تازہ ترین

GB News

تشویشناک صورتحال اور ہماری انفرادی و اجتماعی ذمہ داریاں

Share Button

 

یہ حقیقت نہایت تشویشناک ہے کہ ملک بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے’ خطرناک بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اس وبا سے نمٹنے کے لیے نہ مطلوبہ وسائل ہیں اور نہ ہی سہولیات’پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد پانچ سو کے قریب ہو گئی ہے ۔اب تک کرونا وائرس سے تین افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔سندھ میں سرکاری دفاتر بند رکھنے کا نوٹی فکیشن جاری کرنے کے علاوہ تین روز تک گھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں’ جبکہ گزشتہ روز سے شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس اور تفریحی مقامات کو پندرہ روز کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان میں مزید آٹھ مریضوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد وہاں وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد اکیس ہوگئی ہے۔کمشنرگلگت عثمان احمد کے مطابق آٹھوں نئے مریض بھی تفتان کے راستے16 مارچ کوگلگت بلتستان پہنچے تھے ۔ دریں اثناء کروناوائرس سے لڑنے کیلئے گلگت بلتستان حکومت نے وفاق کی مدد سے اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان حکومت کو کرونا کے خلاف تعاون فراہم کیا ہے ۔ گلگت بلتستان کو ایک ہزار حفاظتی کٹس فراہم کی گئی ہیں۔ گلگت بلتستان حکومت کو 17تھرموگنز اور781وی ٹی ایم بھی فراہم کی گئی ہیں۔وفاقی کی جانب سے فراہم کی گئی مدد میں 350کرونا ٹیسٹ کے لیے کٹس بھی شامل ہیں۔ جبکہ گلگت بلتستان کو حفاظتی سامان اور آلات این آئی ایچ نے فراہم کیے ہیں۔خوش آئند بات یہ ہے کہ ایف سی این اے کا کہنا ہے کہ کروناوائرس سے نمٹنے کیلئے پاک فوج جی بی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اس حوالے سے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام ہورہا ہے۔پاک فوج نے راولپنڈی سے گلگت بلتستان تک طالب علموں کیلئے فری آنے کا بندوبست کیا۔ کئی بسیں چلائی گئی ہیں جن کی پیمنٹ ایف سی این اے کر رہا ہے ۔ ایف سے این اے نے کہا ہے کہ مشکل کی ہر گھڑی میں پاک فوج گلگت بلتستان کے عوام اور خصوصا نوجوانوں کے ساتھ کھڑی رہے گی اور اس سلسلے میں تمام وسائل استعمال کئے جائیں گے۔پاک فوج کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے’ اطمینان بخش امر یہ ہے کہ اب پاک آرمی نے بھی حسب سابق اس وبا سے نمٹنے کے لیے کوششوں کا آغاز کر دیا ہے’پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ کورونا سے نمٹنے کیلئے میڈیکل پلان آف ایکشن تیار کرلیا گیاہے ، قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں اور وزیراعظم کے احکامات پر عملدرآمد کیلئے افواج پاکستان پوری طرح متحرک اور جامع حکمت عملی کے ساتھ وفاقی اور صوبوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں، مسلح افواج تمام وسائل بروئے کار لاکر سول اداروں کے ساتھ مل کر ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں، آرمی چیف نے تمام فارمیشنز کو ہدایت دی ہے کہ تحصیل کی سطح پر رسک اسسمنٹ کرے اور سول ایڈمنسٹریشن کی ہر ممکن مدد کریں، معلومات کے یکجا ذریعے سے کام کیلئے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کیا گیا ہے،ملک کے طول و عرض سے اعدادوشمار اکٹھا کرنااور کرونا وائرس بارے معلومات کے حصول کے حوالے سے مشکلات کو جلد ہی دور کر لیا جائے گا، عوام کورونا کی وباپر قابو پانے کے لئے جاری ہدایات پر انفرادی اور اجتماعی طور پر عمل کریں ، عوام کا اعتماد افواجِ پاکستان کا اثاثہ ہے اور اس کے لئے ہم ہر کوشش اور وسائل بروئے کار لائیں گے۔ متحد ہو کر ہی ہم اِس وبا کا مقابلہ کر سکتے ہیں ،یہ درست ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے اور اِس بیماری کے خلاف ایک موثر ہتھیار بھی ،یہ ایک صبر آزما مرحلہ ہے اور انشاء اللہ ہم مل کر اس چیلنج سے نبرد آزما ہونگے۔ پاک فوج کا کہنا ہے کہ جہاں جہاں ضرورت ہے قرنطینہ مراکز کے قیام میں بھی مدد کی جا رہی ہے، تمام داخلی پوائنٹس پر فوج اور سول ادارے مشترکہ نگرانی کر رہے ہیں، متاثرین کی نگرانی آئسو لیشن اور کنٹیکٹ ٹریسنگ کے لیے جامع حکمت عملی پر کام کیا جا رہا ہے ۔سرجن جنرل پاکستان آرمی کی زیر نگرانی اس وباسے نمٹنے کیلئے میڈیکل پلان آف ایکشن مرتب کرلیا گیا ہے، ایکسپو سنٹر کراچی میں قائم کئے جانے والے آئسولیشن ہسپتال میں پاک فوج سول ادارے کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے، کرونا وائرس سے نمٹنے کے حوالے سے ایک خصوصی کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں وزارتِ صحت، اطلاعات اورآئی ایس پی آر عالمی سطح پر بہترین سرگرمیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے رسک کمیونیکیشنز سٹریٹجک اینڈ کرائسزبنایا گیا ہے ۔ یہ اپیل کی گئی ہے کہ جاری ہدایات پر انفرادی اور اجتماعی طور پر عمل کیا جائے تاکہ اس آفت پر قابو پایا جا سکے ۔وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے آگاہ ہیں، اس کی نگرانی خود کر رہے ہیں،وفاقی اور تمام صوبائی حکومتیں کورونا وائرس کے خلاف جانفشانی سے لڑ رہی ہیں، ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں، عوام کی جان و مال کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، غریب طبقے کی مالی مدد، ہیلتھ اور راشن کی فراہمی کیلئے غور کر رہے ہیں، کچھ مٹھی بھر عناصر مصنوعی بحران اور ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں، وزیراعظم نے ایسے عناصر کی سرکوبی کیلئے وارننگ جاری کردی ہے جبکہ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزانے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف پوری قوم متحد ہے، جب قوم پہ کوئی آفت آتی ہے قوم نئے جوش کا مظاہرہ کرتی ہے، اس وقت دنیا کے 176ممالک میں کورونا وائرس پھیل چکا ہے، پوری دنیا میں کورونا وائرس کے 2لاکھ20ہزار مریض ہیں۔کورونا وائرس کے باعث ہونے والے معاشی اثرات پر اسلامی نظریاتی کونسل نے صاحب حیثیت اور صاحب استطاعت افراد سے اپیل کی ہے کہ رمضان سے قبل زکواة و صدقات ادا کردیں۔اس حوالے سے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک کا انتظار کیے بغیر کورونا وائرس سے معاشی طور پر متاثر ہونے والے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں اور دیگر حاجت مندوں کو زکواة و صدقات ادا کریں تاکہ ان کی معاشی ضروریات کی تکمیل میں آسانی ہو۔ مزید کہا گیا کہ شرعی طور پر سال مکمل ہونے سے قبل زکواة ادا کی جاسکتی ہے جبکہ موجودہ بحران میں تو یہ ایک افضل عمل ہے۔ساتھ ہی اسلامی نظریاتی کونسل کے شعبہ تحقیق نے تجویز دی ہے کہ مختلف صاحب حیثیت افراد گروپ بنا کر فنڈ قائم کریں تاکہ حاجت مندوں کی دیرپا مدد ہوسکے۔ملک میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلائو کے معاشی طور پر کافی اثرات نظر آرہے ہیں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والا طبقہ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے۔اگرچہ وفاق کی جانب سے ملک میں مکمل لاک ڈائون کا اعلان تو نہیں کیا گیا تاہم صوبائی حکومتوں کی جانب سے اپنے صوبوں کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔وائرس سے سب سے زیادہ متاثر صوبہ سندھ میں تعلیمی اداروں کی اکتیس مئی تک بندش کے علاوہ شاپنگ مالز، مارکیٹس، چائے خانے، ریسٹورنٹس’ ڈائن ان، پارکس، آن لائن بس سروس، ساحلی پٹی سمیت مختلف مقامات کو بند کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے تھے۔ان احکامات کے بعد سندھ میں یہ تمام مقامات بند ہیں جبکہ ملک کے معاشی حب کراچی میں بھی کاروباری سرگرمیاں تقریبا نہ ہونے کی وجہ سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔امریکی جریدے بلوم برگ کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ امیر ممالک کو غریب ممالک کے ذمے واجب الادا قرضے معاف کر دینے چاہئیں۔غریب ممالک میں اگر یہ وائرس متعدی مرض میں تبدیل ہو گیا تو نہ صرف پاکستان بلکہ برصغیر اور افریقی ممالک میں اس سے نمٹنے کے لیے صحت کی سہولیات ناکافی ہوں گی۔پاکستان کا شمار دنیا کے ان ملکوں میں ہوتا ہے جن کے ذمے نہ صرف آئی ایم ایف بلکہ مختلف ممالک کی جانب سے دیے گئے قرضے واجب الادا ہیں۔بہر حال یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے اردگرد رہنے والے ان افراد کی مدد کریں جو روزانہ کی بنیاد پر اپنی روزی روٹی کا بندوبست کرتے ہیں حالیہ صورتحال میں ان کے لیے رزق کمانا بہت مشکل ہے لیکن صاحب حیثیت افراد ان کی مدد کر کے انہیں اس مشکل سے نکال سکتے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس مرض سے بچائو کا واحد حل آئسولیشن ہے اس لیے اسے سنجیدگی سے لیا جائے اور بے جا طور پر گھروں سے نکلنے سے گریز کیا جائے۔

Facebook Comments
Share Button