تازہ ترین

GB News

گلگت بلتستان اور ملک بھر میں لاک ڈاﺅن

Share Button

گلگت بلتستان میں پہلی مرتبہ مقامی سطح پر کرونا وائرس کی منتقلی کے سولہ کیسز سامنے آئے ہےں جس کے بعد صوبے میں کرونا وائرس سے مبتلا افراد کی تعداد اکہترہو گئی ہے ۔ اتوار کے دن صوبے مےں کرونا وائرس کے سولہ نئے کےسز سامنے آئے جن مےںسے چودہ سکردو اور دونگر کے ہےںتمام مرےض لوکل ٹرانسمےشن کے ہےںجن کا کوئی سفری رےکارڈ نہےں ۔گلگت بلتستان مےںعوام سنجےدگی کا مظاہرہ نہےں کر رہے تھے جس کی وجہ سے حکومت نے گلگت بلتستان مےں اتوار اور پےر کی در مےانی شب سے ہوم لاک ڈاﺅن سےمی کرفےو نافذ کرنے کا فےصلہ کےا ہے ۔ جس کے تحت شہری اپنے گھروں مےں رہےں گے اےمرجنسی صورتحال ےا بہت ضروری کام سے باہر نکل سکتے ہےں دو سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد ہوگی غےر ضروری طور پر ےا اےمرجنسی کے بغےر گھروں سے باہر نکلنے والے افراد کے خلاف سخت ترےن قانونی کارروائی کی جائے گی شہروں کا کنٹرول جی بی سکاﺅٹس پاک رےنجرز اےف سی اور پولےس سنبھالےں گی جبکہ پاک فوج کو اسٹےنڈ بائی رکھا گےا ہے اگلے دو دنوں مےں عوام نے تعاون نہےں کےا تو شہروں کا کنٹرول پاک فوج کے حوالے کےا جائے گا ۔لاک ڈاﺅن کے دوران اشےائے خوردو نوش پھلوں اور مےڈےکل کی دکانےں کھولنے کے لئے وقت متعےن کےا جائے گا جس کے بارے مےں مقامی انتظامےہ آگاہ کرے گی ‘ بےن الاضلاعی ٹرانسپورٹ پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کر دی گئی ہے۔جن افراد کا متعلقہ ضلع سے تعلق ہو گا اسی کو ضلع مےں داخل ہونے دےا جائے گا غےر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔راولپنڈی سے گلگت بلتستان کے لئے ٹرانسپورٹ کو مستشنی قرار دےا گےا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے مشتبہ مرےضوں کی سکرےننگ کرتے ہوئے شہےد ہو جانے والے نوجوان ڈاکٹر اسامہ رےاض کو گلگت بلتستان حکومت نے قومی ہےرو قراردےا ہے ۔وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے بچاﺅ کےلئے صوبائی حکومت سخت فےصلے کررہی ہے تاکہ قےمتی انسانی جانوں کو بچاےا جاسکے۔ عوام اپنے گھروں مےں رہےں غےر ضروری باہر نکلنے سے اجتناب کرےں۔ رات12 بجے سے صوبے بھر مےں ہوم لاک ڈاﺅن کےا جائےگا۔ گلگت بلتستان سکاﺅٹس، رےنجرز، اےف سی ،پولےس صوبے بھر مےں ہوم لاک ڈاﺅن کو ےقےنی بنائے گی۔خوش آئند بات ےہ ہے کہ مستحق اور نادار افراد کے گھروں مےں فاقے نہ ہونے دےنے کی ےقےن دہانی کرائی ہے حکومت غرےبوں کو راشن فراہم کرےگی۔وزیراعلی حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ حکومت عارضی ملازمےن کی تنخواہےں ادا کرےگی۔دفعہ144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کوئی رعاےت نہےں کی جائے قےد اور جرمانے کےے جائےں۔کرونا وائرس سے متاثرہ علاقوں سے آنے والے فوری طور پر صحت مراکز سے رابطہ کرکے ٹےسٹ کرائےں ۔پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا ویڈیو لنک اجلاس میں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے سندھ اور گلگت بلتستان میں ایک جیسے حالات ہیں آبادی کے تناسب سے کورونا وائرس کے کیسز کی شرح کا زیادہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو آگاہ کیا کہ گلگت بلتستان میں غربت زیادہ اور وسائل کی کمی ہے جس کے لیے ہمیں ایک ویلفےئر فنڈ قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لاک ڈاﺅن کی صورت میں روزانہ کی بنیادوں پر مزدوری کرنے والے افراد اور ان کے خاندان کی کفالت کی جا سکے۔علاقے میں صحت کی سہولیات کی کمی ہے اور حکومت بھی کمزور ہے ایسے وقت میں ہمیں چائنہ سے مدد طلب کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارا علاقہ غریب بھی ہے اور دشوار گزار بھی یہاں لوگوں کے پاس کورونا سے لڑنے کے لیئے نہ سامان ہے نہ سہولیات اس لیے پیپلزپارٹی کی قیادت کو گلگت بلتستان کے لیے سپیشل اسسٹنس کے لیے حکومت چائنہ سے بات کرنا ہوگی۔ ہمیں حکومت چائنہ اور فنڈ ریزنگ پر فوکس کرنے کی ضرورت ہے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگ ان کے دل کے قریب ہیں وہ اس سلسلے میں بھرپور تعاون کریں گے اس سلسلے میں کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو چائنہ حکومت سے بات کرے گی ‘چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پیپلزپارٹی کے تمام عہدیداروں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس وائرس کے حوالے سے شعور و آگہی مہم چلائیں اور خاص طور پر نوجوان خود کو بھی محفوظ رکھ کر رضاکارانہ خدمات سر انجام دیں۔ مسلم لےگ نون کے صدر شہباز شرےف نے بھی وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کو ٹےلی فون کر کے کرونا وائرس کے حوالے سے درپےش صورتحال پر تفصےلی تبادلہ خےال کےا ہے۔شہباز شرےف نے کہا کہ گلگت بلتستان کے مسائل کوہر فورم پر اٹھاےا جائےگا۔ حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے کرونا کی روک تھام کےلئے کےے جانے والے اقدامات پر وزےراعلی گلگت بلتستان حافظ حفےظ الرحمن کی کوششوں کو سراہا۔حالات کی سنگےنی کے پےش نظروفاقی وزارت داخلہ نے اسلام آباد اور گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کی انتظامیہ کی جانب سے کورنا وائرس کے حوالے سے اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے فوج کی تعیناتی کی درخواست کی منظوری دے دی ہے۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹی فےکیشن کے مطابق سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پاک فوج کے دستے تعینات ہوں گے جس کے لیے سول انتظامیہ نے درخواست کی تھی۔نوٹی فےکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ پاک فوج کو آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت طلب کیا گیا ہے۔وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ چیف کمشنر اسلام آباد کی درخواست پر وزارت داخلہ نے دارالحکومت میں فوج بلانے کی منظوری دے دی ہے۔دنیا کو اب لاک ڈاﺅن کے حقیقی معنی کا ضرور ادراک ہوگا کہ ان پر گزر بھی رہی ہے۔ہم اپنی تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں اےک جراثیم جو مماثلت رکھتا ہے تاج سے دنیا بھر کے نام نہاد بے تاج بادشاہوں کے سروں سے ان کے غرور کا تاج اچھال رہا ہے۔اور اس جراثیم نے ترقی کی معراج پر کھڑے دنیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا اگر ہم غور فکر کریں اور اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات اور پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کے مطابق کر لیں جو بلا شبہ تمام مسائل اور امراض کا واحد حل ہے۔وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے خاموش رہنے کا خمیازہ بھگتیں اور توبہ کریں اپنے کوتاہیوں کے لیے اور ہم ہی پلٹ کے اس ذات کی طرف متوجہ ہو جائیں ۔حالیہ دنوں میں آپ نے ذخیرہ اندوزی کا لفظ کئی بار سن رکھا ہوگالیکن یہ ذخیرہ اندوزی محض چینی اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی تک محدود نہیں ہے بلکہ اب ذخیرہ اندوزی کی ایک ایک نئی اختراع متعارف ہوئی ہے، اور یہ قسم ماسک کی ذخیرہ اندوزی کہلاتی ہے اس وائرس سے بچے ہوئے لوگوں نے جب مارکیٹ کا رخ کیا تو معلوم ہوا کہ مارکیٹ سے ماسک کا خاتمہ ہوگیا ہے اور مارکیٹ میں ماسک ناپےد ہوگیا ہے عام طور پر جراحی کے ماسک کے ایک باکس کی قیمت دوسو روپے کے لگ بھگ تھی لیکن جوں ہی چین میں اس وائرس نے قدم جمائے تو ےہ مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ ناےاب ہو گےا‘دراصل پاکستان نے مدد کی غرض سے اپنے اہم پڑوسی چین کو انتہائی اہمیت کے حامل روک تھام کرنے والے سامان کا اسٹاک بھیج دیااس کی وجہ سے یہ ہوا کہ سرجیکل ماسک کی عدم دستیابی ہو گئی لوگوں کے مارکیٹ کے دورے سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ عدم دستیاب ہونے سے قبل ان کی آخری قیمت 700 روپے تھی جو کہ عدم دستیابی کی صورت میں بلیک میں فروخت ہورہا ہے اسکے پیش نظر ہی ماسک کی قیمت بڑھ کر ایک ہزار روپیہ فی باکس ہو گئی ہے معلوم ہوتا ہے کہ منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے اس مجبوری کو بھی اپنے نفس کی نظر کردیا ہے اور راتوں رات کمائی کے حصول کے خواب نے ان کو عظیم ذلالت سے ہمکنار کروا دیا ہے اور بحیثیت انسان ان کی ذہنی پسماندگی، معاشی گراوٹ اور پیسے کی ہوس کو بے نقاب کردیا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے اس عمل پر ندامت کا شکار نہیں ہیں‘لوگ نہ جانے کےوں اس احساس سے عاری ہےں کہ لوٹ مار کر کے وہ اس رقم کو استعمال بھی کر سکےں گے ےا نہےں لےکن ےہ سوچنے کی زحمت گوارا نہےں کی جاتی۔

Facebook Comments
Share Button