تازہ ترین

GB News

ہسپتالوں اور ڈسپنسریز کے اچانک دورے کریں،وزیر اعلیٰ کی صوبائی سیکریٹری صحت، ڈائریکٹر اور ڈی ایچ اوز کو ہدایت

Share Button

گلگت (پ ر)وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے صوبائی سیکریٹری صحت، ڈائریکٹر اور ڈی ایچ اوز کو ہدایت کی ہے کہ ہسپتالوں اور ڈسپنسریز کے اچانک دورے کریں۔ دفتری اوقات میں سٹاف کی حاضری کو یقینی بنایا جائے۔ غیرحاضر سٹاف کو شوکاز نوٹسز دیئے جائیں اور سخت کارروائی کی جائے۔ ہسپتالوں میں سٹاف کی عدم حاضری کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ہسپتالوں اور صحت کے مراکز کو بھرپور وسائل فراہم کئے ہیں۔ بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔ جو سٹاف دفتری اوقات میں غیر حاضر پائے جائے ان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں ہسپتالوں کیلئے 15 نئی ڈائیلسسز مشینیں، الٹراسائونڈ مشیر، 3نئے سی ٹی سکین مشین، انڈسکوپی مشین جن کی مجموعی لاگت تقریباً 50کروڑ روپے کے جدید مشینری کی خریداری کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حفیظ الرحمن نے کہا کہ پیپرا قوانین پر عملدرآمد کرتے ہوئے مقررہ مدت میں جدید طبی آلات کی خریداری اور تنصیب کے عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو بہتر صحت کے سہولیات کی فراہمی ممکن ہو۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے صوبائی کیپٹن ہسپتال (ڈی ایچ کیو ہسپتال )ٹراما سنٹر کے کام میں سست روی کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ جاری کام میں تیزی لائی جائے۔ صحت کے تمام زیر تعمیر منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے سپیشل پے سکیل کے تحت سٹاف کی بھرتیوں کو جلد از جلد عمل میں لانے کی ہدایت کی تاکہ ہسپتالوں اور طبی مراکز میں درکار سٹاف کی کمی دور کی جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے صوبے کے ہسپتالوں کیلئے جدید مشینری کی خریداری اور انڈومنٹ فنڈ کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ صحت کا شعبہ انتہائی اہم اور مقدس شعبہ ہے۔ صرف نوکری سمجھ کر کام نہیں کرناچاہئے بلکہ جذبے اور خلوص سے کام کریں تاکہ عوام کی خدمت کی جاسکے۔ صحت کے شعبے کی بہتری کیلئے خصوصی اصلاحات کی ہیں جس کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ عوام کو بہتر طبی سہولیات ان کے دہلیز پر میسر آرہے ہیں۔ کینسر اور کارڈیک ہسپتال جیسے صحت کے بڑے منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ صحت کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیاہے۔ مستحق ،نادار اور محروم طبقے کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے خصوصی اصلاحات کی ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ صوبے کے 62ہزار سرکاری ملازمین کا ہیلتھ اور لائف انشورنس کرایا جارہاہے جس سے سرکاری ملازمین اور ان کے خاندانوں کو بہترین طبی سہولیات میسر آئیگی۔ ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ سے صوبے کے نادار اور مستحق مریضوں کا علاج ملک کے بڑے ہسپتالوں میں مفت علاج کرایا جاسکے گا۔ وزیر اعلیٰ صحت کارڈ کے تحت صوبے کے نادار اور مستحق مریضوںکو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ایک ارب روپے گلگت بلتستان حکومت کو دیئے جس میں سے 20 جدید ڈائیلسسز مشینوں کی خریداری کیلئے رقم پنجاب حکومت کو دی تھی ۔ تبدیلی کے نام پر آنے والی حکومت پنجاب نے گلگت بلتستان کیلئے خریدی گئی ڈئیلسسز مشینیں دینے سے انکار کردیا اور ڈائیلسسز مشینوں کو اپنے اضلاع کے ہسپتالوں میں تقسیم کیا۔ گلگت بلتستان حکومت نئی 15 ڈائیلسسز مشینیں اپنے وسائل سے خرید رہی ہے تاکہ تمام ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز میں ڈائیلسسز کی سہولت مریضوں کو فراہم کیا جاسکے۔ صحت کے شعبے میں جو اصلاحات ساڑھے چار سالوں میں کی ہیں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ صحت کارڈ ، انڈومنٹ فنڈ کا قیام، جدید مشینری کی خریداری، بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ اورسٹاف کی کمی دور کرنے کیلئے سپیشل پے سکیل کے تحت ملازمین کی بھرتی کیلئے منصوبے کی منظوری، کینسر اور کارڈک ہسپتالوں کا قیام ایسے انقلابی اقدامات ہیں جن کی وجہ سے گلگت بلتستان کے عوام کو بہترین طبی سہولیات میسر آئیں گی۔ اجلاس میں محکمہ صحت کی جانب سے 50 کروڑ کی ہسپتالوں کیلئے جدید مشینری کی خریداری اور انڈومنٹ فنڈ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

Facebook Comments
Share Button