تازہ ترین

GB News

ایف سی این اے اجلاس،حکومت، پاک فوج اور علماکا لاک ڈاﺅن پر عملدرآمد یقینی بنانے پر اتفاق

Share Button

گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے مرض کے پھیلاو¿ کے پیش نظر ایک اہم اجلاس ایف سی این اے میں منعقد ہوا جس میں وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن، کمانڈر ایف سی این اے میجر جنرل احسان محمود خان، صوبائی وزیر اطلاعات شمس میر، صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ، وزیر ایکسائز حیدر خان، وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی، اپوزیشن لیڈر محمد شفیع خان، صدر پیپلز پارٹی جی بی امجد ایڈوکیٹ، پی ٹی آئی کے صدر سید جعفر شاہ کرنل ریٹائرڈ عبید اللہ بیگ، ممبر صوبائی اسمبلی جاوید حسین، راجہ جہانزیب، نواز خان ناجی، چیف سیکریٹری کیپٹن ریٹائرڈ محمد خرم آغاءسیکریٹری صحت راجہ رشید علی، سیکریٹری اطلاعات فدا حسین، سیکریٹری داخلہ محمد علی رندھاوا اور تینوں ڈویژنوں کے کمشنر ز، اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز سمیت گلگت بلتستان بھر کے مختلف مکاتب فکر کے علماءقاضی نثار احمد، مولانا محمد آصف عثمانی، مولانا حاجی سرور، شیخ نیئر، شیخ حسن جعفری،شیخ مرزہ علی، صدر اسماعیلی ریجنل کونسل محمد نعیم، صوفیہ نور بخشیہ کے رہنماو¿ں اوردیگر سیاسی، سماجی و مذہبی قائدین اور سکالرز نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے میں کروناوائرس کی وباءسے نمٹنے کے لیے اداروں اور سوسائٹی کی جانب سے مشترکہ اقدامات کرنے کی منظوری دی گئی۔ متفقہ طور پر اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ وباءسے نمٹنے کے لیے صوبے کو مکمل طور پر لاک ڈاو¿ن رکھاجائے گا اور اس پر مکمل عمل درآمد کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے زریعے عملی اقدامات کیئے جائیں گے۔ حکام نے اس بات پر بھی غور کیا کہ لاک ڈاو¿ن کی صورت میں عوام کو اشیائے خوردو نوش کی کمی نہیں ہونے دی جائے گی جس کے لیے دوران لاک ڈاو¿ن ادویات اور کھانے پینے کے سامان کی فراہمی کے لیئے دکانیں کھلی رکھی جائیں گی۔ منظور شدہ SOPکے تحت دکانوں کے باہر سینیٹائزر، صابن اور پانی رکھنا لازمی قرار دیا جا ئے گا۔ حکام اس دوران بازار میں ضروری اشیاء اور ادویات کی بلیک مارکیٹنگ پر مکمل طور پر نظررکھیں گے تاکہ ادویات اور اشیائے خورد و نوش کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیا کہ علماءپر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو کہ گلی محلوں اور مساجد میں قران و سنت کی روشنی میں عوام کو ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے اور دیگر اہم احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی دیں گے تاکہ عوام لاک ڈاو¿ن پر مکمل عمل درآمد کر یں۔ حکام کی جانب سے اجلا س میں بتایاگیا کہ عوام بلاضرورت بغیر ایمرجنسی کے ہسپتالوں میں نہ جائیں۔ لاک ڈاو¿ن اوردیگر احتیاطی تدابیر پر بہتر طریقے سے عمل پیرا ہونے کے لیے اور عوام میں مزید شعور اجاگر کرنے کے لئے گلی محلہ سطح پر والنٹیئرز کو خصوصی تربیت بھی دی جائے گی۔ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیا کہ ملک کے دیگر علاقوں اورشہروں سے صوبے میں داخل ہونیو الے طلبا اور عوام کی سکریننگ کو لازمی قرار دیکر علاقے میں داخل کرکے 14دن کے لیے قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔ کورونا وائرس کے پھیلاو¿ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیا کہ پیراملٹری فورسز کے ساتھ پاک افواج کو بھی آگاہی مہم میں شامل کیا جائے گا۔ پاک فوج کی جانب سے کمانڈر ایف سی این اے میجر جنرل احسان محمود خان نے صوبائی حکومت کو اس سلسلے میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا کے مریضوں کے سیمپلز کی ترسیل کے لیے پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز استعال کیئے جارہے ہیں۔ گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے امدادی اشیائ،ادویات کی فراہمی کے لیئے پاک فوج کی ہیلی کاپٹرز سے سامان گلگت اور سکردو پہنچایا جا رہا ہے۔کرونا وائرس کے خطرات سے نمٹنے کے لئے گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں فوج تعینات کردی گئی ہے۔فوج سول انتظامیہ کی مدد کرے گی۔گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں فوج لاک ڈاﺅن یقینی بنائے گی جبکہ پنجاب اورآزادکشمیر میں بھی لاک ڈاﺅن کااعلان کردیاگیا ہے۔ملک بھر میں کرونا وائرس خطرات سے نمٹنے کے لئے سول انتظامیہ کی مدد کے لئے پاک فوج کے دستوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی گئی ہے،وزارت داخلہ نے پاک فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پاک فوج کے دستے اسلام آباد،پنجاب،کے پی کے،بلو چستان،سندھ اور گلگت بلتستان میں سول انتظامیہ کی مدد کرینگے، پاک فوج کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 245کے تحت کی گئی ہے۔وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے(آج) منگل سے صوبے بھر میں 14 روز کے لیے لاک ڈاﺅن کا اعلان کردیا۔لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ (آج) منگل سے صوبے بھر میں 14 روز کے لیے لاک ڈان ہوگا۔ پنجاب میں ڈبل سواری پر بھی پابندی ہوگی۔ 24 مارچ سے 6 اپریل تک عوامی مقامات بند رہیں گے تاہم روزمرہ کی اشیاکی دکانیں کھلی رہیں گی۔وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں کرونا مریضوں کی تعداد 242 ہے۔ غریب طبقے کے لئے امدادی پیکج کااعلان جلد ہوگا۔یہ اہم فیصلہ صوبائی کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ اس بات کا اعلان وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے باضابطہ طور پر پریس کانفرنس میں کیا۔اہم اعلان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج انسداد کرونا کیلئے ایک اہم اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلہ کیا گیا کہ 24 مارچ سے 6 اپریل تک صوبے بھر کے شاپنگ مالز، بازار، دکانیں، پارکس، ریسٹورینٹس اور ایسی عوامی اجتماعات والی تمام جگہیں بند ہونگی۔ان کا کہنا تھا کہ عوام سے التماس ہے کہ وہ ان 14 روز میں پولیس، قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں اور فوج کیساتھ تعاون کریں۔ 14 روز کیلئے سول اور فوجی ادارے احکامات پر عملدرآمد کے پابند ہونگے۔ عوام سے بھرپور تعاون کی اپیل کرتے ہیں۔وزیراعلی پنجاب نے بتایا کہ صورتحال کے پیش نظر ڈبل سواری پر بھی پابندی ہوگی تاہم فیملیاں اس فیصلے سے مستثنی ہونگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ لاک ڈان کا مطلب کرفیو نہیں ہے۔ صوبے میں پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے۔یہ سوال کہ کیا لاک ڈاﺅن کا دورانیہ بڑھایا بھی جا سکتا ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صورتحال کو روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کیا جائے گا۔ اگر صورتحال بہتر رہی تو لاک ڈان کو پہلے بھی ہٹایا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ (آج) کابینہ اجلاس میں تمام چیزوں پر غور کرکے معاشرے کے غریب طبقے کی امداد کے لیے جلد امدادی پیکج کا اعلان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں۔ میڈیکل سٹورز، کریانہ سٹورز، سبزی منڈی، فروٹ، دودھ اور دہی شاپس کھلی رہیں گی۔ادھروزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے آزادکشمیر بھر میں 3ہفتوں کے لیے مکمل لاک ڈاون کا اعلان کردیا،وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا ہے کہ عوام کے غیرضروری سفر کرنے اور باہر نکلنے پر پابندی ہو گی ہر قسم کی ٹرانسپورٹ مکمل معطل رہیگی، ایمرجنسی سروسز جاری رہیں گی۔عوام کی حفاظت کے لیے یہ اقدامات اٹھاے گئے ہیں یہ کرفیو نہیں ہے بلکہ حفاظتی انتظامات ہیں۔انہوں نے کہا کہ ناگزیر حالات میں سفر کرنے کے لیے خصوصی پاسز جاری کیے جائیں گے کھانے پینے کا سامان لانے کے لیے گھر کے ایک فرد کو اجازت ہو گی،عوام گھروں سے باہر نہ نکلیں اور اگر انتہائی ناگزیر حالات ہوں تو شناختی کارڈ ساتھ رکھیں، صرف محکمہ صحت پولیس انتظامیہ اور اشیا خوردونوش کا سامان لیجانے کی اجازت ہوگی، صحافی حضرات کو خصوصی پاسز جاری کیے جائیں گے، ایمرجنسی سروسز جاری رہیں گی۔عوام کی حفاظت کے لیے یہ اقدامات اٹھاے گئے ہیں یہ کرفیو نہیں ہے بلکہ حفاظتی انتظامات ہیں۔پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245کے تحت افواجِ پاکستان کو سول انتظامیہ کی مدد کےلئے طلب کیا ہےپاکستان کو کرونا وائرس کے شدید چیلنج کے پیش نظر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سول انتظامیہ کی مدد کے لیے تمام دستیاب اہلکاروں اور طبی وسائل کو فراہم کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ کرونا وائرس کے خطرات پر قابو پانے کےلئے پاک فوج قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، ان حالات میں عوام کا ریاست پر اعتماد ہی اس صورتحال سے نکلنے میں مدد دے سکتا ہے ،قومیں چیلنجز کا مقابلہ کر کے ہی آگے بڑھتی ہیں ،وفاق اور صوبائی حکومتوں کے اقدامات کے تحت صرف ہسپتال ،کھانے پینے کی اشیا اور میڈیکل سامان تیار کرنے والی فیکٹریاں اور میڈیکل سٹورز کھلیں رہیں گے۔ تمام سکولز، ہر قسم کے اجتماع پر پابندی ہو گی ۔ تمام قسم کے مالز، ریسٹورنٹ، سینماز، شادی ہال، سوئمنگ پولز اور غیر ضروری نقل وحرکت پر پابندی ہو گی۔ انٹر سٹی ٹرانسپورٹ صرف فوڈسپلائی کے لئے استعمال کی جائے گی ،شہر وں کے اندر ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ بند ہو گی۔ تمام ائیر پورٹس انٹرنیشنل فلائٹیس کے لیے 4اپریل تک بند رہیں گے۔عوام سے درخواست ہے فوج اورحکومت سے تعاون کریں اور گھروں تک محدودرہیں۔ صوبائی حکومتوں کے پٹرول پمپس اور منڈیاں صرف مقرر کردہ ایام میں ہی کھلیں گی23 مارچ ان سب اِکابرین کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور یاد کرنے کا دِن ہے، ایک آزاد وطن اور دو قومی نظریے کے لئے، جس کی سچائی آج بھی سب پر عیاں ہو رہی ہے، آج پھر ان اکابرین کے وارثوں کو کرونا وائرس کی شکل میں ایک نیا چیلنج درپیش ہے،23 مارچ کا دن کشمیری بہن بھائیوں کو بھی یاد کر نے کا دن ہے۔ جو بدترین ریاستی دہشت گردی اور اس قدرتی آفت کے مقابلے میں بے یارو مددگار ہو نے کے باوجوداپنے حق خود ارادیت کے لئے مزاحمت کی مثال بنے ہوئے ہیں مقبوضہ کشمیر کے عوام انشا اللہ اس جدوجہد میں ضرور کامیاب ہو نگے،پیر کی شام میڈیا بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف نے سول انتظامیہ کی مدد کے لیے تمام دستیاب اہلکاروں اور طبی وسائل کو فراہم کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ افواج پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور اس سلسلے میں ہر کوشش اور تمام وسائل بروئے کار لائیں گے، انہوں نے کرونا وائرس خطرات کے تناظر میں حکومتی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تمام بین الاقوامی ایئر پورٹس چار اپریل تک بند رہیں گے۔ ملک میں ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی ہوگی۔ انٹرسٹی ٹرانسپورٹ صرف فوڈ سپلائی چین کے لیے استعمال ہوسکے گی۔ تمام سکول بند اورتمام اجتماعات پر پابندی رہے گی۔وفاق اور صوبائی حکومتوں کے اقدامات کے تحت صرف ہسپتال ،کھانے پینے کی اشیا اور میڈیکل سامان تیار کرنے والی فیکٹریاں اور میڈیکل سٹورز کھلیں رہیں گے۔ تمام سکولز، ہر قسم کے اجتماع پر پابندی ہو گی ۔ تمام قسم کے مالز، ریسٹورنٹ، سینماز، شادی ہال، سوئمنگ پولز اور غیر ضروری نقل وحرکت پر پابندی ہو گی۔ انٹر سٹی ٹرانسپورٹ صرف فوڈسپلائی کے لئے استعمال کی جائے گی ،شہر وں کے اندر ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ بند ہو گی۔ تمام ائیر پورٹس انٹرنیشنل فلائٹیس کے لیے 4اپریل تک بند رہیں گے۔ صوبای حکومتوں کے پٹرول پمپس اور منڈیاں صرف مقرر کردہ ایام میں ہی کھلیں گیمیجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ اتوار کی شام ایک خصوصی کو ر کمانڈرز کانفرنس میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے افواجِ پاکستان کی سول اداروں کی امداد کے لیے تیاری اور ایکشن پلان کا جائزہ لیا گیا تھا میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 245کے تحت فوج کو طلب کیا ہے۔ فوج کی لائن اف کنٹرول اور مغربی سرحد پر بھرپور اور بھاری تعیناتی کے باوجود آرمی چیف نے تمام دستیاب فوجیوں اور افواج پاکستان کے میڈیکل وسائل کے مطابق فوج تعینات کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ کرونا وائرس کے حوالے سے پاکستان آرمی کے اقدامات سے آگاہی دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے 23 مارچ یوم پاکستان کی مناسبت سے تمام اہل وطن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج کے دن کی منابست سے تمام اہلِ وطن اور دنیا میں جہاں جہاں پاکستانی موجود ہیںسب کو یومِ پاکستان مبارک ہو 80برس قبل آج ہی کے دن ہمارے اِسلاف نے ایک منزل کا تعین کیا اور یکجا ہو کر نا ممکن کو ممکن کر دکھایا۔ ایک ایسا سنگِ میل جو ایک قوم ایک منزل پاکستان بنا۔ 23 مارچ ان سب اِکابرین کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور یاد کرنے کا دِن ہے۔ ایک آزاد وطن اور دو قومی نظریے کے لئے، جس کی سچائی آج بھی سب پر عیاں ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پھر ان اکابرین کے وارثوں کو ایک نیا چیلنج درپیش ہے۔کرونا وائرس کی شکل میں ایک ایسی آفت جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔حتی کہ ترقی یافتہ ترین ممالک بھی کرونا وائرس کے سامنے بے بس نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1940 قیام ِ پاکستان مقصد تھا، منزل تھی اب ایک مرتبہ پھر یکجا ہو کر محفوظ پاکستان کے لئے قومی جذبے کی ضرورت ہے۔ آج کا دن کشمیری بہن بھائیوں کو بھی یاد کر نے کا دن ہے۔ جو بدترین ریاستی دہشت گردی اور اس قدرتی آفت کے مقابلے میں بے یارو مددگار ہو نے کے باوجوداپنے حقِ خود ارادیت کے لئے مزاحمت کی مثال بنے ہوئے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مقبوضہ کشمیر کی عوام کی حق خودارادیت کےلئے جدو جہد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام انشا اللہاس جدوجہد میں ضرور کامیاب ہو نگے۔

Facebook Comments
Share Button