ہوا، ایف اے ٹی ایف معاملے پرپیشرفت حوصلہ افزاہے۔ معاہدے ہم نے نہیں کیے تھے لیکن آج خسارے ہمیں ادا کرنے پڑ رہے ہیں، ہمیں دھرنے پر طعنے دیتے ہیں لیکن ماضی میں یہ خود بھی کنٹینر پر سیلفیاں لیتے رہے۔ ےہ حقےقت ہے کہ مہنگائی کے خواہ کتنے ہی جواز کےوں نہ فراہم کےے جائےں عوام اس سے بری طرح متاثر ہےں حکومت کم و بےش ڈےڑھ سال سے سابقہ حکومت کو مورد الزام ٹھہرا رہی ہے لےکن اپنی ذمہ دارےوں پر بات نہےں کرتی‘ سوال ےہ پےدا ہوتا ہے کہ کےا حکومت میں آنے سے قبل انہےں صورتحال کا اندازہ نہےں تھا اگر نہےں تھا تو بلند بانگ دعوے کےوں کےے گئے۔حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے عوام کو جو سبز باغ دکھائے تھے، وہ سب دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ روز بہ روز کی بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ روز بروز اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں مہنگائی کے اس بڑھتے ہوئے طوفان کی وجہ سے روزمرہ کی تمام اشیاءغریب آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ باقی رہی سہی کسر پٹرول اور تیل کی قیمتوں میں اضافے نے نکال دی ہے ۔ ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے کرائے بڑھا دیئے ہیں۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے جو عوام کیلئے انتہائی پریشان کن بات ہے۔ اس بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل بلکہ ناممکن بنا دیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پائے تاکہ عوام کو بھی ریلیف مل سکے‘حےرت ہے کہ مہنگائی کابے قابو جن ابھی تک حکومتی کنٹرول سے باہر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ معےشت مستحکم ہو گئی ہے اگر معیشت مستحکم ہو گئی ہے تو مہنگائی کم ہونے کا نام کیوںنہیں لے رہی۔سبزیوں،دالوں،چاول،گندم ‘آٹے،آئل،گھی فروٹ سمیت روز مرہ کی اشیاءکی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے اور مڈل کلاس کے افراد بڑھتی ہوئی مہنگائی سے تنگ آچکے ہیں‘مہنگائی کی وجہ سے وہ ایک وقت کی روٹی کے لئے بھی پریشان ہوگئے ہیں ۔وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ سستی اور معیاری اشیا کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں یوٹیلیٹی سٹوز کو مزید بہتر بنائیں گے، عوام کے لیے سٹورز پر سستی اشیا دے رہے ہیں، سبسڈی سے عوام کو فائدہ پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا 2020 خوشحالی اور روز گار دینے کا سال ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یوٹیلیٹی سٹورز میں بہتری، اشیائے ضروریہ پر سبسڈی اور غریب و نادار شہریوں کیلئے راشن کارڈز کی تیاری اگرچہ لائق صد تحسین اقدامات ہیں تاہم یہ مسئلے کا اصل حل بالکل بھی نہیں ہیں۔ اگرچہ یہ موضوع ماہرین معاشیات و اقتصادیات کا ہے تاہم کچھ امور اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کو سمجھنے کیلئے کسی ڈگری، تجربے یا مہارت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ظاہر ہی سی بات ہے کہ کسی بھی ملک کی اقتصادی و معاشی ترقی کیلئے وہاں امن و امان کی صورتحال میں بہتری اور سیاسی استحکام ضروری ہوتا ہے۔ امن و امان کی صورتحال مخدوش ہو اور ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو تو ملک میں مہنگائی کا طوفان مچنا ایک فطری امر ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ دوسرے معاشی سرگرمیوں، بیرونی سرمایہ کاری اور سب سے بڑھ کر طلب و ترسیل کے درمیان توازن بگڑ جاتا ہے یا کھو دیا جاتا ہے تو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں لامحالہ اضافہ ہی کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان2019 کو استحکام اور2020 کو خوشحالی کا سال تو قرار دیتے ہیں لیکن استحکام پر مبنی سال میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوںکی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں، عوام میں بے چینی اور احساس عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے ایسے میں2020 کے حوالے سے ان کے دعوے اور اس طرح کے بیانات کو محض سیاسی بیان بازی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ تحریک انصاف کو برسر اقتدار آئے ہوئے سولہ سترہ ماہ ہو گئے ہیں اور ان سولہ سترہ ماہ میں ملک سیاسی عدم استحکام کا بھی شکار رہا اور ملک میں مہنگائی کا جن بھی بے قابو ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اب جبکہ ملک کے اندر بعض انتہائی اہم معاملات بطریق احسن و خوبی سرانجام دیے جا چکے ہیں یا بعض معاملات جلد ہی سلجھا لیے جائیں گے، عالمی سطح پر بھی امریکہ ایران کشیدگی کی شکل میں پیدا ہونے والی صورتحال قدرے بہتری کی طرف گئی ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کرے جن کا فائدہ کسی مخصوص گروہ یا افراد کی بجائے اس ملک کی بے چاری عوام کو پہنچے۔ مستقبل قریب میں ریلیف پیکیج کے تحت پچاس ملین غریب، بے سہارا، نادار خاندانوں کو راشن کارڈ دینا اگرچہ ایک احسن اقدام ہی ہے لیکن اس طرح کے اقدامات سے مسائل پر وقتی طور تو قابو پایا جا سکتا ہے، سیاسی پوائنٹ سکورنگ بھی کی جا سکتی ہے لیکن طویل المدتی تناظر میں اس کے اثرات اچھے نہیں نکلیں گے کیونکہ اس طرح کے اقدامات و اخراجات قومی خزانے پر اضافی بوجھ ثابت ہوتے ہیں، تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کبھی اسی طرح کے اقدامات پر اپنے سیاسی مخالفین کو ہدف تنقید بنایا کرتی تھی۔ مستحق، نادار، پسے ہوئے کمزور طبقات کی زندگی کو خوشحال بنانا اور ان کا معیار زندگی بلند کرنا وزیراعظم عمران خان کا نصب العین، حکومت کی کمٹمنٹ اور ریاست مدینہ کی سوچ کی عکاس وغیرہ جیسی باتیں گھڑنا تو آسان ہوتا ہے تاہم عوام کی زندگی میں حقیقی تبدیلی اور خوشحالی لانے کیلئے اور ان کے معیار زندگی کو بلند کرنے کیلئے مسلسل محنت کی ضرورت ہو گی، ملک کی سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ ملک کی پیداواری صلاحیتوں میں بہتری کے ساتھ اس سفر کا آغاز کیا جانا چاہیے جس کی منزل ملک و قوم کی خوشحالی و آسودہ حالی کے سوا کچھ نہیں۔ ملک کے حکمران کی نیت پر ہمیں کوئی شبہ نہیں نہ کسی کو ہونا چاہیے تاہم صرف نیت سے اس ملک کے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس کیلئے حکمران کی اہلیت، صلاحیت اور قابلیت درکار ہوتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی معاشی ٹیم کو یہ کہہ تو دیا ہے کہ جہاں سے بھی پیسے نکل سکتے ہیں،نکالیں، مگر عوام کو سستی اشیا لازمی فراہم کریں۔ انہوں نے یہ تک کہہ دیا ہے کہ اگر کسی کے پاس خریدنے کی سکت نہیں تو حکومت اسے راشن کے لئے پیسے دے گی۔ یہ سب باتیں اس امر کا ثبوت ہیں کہ وزیراعظم عمران خان پر سب سے بڑا دباﺅ مہنگائی کا ہے، جس سے وہ ہر قیمت پر نکلنا چاہتے ہیں، تاہم ایک بات جو انہیں پیش نظر رکھنی چاہئے کہ جب ملک میں مافیاز کا راج ہوتا ہے، تو حکومت کا ہر قدم اس کے لئے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اگر حکومت مختلف شعبوں سے اربوں روپے نکال کر سستی اشیا فراہم کرنے کی خاطر سبسڈی دیتی ہے تو جو مافیاز سرگرم ہیں، وہ اربوں روپے کی یہ سبسڈی بھی لے اڑیں گے اور حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

Facebook Comments
Share Button