تازہ ترین

GB News

گرفتار ہوا تو میری آواز آصفہ بنیں گی، بلاول نیب میں پیش

Share Button

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹور زرداری نیب راولپنڈی کے دفتر میں پیش ہوئے جہاں ان سے ایک گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ 32 سوالات پر مشتمل ایک اور سوالنامہ بھی تھما دیا گیا۔بلاول بھٹو زرداری نے ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی کی سربراہی میں چار رکنی تحقیقاتی ٹیم کے روبرو بیان ریکارڈ کرایا۔نجی ٹی وی کے مطابق نیب نے بلاول بھٹو سے زرداری گروپ آف کمپنیز سے متعلق سوالات کئے۔ بلاول بھٹو سے پوچھا گیا کہ کیا آپ زرداری گروپ آف کمپنیز کے ڈائریکٹر ہیں ؟۔ بلاول بھٹو جوائنٹ وینچر اپل سے متعلق نیب کو مطمئن نہ کر سکے اور نیب کی جانب سے طلب کی گئی بعض دستاویز بھی فراہم نہ کیں۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیشی کے موقع پر بلاول بھٹو بیشتر سوالوں کے تحریری جواب دینے پر اصرار کرتے رہے جس پر نیب نے سوالنامہ دیتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک سال سے زائد عرصہ قبل چیف جسٹس پاکستان نے کہا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری بے گناہ ہے اس کے باوجود میں آج ان اتھارٹیز کے سامنے پیش ہوا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ میں ماضی میں بھی ان کے سوالناموں کے جواب دے چکا ہوں، مئی میں ہونے والی آخری پیشی میں سوالنامہ دیا گیا تھا جس کے بعد نیب کو کوئی اعتراضات نہیں تھے لیکن دسمبر میں اچانک پتہ نہیں کیا ہورہا تھا کہ 20 دسمبر کو نیب کی جانب سے پہلا نوٹس بھیجا گیا، پھر مجھے نہیں بلایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ جب کراچی میں ہم نے اعلان کیا کہ مارچ سے ملک کی معاشی صورتحال، مہنگائی، پی ٹی آئی اور ایم ایف ڈیل کے خلاف جدوجہد کا آغاز کریں گے تو فورا بعد ایک اور نوٹس آتا ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم اداروں اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہیں جب وہ صحیح کرتے ہیں اور جب وہ غلط بھی کرتے ہیں تب بھی ہم ان کا احترام کرتے ہیں اس لیے اپنے اعتراضات کے باوجود میں آج یہاں پیش ہوا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ میرے اعتراضات صرف یہ نہیں ہیں کہ چیف جسٹس نے کہا کہ میں بے گناہ ہوں لیکن سپریم کورٹ نے مراد علی شاہ سے متعلق بھی حکم دیا تھا اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے وکیل بھی مانتے ہیں کہ ان کی تجزیات غلط تھے ان کا دوبارہ جائزہ لینا پڑے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے جس الزام میں بلایا جارہا تھا، یہ جانتے ہیں کہ میں کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں تھا اور اگر ہوتا بھی تو زرداری اور بحریہ ٹاو¿ن کمپنی کے درمیان جو پرائیویٹ ٹرانزیکشن ہورہی ہے اس میں نیب کا کیا تعلق ہے؟اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ میں اس وقت کسی سرکاری عہدے پر نہیں تھا تو نیب کا کیا تعلق ہے کہ مجھے بلایا جائے اور مجھ سے پوچھا جائے جب میں نے ان سوالوں کے جواب پہلے بھی دیے ہیں، پیش ہوا ہوں اور سوالناموں کے جواب بھی دیے ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ میرا مو¿قف کل بھی وہی تھا، آج بھی وہی ہے اور رہے گا کہ میں بے گناہ ہوں چیف جسٹس نے کہا کہ میں بے گناہ ہوں، میرے ایکشنز بھی بتاتے ہیں کہ میں بے گناہ ہوں اور یہ جو سیاسی انتقام اور کردار کشی کی مہم ہے جس سے وہ چاہتے ہیں کہ جمہوری سیاست دانوں کو بدنام کریں اسے ہم کافی دیر سے دیکھ رہے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری غلط فہمی تھی اور ہم نے سوچا تھا کہ نیب والے ایک سال کے بچے پر کیس نہیں بنائیں گے، میں 7 سال کا تھا جب اس کمپنی کا شیئر ہولڈر بنا تھا، ہمیں یہ امید نہیں تھی کہ جب چیف جسٹس نے پورے ملک کے سامنے کہہ دیا تھا تب بھی یہ سیاسی انتقام جاری رہے گا۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ انہیں یہ پتہ نہیں کہ دباو¿ کے باوجود ہم اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے خاص طور پر اس وقت اس ملک کے غریب عوام پِس رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اس پی ٹی آئی اور ایم ایف کے بجٹ کو نہیں مانتے اور اس ملک کے عوام بھی نہیں مانتے، ہم اس بجٹ کو پھاڑ کر اڑا دیں گے آپ نے اس ملک کے عوام، مزدوروں، کسانوں، چھوٹے دکانداروں اور چھوٹے تاجروں کا معاشی قتل کردیا ہے اور پھر ہم سب کو کہتے ہیں کہ قبر میں سکون ملے گا۔ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ اتنا ہی اہمیت کا حامل ہے جتنا قائد ایوان کا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ معاشی معاملات ہوں، قومی مفاد، کشمیر، دہشت گردی اور حکومت کے معاملات ہوں قومی اسمبلی میں دونوں ہی موجود نہیں ہوتے جس سے ملک کی سیاست اور جمہوریت پر بہت اثر پڑتا ہے امید ہے کہ اپوزیشن لیڈر جلد اس ملک میں موجود ہوں گے اور اپنا کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مارچ کے مہینے میں چاہے وہ مارچ، سیمینارز یا تحریک کی شکل اختیار کرے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر مجھے گرفتار کیا گیا، جو غیرقانونی ہے لیکن یہ حکومت کچھ بھی کرسکتی ہے، تو پاکستان پیپلز پارٹی جانتی ہے کہ جدوجہد کیسی ہوتی ہے اور اگر میں گرفتار ہوتا ہوں تو میری آواز آصفہ بھٹو زرداری ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بار کونسل (پی بی سی) نے اپنے بیان میں میری طلبی کے نوٹسز اور حکومت کی جانب سے سیاسی انتقام کی مذمت کی اور ہم سراہتے ہیں کہ وکلا برادری قانون اور جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہورہی ہے اور سیاسی انتقام کے خلاف اپنی آواز بلند کررہی ہے۔

Facebook Comments
Share Button