تازہ ترین

GB News

کرونا کا پھیلاﺅ‘وزیراعظم کا خطاب اور ناسمجھ عوام

Share Button

کرونا وائرس کے تےزی سے پھےلاﺅ نے اب پاکستان کو بھی اب اپنی لپےٹ میں لے لےا ہے جہاں متاثرہ افراد کی تعداد میں روز بروز ہو رہا ہے‘ مگر افسوسناک امر ےہ ہے کہ پاکستان کی عوام اسے اب بھی سنجےدگی سے نہےں لے رہی اور اٹلی و چےن سے سبق سےکھنے کی ضرورت محسوس نہےں کی جا رہی‘ لوگوں نے آئسولےشن کے لےے دی گئی چھٹےوں کو تفرےح کا ذرےعہ بنا لےا ہے‘لوگ تفرےحی مقامات کا رخ کر رہے ہےں حالانکہ وہ جانتے ہےں کہ ےہ مرض تےزی سے پھےلنے والا مرض ہے‘ متاثرہ افراد کی تعداد سات سو سے تجاوز کر گئی ہے۔ گلگت بلتستان میں بھی نئے کےسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔پنجاب میں دوروز کیلئے شاپنگ مالز، مارکیٹیں بند رکھنے کا اعلان کر دیا گیا ہے جبکہ وزیراعلی بلوچستان نے دس روز تک لوگوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی ہے ۔ گلگت بلتستان میں کرونا مریضوں کا علاج کرنے والا ایک ڈاکٹر بھی وائرس میں متاثر ہوا ،سندھ میں مکمل لاک ڈاﺅن کا اعلان کر دےا گےا ہے ، اسلام آباد میں دفعہ 144نافذ کر دی گئی ہے ، خیبرپختونخواہ میں بھی 48گھنٹوں کیلئے مارکیٹیں اور ریسٹورنٹس بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ پنجاب میں بھی مزید41 کیسز سامنے آئے ہےں ۔ کرونا وائرس سے متعلق خصوصی کمےٹی کے چےئر مےن صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈووکیٹ مشیر اطلاعات شمس میر‘ سےکرٹری اطلاعات فداحسےن اور ڈائرےکٹر صحت ڈاکٹر اقبال رسول نے وزےر اعلی سےکرےٹرےٹ مےں مےڈےا کے نمائندوں کو برےفنگ دےتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان مےں اب تک 315زائرےن کے نمونے لئے گئے ہےں، جن مےں سے55 مےں کرونا وائرس کے مثبت اور60 مےں منفی نتائج آئے ہےں 200افراد کے نتائج کا انتظار ہے۔صرف ہفتہ کے دن 56 افراد کے نمونوں کا رزلٹ آےا ہے۔ 25 افراد جن مےں سے تےرہ گلگت اور بارہ بلتستان کے ہےں کرونا وائرس مثبت آےا ہے ۔ گلگت بلتستان میں لاک ڈاﺅن کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، میڈیکل سٹور ، جنرل سٹورز اور سبزی کی دکانوں کے سوا تمام کاروباری سرگرمیاں رک گئی ہیں، جہاں کاروباری سرگرمیاں بند ہو گئی ہیں وہیں عوام بھی خوف میں مبتلا ہو گئے ہیں ، ضلع شگر میں انتظامیہ نے دفعہ144نافذ کر دی ہے اور مساجد سے لاﺅڈ سپیکر کے ذریعے لوگوں کو گھروں میں رہنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے ، گلگت میں جو دکانیں اور مارکیٹیں کھلی تھیں ان کو پولیس نے بند کرا دیا، دیامر انتظامیہ نے ضلع میں دکانیں اور مارکیٹیں تےن دن تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور جلسے ، جلوس ، ریلیوں اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر دیامر نے عوام کو انتظامیہ کے ساتھ تعاون کی اپیل کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، ضلع استور میں بھی مارکیٹیں، دکانیں اور ہوٹلز بند کر دیئے گئے ہیں ، دیگر ممالک سے آنے والوں کو بغیر چیک اپ اور سکریننگ کے گھروں کو جانے دینے پر عوام نے انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے ، لوگوں کا کہنا تھا بیرون ممالک سے آنے والوں کو بغیر کسی سکریننگ کے گھروں کو جانے دیا گےا، اب ان کو گھروں سے لا کر آئسولیشن سنٹر میں رکھا گیا ہے ان میں سے کسی کو وائرس لگ گیا ہو تو باقی کا کیا ہو گا جو اتنے دن ان سے ملتے رہے ہیں ، استور میں اب تک کوئی کیس سامنے نہیں آیا، انتظامیہ مزید سخت اقدامات کرے تا کہ کوئی دوسرا متاثر نہ ہو سکے ، گلگت بلتستان میں کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز نے علاقے میں ایک افراتفری کا ماحول پیدا کر دیا ہے ، شہریوں نے حکومت کو مکمل لاک ڈاﺅن اور وفاق سے فوری مدد طلب کر کے اس وباپر قابو پانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پےش نظر گلگت بلتستان حکومت نے ضلع گلگت ضلع نگر اور بلتستان ڈوےژن مےں چھ اےڈ منسٹرےٹو سےکرٹرےز کے ماتحت محکمے و ڈائرےکٹورےٹس کو تےن ہفتوں کے لئے بند کر نے کے احکامات جاری کئے گئے ہےں ‘گلگت بلتستان کے ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظےموں نے حکومت سے مطالبہ کےا ہے کہ علاقے مےں کرونا وائرس کے تےزی سے بڑھتے ہوئے کے کےسز کی وجہ سے حکومت لاک ڈاﺅن کا اعلان کرے۔ اےمرجنسی صورتحال کے باجود ڈاکٹروں کے پاس حفاظتی کٹس پی پی اےز نہےں ہےں وی آئی پےز کے ساتھ تعےنات ڈاکٹروں کو واپس ہسپتالوں مےں تعےنات کےا جائے صوبائی ہسپتال کی اکلوتی سی ٹی سکےن مشےن گزشتہ اےک ماہ سے خراب پڑی ہوئی ہے جس سے محکمہ صحت کی سنجےدگی کا اندازہ لگاےا جا سکتا ہے ۔صو بائی ہےڈ کوارٹر ہسپتال گلگت مےں پاکستان مےڈےکل اےسوسی اےشن اور ےنگ ڈاکٹرز اےسوسی اےشن کے نمائندوںنے مےڈےا کے نمائندوں کو برےفنگ دےتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان مےں کرونا وائرس کے مرےضوں کی تعداد مےں تےزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔کرونا وائرس کے مرےضوں کے معائنے کے لئے ڈاکٹرز اور پےر ا مےڈےکل سٹاف کو حفاظتی ےو نےفارم ماسک سمےت دےگر سامان فراہم نہےں کیا گیا ‘ڈاکٹر اسامہ کو بغےر طبی سازوسامان کے زائرےن کی سکرےننگ پر تعےنات کےا گےا ‘صوبائی حکومت نے گلگت بلتستان مےں ہےلتھ اےمرجنسی نافذ کی ہے جو کہ برائے نام ہے اس وقت ڈاکٹروں اور پےرا مےڈےکل سٹاف کے لئے حفاظتی سامان کا شدےد ترےن فقدان ہے حفاظتی کٹس حتی کہ ماسک تک بآسانی دستےا نہےں۔ آئسولےشن سنٹر ز قائم کئے گئے ہےں جہاں پر کور نا وائرس سے مثبت اور مشتبہ مرےض موجود ہےں مگر محکمہ صحت کی جانب سے حفاظتی سپرے تک نہےں کےا گےا جس کی وجہ سے وائرس طبی عملے اور عام افراد تک پھےلنے کے بہت زےادہ امکانات ہےں ۔ وےنٹلےٹرز کے فقدان کی وجہ سے مسائل در پےش ہےں ڈاکٹروں نے مطالبہ کےا گےا ہے گلگت بلتستان کے تمام چھو ٹے بڑے ہسپتالوں مےں تعےنات عملے کو پی پی ای کٹس فراہم کی جائےں اور آئسولےشن سنٹرز مےں روزانہ کی بنےاد پر سپرے کروانے کا بندوبست کےاجائے اور بخار نزلہ زکام کی ادوےات اور ماسک ذخےرہ کر کے دکانداروں کے خلاف سخت ترےن کاروائی کرتے ہوئے سزائےں دی جائےں ۔ڈاکٹرز کو بغےر حفاظتی اقدامات کے مرض کے حوالے کرنا ےقےنا تشوشناک ہے اسے المےہ ہی قرار دےا جا سکتا ہے کہ ملک میں صحت کی صورتحال پر کبھی بھی توجہ نہےں دی گئی ہسپتالوں میں بنےادی سہولتےں تک مےسر نہےں ہےں حالانکہ وی آئی پےز کے لےے سب کچھ مےسر ہوتا ہے اور وہ بڑے آرام سے سرکاری خرچ پر بےرون ملک سے علاج کرا لےتے ہےں‘مگر صورتحال ےہ ہے کہ کوئی اس مرض کا علاج بےرون ملک سے نہےں کرائے گا ۔حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہےں کہ مختلف صوبوں میں فوج طلب کی جا رہی ہے‘صوبہ پنجاب میں بھی کورونا وائرس کے پیش نظر سیکشن 245 کے تحت صوبے کی سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج طلب کرلی گئی ہے۔وزیراعلی عثمان بزدار نے پریس کانفرنس میں فوج کو طلب کرنے سے متعلق فیصلے سے آگاہ کیا۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔وزیراعلی عثمان بزدار نے کہا کہ جب کبھی ضلعی انتظامیہ کو فوج کی ضرورت رہی، انہوں نے مدد کے لیے حامی بھری ہے۔ پنجاب میں غذائی قلت نہیں ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے متحرک ہے۔ذخیرہ اندوزں کے خلاف بھرپور کریک ڈاﺅن کریں گے۔ انتظامیہ نے نجی و سرکاری ہسپتالوں سمیت ہاسٹل و دیگر بلڈنگز کا جائزہ لے لیا ہے ضرورت پڑنے پر انہیں بھی استعمال کیا جائے گا۔وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ملک کو لاک ڈاﺅن کرنے کی بحث چل رہی ہے، اس کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں کہ اس کا مطلب ملک میں کرفیو لگانا ہے۔میں ایسا کرسکتا ہوں مگر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ پچےس فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوں گے کہ یہ دو ہفتوں تک اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال سکیں۔ ہمارے پاس اتنی صلاحیت نہیں کہ لوگوں کو گھروں میں کھانا پہنچا سکیں۔ عوام سے گزارش ہے کہ وہ خود اپنے گھروں میں رہیں، ہم دیکھ رہے ہیں ہم اپنے کاروبار کے لیے کیا کیا کرسکتے ہیں۔ اناج کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہمارے پاس بہت ذخیرہ ہے جبکہ کورونا وائرس سے زیادہ خطرہ ہمیں افراتفری سے ہے۔عمران خان کاکہنا تھا کہ اگر ہمارے حالات اٹلی اور چین جیسے ہوتے تو پورے ملک میں لاک ڈاﺅن کردیتا مگر ہم ایسا نہیں کرسکتے۔انہوں نے واضح کیا کہ کورونا کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ غریبوں کا ہے، ہمیں کورونا سے بحیثیت قوم نمٹنا ہے اور امید ہے ہم اس سے نکل آئیں گے۔

Facebook Comments
Share Button