تازہ ترین

GB News

بلتستان میں کرونا ٹیسٹ لیبارٹری کے قیام کا مطالبہ

Share Button

وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے وزیر اعظم پاکستان کی زیر صدارت نیشنل کوآرڈینشن کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ گلگت بلتستان میں زائرین اور کرونا وائرس سے متاثرہ ممالک سے لوگوں کی بڑی تعداد آئی ہے۔ صوبے میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد پچپن ہوگئی ہے۔182افراد کے ٹیسٹ کا رزلٹ آنا اب بھی باقی ہے۔ گلگت بلتستان میں صرف کرونا وائرس کی ٹیسٹ کیلئے ایک لیبارٹری قائم ہے جس میںایک دن میں صرف دس افراد کا ٹیسٹ ممکن ہے۔وفاقی حکومت بلتستان ریجن میں بھی کرونا وائرس کے مریضوں کے ٹیسٹ کیلئے لیبارٹری کے قیام میں معاونت کرے۔ صوبائی حکومت نے 1330آئیسولیشن رومز ہوٹلوں میں مختص کئے ہیں جن میں سے 330آئیسولیشن رومز میں زائرین کو رکھا گیا ہے۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے نیشنل کوآرڈینشن کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں پہلا لوکل ٹرانسمیشن کرونا کیس نگر میں سامنے آیا ہے۔ وفاقی حکومت صوبے کے تینوں حصوں میں پی سی آر اور ریپٹ ٹیسٹنگ سہولت فراہم کرے۔وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے وزیراعظم پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سکردو میں فلائٹس کی کمی کی وجہ سے شدید مشکلات درپیش ہیں۔ سکردو کیلئے ہفتے میں کم از کم چار روز فلائٹس کو یقینی بنایا جائے۔وفاقی حکومت اور این ڈی ایم اے گلگت بلتستان کے تینوں ریجنز میں کرونا کیلئے مختص تین پری فیب ہسپتالوں کے قیام کیلئے فوری طور پر اقدامات کریں۔حکومت گلگت بلتستان نے کرونا وائرس کی روک تھام اور بچاﺅ کیلئے سنجیدہ اقدامات کئے ہیں۔ علمائے کرام کا کردار انتہائی قابل تحسین اور مثالی ہے۔ اہل تشیع اور اسماعیلی کمیونٹی نے مساجد اور جماعت خانے بند کردیئے ہیں اور اہل سنت نے بھی اپنے جمعہ کے اجتماع کو انتہائی مختصرکردیا ہے۔ المےہ ےہ ہے کہ ہم نے صحت کے حوالے سے کبھی بھرپور توجہ نہےں دی‘ اس محکمے کو کبھی ترجےحی بنےادوں پر فنڈ نہےں دےے گئے اےک دوسرے پر الزامات تو لگائے جاتے رہے لےکن عملا کسی نے بھی کچھ نہےں کےا کےونکہ ہمارے سےاستدانوں کی سےاست محض تنقےد اور بلاوجہ تنقےد کے گرد گھومتی ہے‘ اس غفلت کے نتےجے ہی میں ملک میں 1700وےنٹی لےٹرز ہےں‘ حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہےں اور دعوے بڑے بڑے اور عوامی خدمت کے کےے جاتے ہےں حالانکہ ان کی ترجےح کبھی عوامی مسائل رہے نہےں کےونکہ وہ سمجھتے رہے ہےں سرکاری خرچ پر بےرون ملک سے اپنا علاج کرا لےا جائے گا‘حد تو ےہ ہے کہ22کروڑ عوام کو اس وبائی مرض کے رحم و کرم پر چھوڑ دےا گےا ہے‘ وزراءکی حالت ےہ ہے کہ انہےں کرائسز مےنےجمنٹ کی ذرا بھی سدھ بدھ نہےں‘ناتجربہ کار ٹےم کے بےانات سنو تو ہنسی آتی ہے جنہےں ےہ بھی نہےں پتہ کہ کرنا کےا ہے پنجاب کے جس وزےراعلی کو بےماری کے حوالے سے پتہ ہی نہےں وہ اس کے تدارک کا کےا خاک اہتمام کرے گا‘ اےک کہتا ہے ےہ کاٹتا کےسے ہے‘دوسرا گرم پانی پےنے کو اس کا علاج تصور کرتا ہے‘ تےسرا اس بےماری کے ہر سال آنے کی نوےد سناتا ہے اور چوتھا معذور بچوں کو اللہ کا عذاب قرار دےتا ہے‘ناتجربہ کاروں کے ہاتھوں ملک کا نقصان کراےا جا رہا ہے اور ستم ظرےفی ےہ کہ نقصان کے باوجود ان سے جواب بھی طلب نہےں کےا جائے گا‘ نااہلی کا عالم ےہ ہے کہ کافی عرصہ قبل پتہ چل جانے کے باوجود حفاظتی اقدامات کو موثر نہےں بناےا جا سکا‘ البتہ لوٹ مار کے سارے طرےقے انہےں خوب آتے ہےں بجلی کے بل ائر کنڈےشنڈ بند ہونے کے باوجود اتنے ہی آ رہے ہےں‘پٹرولےم مصنوعات جن کی عالمی قےمت میں اےک روپے اضافے پر دس روپے فورا بڑھا دےے جاتے تھے 22ڈالر فی بےرل تک پہنچنے کے باوجود کم نہےں کےے گئے حالانکہ اس وقت پٹرول کے نرخ تےس روپے لٹر سے بھی کم ہونا چاہےں مگر لوٹ مار جاری ہے‘ کم از کم ےہ پےسے عوام پر تو لگائے جائےں مگر اپنی نااہلی کا رونا روتے ہوئے کہا جا رہا ہے ہم اس سے نہےں نمٹ سکتے جو کچھ ملک میں ہے اگر لوٹ مار کےے بغےر لگا دےا جائے تو ےہ صورتحال نہ ہو‘لوگوں کو قرنطےنہ میں جس حال میں رکھا گےا ہے وہ وہاں سے بھاگےں نہ تو کےا کرےں حےرت ہے جس عوام کے پےسے ہےں ان سے اپنے لےے تو عےاشی کے تمام سامان مہےا کر لےے جاتے ہےں اور عوام کو خزانہ خالی ہونے کا مژدہ سنا دےا جاتا ہے‘ قوم کے ان خادموں میں سے کسی اےک نے بھی ےہ کہا ہے کہ ہم اس ملک کو وےنٹی لےٹرز لے دےتے ہےں‘ ماسک فراہم کر دےتے ہےں‘ سےنی ٹائزرز ہماری طرف سے مفت لے لےں‘ ہمارے ہزاروں اےکٹروں و کنالوں پر مشتمل گھروں کو قرنطےنہ بنا لےا جائے‘ الےکشن پر کروڑوں اربوں اڑانے والے کسی اےک اےم اےن اے‘اےم پی اے اور سےنےٹرز نے ےہ کہا کہ وہ اپنے حلقے کے غرےبوں کے لےے اس عرصے میں مفت کھانے کا اہتمام کرے تاکہ دےہاڑی داروں کو کھانا تو مل سکے‘ ےہ کس کی خدمت کر رہے ہےں کےا انہےں نہےں پتہ جو وہ لوٹ مار کر رہے ہےں انہےں ان کا استعمال بھی نصےب نہےں ہو گا لےکن ہوس کے پجارےوں کی ہوس ختم ہی نہےں ہوتی‘ عوام نے بھی ان چھٹےوں کو کھےل کود کا مرکز بنا لےا ہے حالانکہ انہےں علےحدگی کی ضرورت ہے‘ سر پر کھڑی موت کے باوجود کرونا کے مرےضوں کو رشوت لے کر ائر پورٹس سے چھوڑا جا رہا ہے حالانکہ ےہ تک پتہ نہےں کہ رشوت میں لی گئی ےہ رقم وہ استعمال بھی کر سکےں گے کہ نہےں‘ حکام کو چاہےے کہ جہاں طبی آلات کی ضرورت ہے فوری طور پر مہےا کرے‘عوام پر بھی لازم ہے کہ کسی بھی قسم کے غیر ضروری سفر سے بھی گریز کیا جائے۔سماجی دوری اختیار کی جائے ایسے تمام افراد سے رابطہ منقطع یا کم سے کم کر دینا چاہیے جن سے ملنا انتہائی ضروری نہیں۔یعنی شاپنگ مراکز، سنیما، کلب یا باغات جیسے عوامی مقامات پر جانے سے گریز کریں۔ممکن ہو تو دفتر بھی نہ جائیں اور گھر سے کام کریں۔ اس کے علاوہ کسی بھی ایسے مقام کا سفر کرنے سے گریز کریں جہاں جائے بغیر گزارہ نہ ہو۔اگر کسی فرد سے مل بھی رہے ہیں تو کوشش کریں کہ اس سے فاصلہ کم از کم ایک میٹر ہو۔سیلف آئسولیشن یا خود ساختہ تنہائی سماجی دوری سے ایک قدم آگے کی بات ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ خود کو دنیا بھر سے الگ کر لیں اور اپنے گھر میں بھی رابطہ محدود کریں۔یہ عمل ایسے افراد اختیار کر رہے ہیں جو یا تو کسی ایسے ملک سے آئے ہیں جہاں کورونا موجود تھا یا پھر ان کے کسی قریبی فرد میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔اس سلسلے میں عام فہم اقدامات میں ایک ہوادار کمرے میں رہنا شامل ہے جس کی کھڑکیاں کھل سکیں۔ اس کے علاوہ گھر کے باقی لوگوں سے دور رہےںاور آپ سے ملاقات کے لیے مہمان نہ آئےں۔اگر سودا سلف، ادویات یا دیگر سامان کی ضرورت ہو تو کسی کی مدد حاصل کریں۔ دوستوں، خاندان والوں یا سامان پہنچانے والے ڈرائیور کی مدد سے سامان حاصل کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔کلورو کوئن کو کئی برسوں تک ملیریا کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے لیکن اب یہ سوال ہو رہا ہے کہ آیا اسے کووڈ 19 کے مریض بھی استعمال کر سکتے ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ میں صحت عامہ کے انتظامی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے اسے منظور کر لیا ہے۔ تاہم اس میں کوئی حقیقت نہیں۔یہ ملیریا اور کچھ دوسری بیماریوں کے لیے منظور شدہ دوا ہے۔ لیکن سائنسدانوں نے اس کی مدد سے کورونا وائرس کے علاج سے متعلق امید ظاہر کی ہے۔بعض ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسا تاثر ملا ہے کہ اس دوا نے کچھ مریضوں کی مدد کی ہے۔ لیبارٹری کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس دوا سے وائرس رک جاتا ہے۔بہت سارے ریسپیریٹری یعنی سانس کے نظام پر اثر انداز ہونے والے وائرسز کی طرح کورونا وائرس ان چھوٹے چھوٹے قطروں کے ذریعے پھیلتا ہے جو کسی کھانسنے والے کے منہ اور ناک سے خارج ہوتے ہیں۔ایک کھانسی میں تےن ہزارتک ایسے قطرے آ سکتے ہیں۔امریکہ میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میں وائرسز کے ماہر نیلجے وان دورمالن کی تحقیق بتاتی ہے کہ کھانسنے کے بعد یہ وائرس ہوا میں تین گھنٹے تک رہ سکتا ہے۔کھانسی کے ایک سے پانچ مائیکرو میٹر چھوٹے چھوٹے قطرے ہوا میں کئی گھنٹوں تک رہ سکتے ہیں۔ یہ سائز انسانی بال سے تےس گنا زیادہ کم ہے۔کینیڈا میں صرف کینیڈین یا امریکی شہری، مستقل قیام پذیر شہری یا سفارتی عملہ ہی داخل ہوسکے گا۔ ایک روز قبل پی آئی اے کی ٹورنٹو جانے والی پرواز پر ان افراد کو سفر نہیں کرنے دیا گیا جن کے پاس وزٹ یا بزنس ویزا تھا۔ اس پرواز سے37مسافروں کو اس وقت اتار دیا گیا جب وہ جہاز میں سوار ہو چکے تھے۔چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچنے والے تمام لوگوں کو مخصوص ہوٹل یا کسی قرنطینہ مرکز میں لازماچودہ دن گزارنے ہوں گے۔ہمارے ہاں بھی تمام ممالک سے آنے والے مسافروں کو خود کو چودہ دن کے لیے تنہائی میں رکھنا چاہےے ۔

Facebook Comments
Share Button