تازہ ترین

GB News

ترک صدر کا دورہ پاکستان

Share Button

ترک صدر رجب طیب اردوان، وزیر اعظم عمران خان کی دعوت پہ دوروزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہےں۔وزیراعظم عمران خان نے نور خان ایئربیس پر ترک صدر رجب طیب اردوان اور ان کی اہلیہ امینہ اردوان کا استقبال کیا۔ترک صدر کی آمد کے موقع پر نور خان ایئربیس پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور نور خان ایئر بیس سے لے کر ریڈ زون تک سیکیورٹی ہائی الرٹ تھی‘ازاں بعد ترک صدر اور ان کی اہلیہ وزیراعظم ہاﺅس پہنچے، جہاں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے کی جانب سے ترک صدر رجب طیب اردوان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ترک صدر آج پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے ‘دورہ پاکستان میں رجب طیب اردوان کے ہمراہ ان کے کابینہ اراکین، سینئر حکومتی عہدیداران، معروف ترک کاروباری شخصیات بھی ہیں اور وہ وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ پاکستان ترکی ہائی لیول اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل کے چھٹے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ترک صدر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے ساتھ ساتھ پاکستان ترکی بزنس اینڈ انویسٹمنٹ فورم سے بھی خطاب کریں گے۔ترکی اور پاکستان کے درمیان ایچ ایل ایس سی سی اجلاس میں اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کا بھی امکان ہے۔رجب طیب اردوان دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان اور صدر مملکت عارف علوی سے بھی ملاقات کریں گے۔وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ترکی کو پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ بننے کی دعوت دیے جانے کا بھی امکان ہے۔ وزیراعظم عمران خان ترک کاروباری شخصیات کی جانب سے پاکستان میں کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی منتقلی کے منصوبوں میں تعاون کے خواہاں ہیں۔ترک صدر کے دورے میں پاک ترک دفاعی شعبے خصوصا ٹی ٹی 129ہیلی کاپٹر کی پیش رفت کا امکان ہے۔پاکستان اور ترکی کے مابین ٹی129 لڑاکا ہیلی کاپٹرز کا معاہدہ موجود ہے۔ترکی پاکستان کو 30لڑاکا ہیلی کاپٹرز فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان اور ترکی کے درمیان ڈیڑھ ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت پاکستان ترکی سے30 عدد T129 ATAK ہیلی کاپٹر خریدے گا۔ یہ ہیلی کاپٹر76 میزائلوں سے لیس کیا جاسکتا ہے اور کافی بلندی تک پرواز کر سکتا ہے۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان اس دفاعی معاہدے کو ماہرین دو دوست ملکوں کے درمیان ایک سہولت قرار دے رہے ہیں۔ترکی ہیلی کاپٹرز کے انجن اور دیگر آلات کی مقامی سطح پر تیاری کے لیے بھی کوشاں ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہمیشہ ایجنڈے کا حصہ رہا ہے۔پاکستان کے ساتھ دفاع اور دفاعی پیداواری شعبے میں تعاون کو ہر سطح پر فروغ دیا جائے گا۔جبکہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دو طرفہ معاہدوں پر پیش رفت کو یقینی بنانے کے لئے وزیرِ اعظم نے وزیر برائے اقتصادی امور کو ذمہ داری سونپ دی۔ پیر کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ترک صدر رجب طیب اردگان کے دورہ پاکستان کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس بھی ہوا جس میں وزیرِ برائے اقتصادی امور حماد اظہر، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داود، متعلقہ وزارتوں کے وفاقی سیکرٹری صاحبان اور سینئر افسران شریک ہوئے ۔ ترک صدر رجب طیب اردگان کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ملکوں کی درمیان مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعلقات و تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان اور ترکی کے برادارانہ تعلقات تاریخی اہمیت کے حامل ہیں اور دونوں ممالک مشکل کی ہر گھڑی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ترکی نے مسئلہ کشمیر پر جس واضح انداز میں پاکستان کے اصولی موقف کی حمایت کی ہے وہ لائق تحسین ہے۔دونوں ملکوں کی قیادت کی مخلصانہ کوشش ہے کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان ہر شعبے میں دو طرفہ تعلقات خصوصا معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے۔وزیرِاعظم نے کہاکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور مختلف شعبہ جات میں تعاون کو فروغ دینے میں ترک صدر کا دورہ اہم سنگ میل ہوگا۔وزیرِ اعظم نے متعلقہ وفاقی سیکرٹری صاحبان کو ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ اعلی سطحی دورے کے دوران طے پانے والے معاملات پر عمل درآمد اور انکوپایہ تکمیل تک پہنچانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان دو طرفہ معاہدوں پر پیش رفت کو یقینی بنانے کےلئے وزیرِ اعظم نے وزیر برائے اقتصادی امور کو ذمہ داری سونپ دی۔ وزیراعظم نے وزیربرائے اقتصادی امور کوہدایت کی کہ طے پانے والے امور میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے ہر ماہ جائزہ اجلاس منعقد کیا جائے۔پاک ترک پاک دوستی دنیا کی انمول ترین دوستی کا شاہکار ہے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ،انتہائی گرمجوش اور مضبوط ہیں اور ترکی نے ہمیشہ پاکستان کی اخلاقی و سفارتی حمایت اور مدد کی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھی ترکی نے ہمیشہ بھارتی بربریت کے خلاف آواز اٹھائی ،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم اور ترک میں دہشت گردی کی تازہ لہر پر وزیر اعظم عمران خان نے طیب اردگان سے تشویشناک صورتحال پر ٹیلی فونک بات کی تھی انہیں حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے ترکی کے خدشات کو سمجھتا ہے ہم ترکی کو در پیش چیلنجز کا مکمل ادراک رکھتے ہیں۔پاکستان ہمیشہ ان کی طرح ہی ساتھ ہے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بھارت کے غیر قانونی اقدام سے علاقائی امن اور سیکےورٹی کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں جواب میں ترک صدر نے مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی تھی کہ ترکی اس حساس معاملے پر اپنی حمایت ہر فورم پر جاری رکھے گا،پاکستانی حکومت اور عوام ان کے دورہ پر گرم جوش استقبال کے لئے منتظر ہیں اور اب وہ وقت آن پہنچا ہے۔دونوں رہنماﺅں کے درمیان یہ تیسری ملاقات ہو گی اس سے قبل جینیوا میں جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر پناہ گزینوں سے متعلق پہلے عالمی فورم کے موقع پرملاقات ہوئی ایک ملاقات عمران خان کے دورہ ترکی کے دوران ہوئی جو رواں سال کیاگیااس دورہ کے موقع پر عمران خان سب سے پہلے ترکی شہر قونیہ پہنچے جہاں ان کاگورنر قونیہ ،نائب میئر ،پاکستانی سفیر اور ترکی کے دیگر سینےئر حکام نے ائیر پورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا تھا‘وزیراعظم کے ساتھ سابق وزیر خزانہ اسد عمر،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی،وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار،مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅدسمیت اعلی سطحی وفد شامل تھا۔عمران خان نے شہر قونیہ میں حضرت جلال الدین رومی کے مزار پر بھی حاضری دی ،مولانا رومی کا شمار دنیا کے عظیم صوفی بزرگوں میں ہوتا ہے ،مولانا رومی شاعر مشرق حضرت ڈاکٹر علامہ اقبال کے روحانی پیشوا تھے ان کے مزار کے احاطہ میں علامہ اقبال میں علامتی قبر بھی بنائی گئی ہے ۔دوسرے روز انقرہ میں عمران خان نے ترک صدر کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی تھی اس دورہ کے دوران مشترکہ اسٹریٹجک فریم ورک بنانے پر اتفاق،سرمایہ کاری ،مختلف فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے،متنازع کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زوردیا ۔دو طرفہ تعاون کے تمام شعبوں میں وسعت دینے پر اتفاق ،تجارت اور سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم کرنے،پاکستان اور ترکی کے قومی مفاد کے بنایدی ایشوز پر ایک دوسرے کی مضبوط حمایت ،صحت،تعلیم،سیاحت،زراعت،وفود کے تبادلہ جات اور عوامی سطع پر رابطوں کو فروغ دینے پر اتفاق ہوا تھااور ان سب اتفاقات کئے جانے پر تاحال کام بڑی سرعت سے جاری ہے۔ترکی نے نیو کلئیر سپلائر ز گروپ میں پاکستان کی رکنیت میں حمایت جاری رکھی ہوئی ہے،صدر طیب اردگان نے مسئلہ کشمیر ،قبرص اور مسئلہ فلسطین پر جو کچھ عملی اقدامات اور بیانات دئیے آج تک کسی اور مسلم لیڈر نے نہیں کئے،طیب اردگان اور مہاتیر محمد کا ہی پلان ہے کہ مغرب کے مقابلے میں اسلام فوبیا کے خلاف سرکاری ٹی وی چینل کا قیام عمل میں لایا جائے ۔طیب اردگان نے اس وقت کہا تھا کہ عمران خان پاکستان میں تبدیلی کے لئے طویل جدوجہد کے بعد اقتدار میں آئے ہیں،ترک صدر کے اس دورے کو عالمی سطع پر انتہائی باریک بینی سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے مسلم امہ کی بہتری و ترقی کے لئے مزید اقدامات کا تعین کیا جانا یقینی ہے ۔

Facebook Comments
Share Button