تازہ ترین

GB News

پاکستان اور ترکی نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کی13 مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کر دئیے

Share Button

اسلام آباد(آئی این پی) پاکستان اور ترکی نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کی13 مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کر دئیے دونوں ممالک نے اسلاموفوبیا کے خلاف مل کر کام کرنے ، اسٹرٹیجک تعاون کو فروغ دینے، ثقافتی تعلقات سمیت مسئلہ کشمیر، فلسطین سمیت دیگر عالمی تنازعات کے حل کیلئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ترک صدر رجب طیب اردوان نے مقبوضہ کشمیر کی خراب صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ترکی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے ، ہم مقبوضہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پر امن حل چاہتے ہیں۔ شام میں فوجی آپریشن سے متعلق پاکستان اور عوام کی حمایت ملی، ترکی، پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور ہمیشہ کھڑا رہے گا،پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے ، تعلیم ،مواصلات ،صحت ،ثقافت ، سیاحت،ریلوے،دفاعی تربیت،تجارت کاحجم بڑھانے اوردیگر شعبوں میں تعاون اور ان کے فروغ کیلئے13معاہدے ہوئے ہیں جو پاک ترک قریبی تعلقات کا مظہر ہیں ،پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاع، عسکری تربیت کے شعبوں میں تعاون گہری دوستی کا عکاس ہے، پاک، افغان تعلقات کی مزید بہتری کے لیے ہر ممکن معاونت کریں گے، جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کا متنازعہ معاملہ ہے، ترک صدر رجب طیب اردوان کے اقتدار میں آ نے سے پاک ترک تعلقات مزید مضبوط ہوئے اور ان کے دور میں ترکی نے بہت ترقی کی ، ہم ان کے تجربات سے استفادہ حاصل کرینگے ، سیاحت ، تعمیرات کی صنعت،کم قیمت پر گھر بنانے ، کچی آبادی کو ترقی دینے اور ،ملک کو بیرونی قرضوں سے نجات دلانے کے لئے ہم ترکی سے سیکھیں گے ۔ہم ترکی کی عالمی ہر سطح پر مکمل حمایت کرتے ہیں،سیاست کے علاوہ میڈیا کے ذریعے ثقافتی مسائل کا بھی مقابلہ کریں گے اور ترک فلم انڈسٹری سے فائدہ اٹھائیں گے، ترک فلم انڈسٹری کی فلمیں اور ڈرامے مقامی میڈیا پر نشر کیے جائیں گے جو اسلامو فوبیا کی حوصلہ شکنی پر مبنی ہوں گے۔جمعہ کو پاکستان ،ترکی بزنس اینڈ انوسٹمنٹ فورم اور دونوںممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لئے مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کرنے کی تقریب کے بعد وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ سٹریٹجک تعاون کونسل پاک ترک تعاون میں بہت اہم ہے ،پاکستان اور ترکی کے درمیان مختلف شعبوں پر تبادلہ خیال ہوا ہے ،ترکی پاکستان کے ساتھ کل کی طرح آج بھی کھڑا ہے۔دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اعتماد پر وزیراعظم عمران خان کا شکر گزار ہوں ، پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاع، عسکری تربیت کے شعبوں میں تعاون گہری دوستی کا عکاس ہے ۔انہوں نے کہا کہ ترکی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے اور ترکی کو مقبوضہ کشمیر کی خراب صورتحال پر انتہائی تشویش ہے ، افغان تعلقات کی مزید بہتری کے لیے ہر ممکن معاونت کریں گے۔ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ترک صدر اور وفد کا پاکستان آمد پر شکریہ ادا کرتے ہیں ،ترک صدر کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب سے پوری پاکستانی عوام نے سراہا ہے ، آج اگر ترک صدر الیکشن لڑیں تو کلین سویپ کر جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ 80لاکھ سے زائد کشمیریوں کو 9لاکھ بھارتی فوجیوں نے محصور کیا ہوا ہے ،مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام بند ہے ،مسئلہ کشمیر پاکستان اور ہندوستان کا متنازعہ معاملہ ہے اس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا تھا لیکن ہندوستان نے6ماہ سے کشمیریوں کے حقوق معطل کر کے انہیں محصور کیا ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان ہونے والے معاہدوں سے تجارت کے نئے دور کا آغاز ہوگا،اس کا فائدہ دونوں ملکوں کو ہوگا،ہم ہمیشہ ترکی کی حمایت کرتے ہیں ، جس طرح ترکی نے مسئلہ کشمیر ،ایف اے ٹی ایف سمیت عالمی ایشوز پر پاکستان کی حمایت کی اس پر ترکی کے شکر گزار ہیں ۔ترکی کی سیاحت انڈسٹری سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں ،ترکی صرف سیاحت سے 35ارب ڈالر ریونیو حاصل کرتا ہے ،ترکی میں تعمیرات کی صنعت بہت آگے ہے ،ترکی نے کم قیمت پر گھر بنائے ، کچی آبادی کو ترقی دی ،ملک کو بیرونی قرضوں سے آزاد کرایا ،ہم ان سے یہ سب سیکھنا چاہیں گے ۔اس سے قبل ترک صدر رجب طیب اردوان کا پاک ترک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان سے تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر تک لے جائیں گے۔ پاکستان کی ہر ممکن مدد کیلئے تیار ہیں ، میں اور عمران خان اکنامک اسٹریٹجی فریم ورک کا تاریخی معاہدہ کرنے جارہے ہیں۔بہترین مہمان داری پر پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ترک صدر نے کہا کہ اعلیٰ سطح تذویراتی تعاون کونسل کا چھٹا اجلاس دونوں ملکوں کے درمیان ہو گا، توقع ہے کہ پاکستانی قیادت سے ہونے والی ملاقاتیں دوطرفہ تعلقات میں مفید ثابت ہوں گی، اعلیٰ سطح دوروں سے دوطرفہ تعاون کے لئے امکانات سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کا باہمی تجارتی حجم اپنی صلاحیت سے کہیں کم ہے، ہمیں پہلے مرحلے میں دوطرفہ تجارتی حجم کو ایک ارب ڈالر پھر 5ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتے ہیں اور ترکی نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے جبکہ ترکی کو بھی مشکل معاشی حالات کا سامنا تھا، ترکی پر سرکاری قرضہ 72فیصد تھا جسے کم کر32فیصد لائے،ترک حکومت اور عوام نے عزم و ہمت سے اپنی مشکلات پر قابو پایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ دفاعی شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہو رہا ہے، دونوں ملکوں میں ٹرانسپورٹیشن، صحت ، تعلیم توانائی کے شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں، ترک کمپنیاں پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں، ہیلتھ کیئر کے لئے دنیا کے لوگ ترکی کا رخ کرتے ہیں، ترکی نے جدید ہسپتال تعمیر کئے ہیں، ہیلتھ کیئر کیلئے پاکستانی عوام ترکی آسکتے ہیں، ترک صدر نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو ترکی میں سرمایہ کاری کی بھی دعوت دی اور پاکستان کے ساتھ ٹی وی ڈرامہ انڈسٹری اور سیاحت پر مشترکہ منصوبے بنانے کا عزم کا اظہار کیا۔ ترک صدر نے کہا کہ ترک ڈرامہ سیریلز پاکستان میں بے حد مقبول ہیں ہمیں مسلم امہ کیلئے مشترکہ میڈیا پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔قبل ازیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ کشمیر بھی ترکی کیلئے وہی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان کیلئے ہے، کشمیری بھائیوں کو حالیہ بھارتی اقدامات سے بہت نقصان ہوا ، ترکی مسئلہ کشمیر کو امن اور انصاف کے ذریعے حل کرنے کے فیصلے پر قائم ہے،ایف اے ٹی ایف میں دبا ئوکے باوجود پاکستان کو بھرپور تعاون اور حمایت کا یقین دلاتا ہوں،پاکستانیوں نے اپنے پیٹ کاٹ کرکے ہماری مدد کی جسے کبھی نہیں بھول سکتے، ہمارا پاکستان کے ساتھ دل کا رشتہ ہے، پاکستان کا دکھ ہمارا دکھ ہے اور اس کی کامیابی ہماری کامیابی ہے، پاکستان میں کبھی بھی خود کو اجنبی محسوس نہیں کیا، مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں، کوئی بھی فاصلہ یا سرحد مسلمانوں کے درمیان دیوار حائل نہیں کر سکتی،فلسطین، قبرص اور کشمیر کے مسلمانوں کے لیے دعا گو ہیں، شام میں ہماری موجودگی کا مقصد مظلوم مسلمانوں کو جابرانہ حملوں سے بچانا ہے، امریکی صدر ٹرمپ کا مشرق وسطی میں امن کا نہیں بلکہ قبضے کا منصوبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات مذہب اور ثقافت پر مشتمل ہیں، دونوں ملکوں کی قیادت کو یک جا کرنے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، ترک قوم کی جدوجہد کے وقت لاہور میں حمایتی جلسوں کو ہم نہیں بھول سکتے، لاہور جلسے میں علامہ اقبال نے بھی خطاب کیا، پاکستان کے شاعر علامہ اقبال ترک عوام کے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان کی خطے میں دہشتگردی کو ختم کرنے کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ترکی کے سرمایہ کاروں کے بڑے گروپ کے ساتھ یہاں آیا ہوں، تجارت سے لے کر بنیادی ڈھانچے اور سیاحت کے لیے ایک روڈ میپ بنائیں گے، 2009میں قائم اعلی اسٹریٹجک تعلقات پر چھٹا اجلاس کرنے جا رہے ہیں۔پاکستان ترقی اور خوش حالی کے سفر کی جانب رواں دواں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں سے محبت نہیں کریں گے تو اور کس سے کریں گے، پاکستان میں کبھی اجنبی محسوس نہیں کرتا، ہم ترکی کیلئے سجدے میں دعائیں کرنے والوں کیسے فراموش کر سکتے ہیں، پاکستان کے ساتھ تعلقات ہمیشہ قائم رہیں گے۔ خلافت عثمانیہ کے لیے برصغیر کے مسلمانوں کا کردار فراموش نہیں کر سکتے، خواتین نے اپنے زیور اور جمع پونجی عطا کی، مولانا محمد علی جوہر اور شوکت علی جوہر کو کیسے فراموش کر سکتے ہیں۔ پاکستان نے پاک ترک اسکولوں کا نظام ہمارے حوالے کر کے حقیقی دوست کا ثبوت دیا، ہم شام کے 40 لاکھ پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کر رہے ہیں۔

Facebook Comments
Share Button