تازہ ترین

GB News

ہیلتھ کیئر کمیشن کے قیام کا اعلان

Share Button

 

وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت صوبے میں پرائیویٹ صحت کے مراکز کے نظام کو بہتر بنانے ، عطائی ڈاکٹروںکے خاتمے اور سرکاری ہسپتالوں کو مزید بہتر بنانے پرخصوصی توجہ دے رہی ہے اس حوالے سے ہیلتھ کیئر کمیشن کا قیام عمل میں لایا جارہاہے۔ آئندہ کابینہ اجلاس اور اسمبلی میں ہیلتھ کیئر کمیشن کا مسودہ پیش کیا جائے۔ حکومت گلگت بلتستان نے جو اصلاحات کی ہیں وفاقی حکومت اور دیگر صوبے ان اصلاحات کی تقلید کررہے ہیں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ گلگت بلتستان کے تمام مسالک کی عبادت گاہوں کے امام اور موذنوں کو ہیلتھ انشورنس میں شامل کیا ہے تاکہ باعزت علاج و معالجے کی سہولت فراہم کی جاسکے۔ صوبے کے باسٹھ ہزار سرکاری ملازمین کی بہتری اور بے ضابطگیوں کے خاتمے کیلئے ہیلتھ اور لائف انشورنس کی پالیسی متعارف کرائی جارہی ہے۔ سرکاری ملازمین کی ہیلتھ اور لائف انشورنس سے صوبے کے تمام سرکاری ملازمین کو بہتر طبی سہولیات جدید ہسپتالوں میں میسر آئیں گے۔ وزیر اعلی نے سیکرٹری سروسز، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری صحت اور سیکرٹری قانون کو سرکاری ملازمین کی ہیلتھ اور لائف انشورنس کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کے حقوق کے تحفظ کا خاص طور پر خیال رکھا جائے۔ہیلتھ کیئر کمیشن کا قیام ایک اہم پیشرفت ہے یہ کمیشن تقریبا تمام صوبوں میں ہیں لیکن ان کی کارکردگی تسلی بخش نہیں اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنا فوکس ادارے بنانے کی بجائے عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے پر مرکوز رکھا جائے’ ہمارے ہاں شعبہ صحت کا شمار ایسے شعبوں میں ہوتا ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں، دنیا کے 188 ممالک کی فہرست میں صحت کے حوالے سے 149 ویں نمبر پرموجود اسلامی جمہوریہ پاکستان میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں شہری علاج معالجے کی معیاری سہولیات سے محروم ہیں۔ کسی بھی ملک میں صحت کی سہولت، بنیادی انسانی حقوق میں سے ایک تصور کی جاتی ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کو علاج معالجے کی سستی اور معیاری سہولیات فراہم کرے ۔ دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک میں حکومتیں اپنے عوام کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کیلئے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ مختص کرتی ہیں۔ جبکہ ہمارے ملک میں جن بڑ ے شہروں میں اچھے سرکاری ہسپتال موجود ہیں وہ پورے ملک کی آبادی کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے تو کیا بلکہ ان شہروں میں رہائش پذیر شہریوں کو بھی معیاری علاج فراہم کرنے کی استعداد نہیں رکھتے۔یہاں ادویات ہیں اور نہ مطلوبہ تعداد میں ڈاکٹر، جو ہیں وہ بھی اپنا کام احسن طریقے سے انجام دینے سے قاصر ہیں۔ معمولی علاج اور ٹیسٹ کے لئے تاریخوں پر تاریخیں دی جاتی ہیں، سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر مریضوں کو پرائیویٹ لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کا مشورہ دیتے ہیں ، نتیجتا انسانیت ہسپتالوں کی راہداریوں میں سسکتی رہتی ہے۔شعبہ صحت کی سنگین صورتحال پر ہر دور حکومت میں حکمران اس شعبہ کی بدحالی کا رونا روتے ہوئے اس کی بحالی کے لئے انقلابی اقدامات کے دعوے کرتے نظر آئے لیکن حقائق ہمیشہ اس کے برعکس رہے۔ موجودہ حکمران بھی شعبہ صحت کی بحالی میں کس قدر سنجیدہ ہیں اس کا اندازہ ہیلتھ بجٹ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔سرکاری ہسپتالوں سے بھاری تنخواہیں اور مراعات لینے کے باوجود ہر اچھے ڈاکٹر کا ایک پرائیویٹ کلینک بھی لازمی ہو تا ہے، سرکاری ہسپتال میں مریض کو کہہ دیا جاتا ہے کہ تمہارے مرض پر خصوصی توجہ اور تشخیص کی ضرورت ہے جو شام کو پرائیویٹ کلینک پرحاصل کی جاسکتی ہے ، جہاں مجبور مریض سے بھاری فیس لینے کیلئے عملہ تیار ہوتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں ہڈی پسلی ٹوٹے مریض کی طرف بھی کوئی توجہ نہیں دیتا ، مہلک بیماریوں جیسا کہ شوگر، ہیپاٹائٹس ، ٹی بی وغیرہ کو تو بالکل یتیم شعبہ جات تصور کیا جاتا ہے۔جبکہ دور افتادہ پسماندہ علاقوں اور دیہات وغیرہ میں تو لوگ علاج کی جدید سہولیات سے یکسر ہی محروم اور نیم حکیم قسم کے معالجوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹروں کے نسخے اس انداز میں تحریر کئے جاتے ہیں جو پڑھے ہی نہیں جاسکتے، بیشتر نسخوں پر مرض کی تشخیص نہیں لکھی جاتی۔ سوال یہ ہے کہ اگر ڈاکٹروں کا تحریر کردہ نسخہ ہی جدید طبی اصولوں کے معیار پر پورا نہ اترتا ہو تو اس کو استعمال کرنے والے مریض کی صحت کی ضمانت کیسے دی جاسکتی ہے؟یقینا ان سنگین کوتاہیوں کے جاری وساری رہنے میں کسی ایک شعبہ کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا ، سب سے بڑھ کر یہ ذمہ داری ان سرکاری اداروں کی ہے جن کے فرائض منصبی میں شامل ہے کہ وہ شہریوں کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے ۔اس کے علاوہ جعلی ادویات کا کاروبار بھی زور وشور سے جاری ہے، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں آئے روز ایسی خبریں نمایاں انداز میں شائع ہوتی رہتی ہیں، مگر تاحال شہریوں کی زندگی سے کھیلنے والے کسی گروہ کو اس طرح نشان عبرت نہیں بنایا جاسکا جو دوسروں کے لیے مثال بن سکے۔ بدقسمتی سے فضائی آلودگی، ناقص خوراک ، زہریلے سپرے والی سبزیاں ،برائلر گوشت اورخراب پانی کی وجہ سے مہلک بیماریوں کا مریض ہر گھر میں پایا جاتا ہے۔ ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ آبادی شوگر یا ذیابیطس جیسے مہلک مرض کا شکار ہے، شوگر جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ موت دیتی ہے یا موت جیسی زندگی۔ پاکستان جیسے کم سہولیات والے ملک میں یہ فقرہ کسی حد ت تک درست معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی سفید پوش شخص کو علم ہوتا ہے کہ اس کو شوگر یا ہیپاٹائٹس بی سی وغیرہ کا مہنگا مرض لاحق ہو گیا ہے تونہ صرف وہ بلکہ اس کے رشتہ دار ، ماں باپ ، بیوی بچے جیتے جی ہی مر جاتے ہیں۔ہمارے ہاں شعبہ صحت طویل عرصے سے نظر انداز کیا جارہا ہے اور یہ رجحان اس کے باوجود جاری وساری ہے کہ مہذب دنیا میں اس شعبہ کو کلیدی اہمیت دی جاتی ہے۔ہماری بدقسمتی ہے کہ حزب اقتدار کے علاوہ حزب اختلاف کو بھی پروا نہیں کہ وہ شہریوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات کا تدارک کرنے کے لیے عملی طور پر موثر کردار ادا کریں۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 38کے الفاظ کے مطابق ریاست کا بنیادی فرض ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو بلاامتیاز مذہب، جنس ،ذات ، عقیدہ اور نسل، زندگی کی بنیادی ضرورتوں بشمول صحت اور علاج معالجہ کی سہولتوں کو یقینی بنائے اسکے علاوہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے انسانی صحت سے متعلق ملینیم چارٹر پردستخط کئے ہیں جسکے تحت ہر مہذب ریاست کا فرض ہے کہ وہ عوام کو صحت عامہ کی بہتر سہولتوں سے مستفید کرے، شہریوں کو صاف ستھرا ماحول، صاف پانی اور ملاوٹ سے پاک خوراک فراہم کرنے کے علاوہ غربت کے خاتمے کا بندوبست کردے کہ شہری کم سے کم بیمار ہوں، کیونکہ صحت مند افراد ہی قوم کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کے قابل ہوتے ہیں ۔ہمارے ہاں ہسپتالوں، ڈاکٹروں اور صحت کیلئے کم بجٹ کا سامنا ہے لیکن ان سب سے زیادہ ہمیں شعبہ صحت میں شفافیت کی ضرورت ہے۔ بجٹ کم ہے لیکن اگر اس کا غلط استعمال روک دیا جائے تو کافی حد تک ریلیف مل سکتا ہے۔علاج گاہیں کم ہیں لیکن پہلے سے موجود ہسپتالوں میں بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا کر بہتری لائی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹر، پیرامیڈیکل و دیگر سٹاف کم ہے لیکن موجودہ افرادی قوت کی جدید تقاضوں کے مطابق ٹریننگ اور مراعات میں اضافہ سے بڑی حد تک مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ شعبہ صحت کے بجٹ میں مناسب اضافہ کرتے ہوئے شہریوں کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں اور سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس پر مکمل پابندی عائد کی جائے ۔سب سے بنیادی ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ عوام پر لگایا جائے۔ نیشنل ہیلتھ سسٹم کی طرز پر ہر شہری کو صحت کی یکساں اور مفت سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ پورے ملک میں ہسپتالوں کا جال پھیلایا جائے۔ گائوں میں بھی شہروں جیسی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے۔ میڈیکل کالجوں میں جس کوٹے پر طلبہ کا داخلہ ہو اسی علاقے میں کام کرنے کی شرط بھی رکھی جا سکتی ہے۔ پرائیویٹ پریکٹس پر پابندی ہونی چاہیے یا اگر یہ ممکن نہ ہو تو سرکاری ہسپتالوں میں ہی شام کے اوقات میں مناسب فیس پر پریکٹس کی اجازت ہونی چاہیے۔ ڈاکٹروں اور عملے کو عالمی معیار کی تنخواہیں اور سہولیات دے کر موثرقانون سازی کے ذریعے ہڑتالوں اور بلیک میلنگ کا خاتمہ کیا جانا چاہیے۔ دوائوں کا عمدہ معیار یقینی بنانے کے لئے ملٹی نیشنل اور اچھی شہرت کی حامل چند کمپنیوں کو ہی ادویہ سازی کی اجازت ہونی چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہیلتھ کیئر کمیشن ضرور قائم کیا جائے لیکن جس مقصد کیلئے اس کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے یہ محض ایک ادارہ بن کر نہ رہ جائے بلکہ حقیقی معنوں اپنے قیام کے مقصد کو پورا کرے۔

Facebook Comments
Share Button