تازہ ترین

GB News

کروناکو شکست دینے کےلئے 1940والا جذبہ اپنانا ہوگا، شاہ محمود

Share Button

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ 23 مارچ کے دن ہم اپنے بہادر آباو اجداد کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے الگ وطن کے قیام کے لئے 1940کی تاریخی قرارداد منظور کی اور بعدازاں سات برس میں آزادی کی منزل حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یوم پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی بصیرت افروز قیادت میں اس مقصد کے حصول کے لئے عظیم قربانیاں دی گئیں اور کٹھن مشکلات پر قابو پایا۔انہوں نے کہا کہ مخالفت کرنے والوں کی توقعات کے عین برعکس پاکستان نہ صرف قائم ودائم ہے بلکہ خوشحالی سے بھی ہمکنار ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال 23 مارچ ہمیں موقع فراہم کرتاہے کہ ہم نیشن سٹیٹ کے طورپر اپنے سفر کی جھلک دکھائیں، اپنے قومی تجربات کے بارے میں سنجیدگی سے غور کریں اور جائزہ لیتے ہوئے مستقبل کے بارے میں غور وخوض کریں۔ہم نے ایک طویل سفر طے کیا ہے لیکن ابھی ہمارے سامنے ایک طویل سفر باقی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان محض ایک علاقے یا سیاسی جزوکا نام نہیں بلکہ یہ ان سے بڑھ کر ایک نصب العین اور نظریہ کا نام ہے، یہ ایک روح اور خواہش کی تعبیر ہے کہ ہمارے عظیم دین کی بیان کردہ انسانی اقدار کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات، ہوس اور عدم مساوات سے بھری دنیا میں آج اس پیغام کی جتنی اہمیت وضرورت ہے، شاید اس سے قبل کبھی نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ تاریخ آج دو قومی نظریہ کی سچائی اور حقانیت کی گواہی دے رہی ہے۔ بابائے قوم کی بصیرت کو آج سلام پیش کرتے ہوئے ہمیں اپنے ان 80 لاکھ سے زائد بھائیوں اور بہنوں کو ہرگز نہیں بھولنا چاہئے جو بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں قابض بھارتی افواج کے نرغے میں آزادی کے حصول کے لئے مصائب اور مشکلات کا پامردی سے مقابلہ کررہے ہیں۔اپنے آہنی عزم، سیاسی وسفارتی اور اخلاقی قوت کے ساتھ حق استصواب رائے کے حصول تک پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں انسانیت کو درپیش آج بہت بڑے چیلنج کو بھی مدنظر رکھنا ہے جس کا اس سے پہلے ہم نے مشاہدہ نہیں کیا۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقوام اور دنیا بھر میں لوگوں کے عزم اور مزاحمت کا امتحان ہے، یہ خطرہ ہمارے ملک میں بھی داخل ہوچکا ہے۔آزمائش کی اس گھڑی میں ہمیں بطور پاکستانی قربانی، ایمان، اتحاد اور تنظیم کی اعلی اخلاقی اقدار کو اپنانا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ اقدار ہیں جو نظریہ پاکستان کی قوت بنیں، کورونا کے مشترک دشمن کو پچھاڑنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم یہی اقدار اور جذبہ اپنے اندر پھر بیدارکریں۔ پوری دنیا میں اس بیماری سے برسرپیکار ڈاکٹروں، طبی عملہ کی قربانیوں اور کاوشوں کا بھی آج اعتراف کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے وہ سپاہی ہیں جوہم سب کو محفوظ رکھنے کے لئے اس جنگ میں اولین محاذ پر لڑ رہے ہیں۔

Facebook Comments
Share Button