تازہ ترین

GB News

پاک ترک دوستی کا نیا باب رقم، اہم معاہدوں کی تیاری

Share Button

ترک صدر رجب طیب اردوان دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔ ترک صدر کے طیارے نے نور خان ایئر بیس میں ساڑھے چار بجے لینڈ کیا، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردوان اور ان کی اہلیہ کا ریڈ کارپٹ استقبال کیااور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا جبکہ طیارے سے اترنے پر ترک صدر کو باوردی اہلکاروں نے سلامی پیش کی۔ترک صدر کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد، سینئر حکام اور کابینہ ارکان موجود تھے۔ وزیراعظم عمران خان نور خان ایئر بیس سے ترک صدر کو خود گاڑی چلاتے ہوئے وزیراعظم ہاﺅس لائے جہاں پر ترک صدر کو مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ ترک صدر کے دورے میں وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر کی ون ٹو ون ملاقات ہوئی۔صدر ڈاکٹر عارف علوی اور ترک ہم منصب رجب طیب اردوگان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔جمعرات کو ترک صدررجب طیب اردوان کی اہلیہ کے ہمرا ہ ایوان صدر آمد،صدر مملکت نے پرتپاک استقبال کیا،صدر ڈاکٹر عارف علوی اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بعدازاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے ترک صدر کے اعزازمیں پرتکلف عشائیہ دیا گیا جس میں ترک صدر کے ہمراہ آنے والے وفد ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت عسکری حکام، وفاقی کابینہ ، پارلیمنٹ کے ارکان اور اعلیٰ سرکاری افسران سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی ۔ترک صدر کے دورے کے حوالے سے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون پر مبنی گہرے تعلقات ہیں۔ ترکی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتا ہے۔ترک صدر کے دورے کے حوالے سے بیان میں کہا گیا ہے کہ سائپرس کے معاملے پر پاکستان ترکی کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان ترکی کیساتھ سٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا اور وسیع کرنے میں کردار ادا کرے گا۔دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ترکی اقتصادی تعلقات کو مزید بہتر بنانے پر زور دیتے ہیں۔ پاکستان اور ترکی اسلامو فوبیا سے نمٹنے اور اسلامی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ عزم رکھتے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب ا±ردوگان آج دن 11 بجے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ ترک صدر کے خطاب کے لیے تمام تر انتظامات مکمل ہو چکے ہیں۔ مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لیے مہمانوں اور میڈیا کے نمائندوں کو خصوصی دعوت نامے جاری کیے گے ہیں۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ، گورنرز، صدر، وزیراعظم اور سپیکر آزاد کشمیر کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔اجلاس میں غیر ملکی سفیروں ، مسلح افواج کے سربراہان کو بھی خصوصی دعوت نامے جاری کیے گئے ہیں۔ مشترکہ اجلاس میں چیف جسٹس آف پاکستان، چیف الیکشن کمشنر اور گورنر سٹیٹ کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ ترک صدر اور وزیراعظم مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے اس کے علاوہ دونوں رہنما پاک ترک بزنس اینڈ انوسٹمنٹ فورم سے بھی خطاب کریں گے دورے کے دوران دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط ہوں گے۔ادھر پاکستان،ترکی کے مابین دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مستحکم کرنے کے لئے مشترکہ ورکنگ گروپ براڈ اسٹریٹجک معاشی فریم ورک کے اجلاس میں ابتدائی ٹائم فریم میں ہوائی جہازوں کی بحالی ، تربیت اور ہوائی اڈوں کے کاموں کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے ،قومی ہوا بازی پالیسی 2019 کی روشنی میں ہوائی نقل و حمل اور فضائی خدمات کے معاہدے کا جائزہ لیتے ہوئے باہمی راستوں کی تلاش پر باہمی اتفاق کیا گیا۔ جمعرات کو پاکستان اور ترکی کے مابین دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مستحکم کرنے کے لئے مشترکہ ورکنگ گروپ براڈ اسٹریٹجک معاشی فریم ورک کا اجلاس ہوا۔سینئر جوائنٹ سکریٹری ایوی ایشن ڈویژن عبد الستار کھوکھر اور ڈپٹی ڈی جی (ریگولیٹری) سول ایوی ایشن اتھارٹی ائیر کموڈور سید ناصر رضا ہمدانی نے پاکستان،ترکی مشترکہ ورکنگ گروپ کے چوتھے اجلاس کو پی آئی اے اور پیگاسس کے مابین کوڈ شیئرنگ معاہدے سے متعلق آگاہ کیا۔اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ ترک جہازوں کے ذریعہ اضافی پروازوں کی درخواست پر کارروائی کی گئی ہے۔دونوں فریقوں نے ابتدائی ٹائم فریم میں ہوائی جہازوں کی بحالی ، تربیت اور ہوائی اڈوں کے کاموں کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔قومی ہوا بازی پالیسی 2019 کی روشنی میں ہوائی نقل و حمل اور فضائی خدمات کے معاہدے کا جائزہ لیتے ہوئے باہمی راستوں کی تلاش پر بھی باہمی اتفاق کیا گیا۔دوسری جانب جمہوریہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے دورہ پاکستان کے موقع پر ، وزارت تجارت و تجارت ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان نے پاکستان ترکی بی ٹو بی نیٹ ورکنگ سیشن کا انعقاد کیا جس میں تر کی کے انجینئرنگ ، توانائی ، سیاحت ، تعمیرات ، دفاع ، آٹوموٹو ، کیمیکلز ، آئی ٹی سمیت دیگر شعبوں کے اہم کاروباری نمائندوں نے شرکت کی، صدر ایف پی سی سی آئی اور پاکستان ترکی بزنس کونسل کے چیئرمین نے خطاب کیا، مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅد نے نیٹ ورکنگ تقریب کا دورہ کرکے تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا ۔اس اقدام کا مقصد ترکی اور پاکستان کے تاجروں کو ایک ہی چھت کے نیچے لانا تھا تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے طریقوں کو تلاش کیا جاسکے۔ترک بزنس کے وفد میں انجینئرنگ ، توانائی ، سیاحت ، تعمیرات ، دفاع ، آٹوموٹو ، کیمیکلز ، آئی ٹی سمیت سیکٹروں کے اہم کاروباری نمائندے شامل تھے۔

Facebook Comments
Share Button