تازہ ترین

GB News

سیاسی مجبوری پہلے تھی نہ اب ہے، آئینی حقوق کی بات کرتے رہیں گے، ڈاکٹر اقبال

Share Button

وزیرتعمیرات عامہ ڈاکٹرمحمداقبال نے کہاہے کہ کہ آئینی حقوق کے معاملے پرہروقت کھل کربات کی ہے۔آئندہ بھی کریں گے اگرکوئی سیاسی مجبوری میں یامصلحت کاشکارہوکرآئینی حقوق کامطالبہ نہیں کرتا ہے تو ہم کیاکرسکتے ہیں ہماری پہلے کبھی کوئی سیاسی مجبوری تھی اورنہ آئینی کوئی مجبوری رہے گی آئینی حقوق کے لئے بات کرنا ہم اپناسیاسی فریضہ سمجھتے ہیں اس فرض کوآئندہ بھی اداکرتے رہیں گے۔کوئی ہمیں آئینی حقوق کامطالبہ کرنے سے روک نہیں سکتا۔کے پی این سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب آئینی حیثیت کے تعین کے لئے اسمبلی میں قراردادپیش کی گئی توتمام اراکین نے حمایت کی اورآئینی حقوق کی قراردادکی متفقہ طورپرمنظوری دی گئی۔بعدمیں آل پارٹیزکانفرنس نے اسمبلی کی قراردادوں کی توثیق کی،صوبائی اسمبلی نے وفاق سے گلگت بلتستان کومکمل طورپر آئینی صوبہ بنانے اور پارلیمنٹ میں نمائندگی دینے کامطالبہ کیاآج اگرکوئی سیاسی مجبوری میں آئینی حقوق کے مسئلے پر آگے نہیں آرہا ہے تو ہم کیاکہہ سکتے ہیں؟آئینی حقوق معاملے پر تمام وزراءاوراپوزیشن اراکین ہمارے ساتھ ہیں ہماری کوئی سیاسی مجبوری نہیں ہے تمام اراکین اسمبلی نے گزشتہ روزاسلام آباد میں قانون سازاسمبلی کے سپیکرحاجی فداناشاد کے ساتھ پریس کانفرنس کرکے آرڈر2020کومستردکرتے ہوئے گلگت بلتستان کوآئینی حقوق دینے کامطالبہ کیاہے۔کسی کی مخالفت سے ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے ہم ہرفورم پرآئینی معاملے پر کھل کربات کرتے رہیں گے۔ہمارانشانہ کوئی پارٹی یاشخصیت نہیں ہے انہوں نے کہا کہ جب2015ءمیں صوبائی اسمبلی کے انتخابات نہیں ہوئے تھے اورنوازشریف گلگت آئے تو سریناہوٹل میں ملاقات کے دوران میں آئینی معاملہ اٹھایا اورکہا کہ آئینی حقوق نہ ملنے کے باعث نوجوان نسل بہت مایوس ہے۔مےرے مطالبے کے پارٹی کے تمام لوگ گواہ ہیں انہوں نے کہا کہ کمیٹیاں بنتی ٹوٹتی رہی ہیں مگر کمیٹیوں کی سفارشات پرتاحال عمل درآمد نہیں کیاگیاآئینی حقوق کی عدم فراہمی کے باعث بھارت کے وزیراعظم نریندرمودی کوگلگت بلتستان کانام لینے کاموقع ملا۔یہ موقع ہم نے نہیں پاکستان کے حکمرانوں نے دیا ہے اگرہمیںآئینی حقوق فراہم کئے جاتے تومودی کوگلگت بلتستان کانام لینے کی کبھی جرات نہ ہوتی۔ہم اس وقت تک ایک درجے کے شہری نہیں کہلائیں گے جب تک ہمیں مکمل آئینی حقوق نہیں دےئے جاتے۔72سال گزرنے کے باوجود ہمیں مسئلہ کشمیر کی آڑمیں حقوق سے محروم رکھاگیا ہے ہم بھی آخر انسان ہیں ہمیں کب تک آئینی حقوق سے محروم رکھاجائے گا۔ آئینی حقوق ایک فرقے،پارٹی یاعلاقے کامسئلہ نہیں ہے یہ ہمارا مشترکہ مسئلہ ہے آئینی حقوق ملیں گے تو فائدہ سب کاہوگا۔ڈپٹی سپیکر جعفراللہ خان اورجے یوآئی کے صوبائی رہنما مولاناعطاءاللہ شہاب کابھی آئینی حقوق کے معاملے پرحالیہ بیان سامنے آگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے چھوٹے چھوٹے مفادات اورمصلحتوں کی وجہ سے 72سال گزرنے کے باوجود آئینی حقوق نہیں ملے ہیں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام چاہتے ہیں کہ انہیں بھی وہ تمام مراعات دی جائیں جو ملک کے چاروں صوبوں اور فاٹا کے عوام حاصل کررہے ہیں کتنے افسوس کامقام ہے کہ کوئٹہ کابندہ سینیٹ کا چیئرمین بن سکتا ہے فاٹا کابندہ اسمبلی کاممبربن سکتا ہے مگریہ ہم ہی ہیں جو کسی کھاتے میں بھی نہیں ہیں ہمارے ساتھ اذیت ناک سلوک روارکھا جارہا ہے۔

Facebook Comments
Share Button