تازہ ترین

GB News

ڈنڈے کے زور پر کرونا چیلنج سے نمٹ نہیں سکتے، فردوس عاشق

Share Button

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ شہباز شریف نقب زنی کر کے ذاتی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں،کرونا جیسے قومی ایشو پر سیاست کرنا مناسب طرز عمل نہیں ہے،مشکل وقت میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ضرورت پڑنے پر صوبائی حکومتیں آرٹیکل 245کے تحت فوج کی مدد حاصل کر سکتی ہیں،جزوی لاک ڈاو ن کا آپشن صوبوں پر چھوڑ دیا ۔پیر کو ویڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 23مارچ بانیان پاکستان کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے،23مارچ 1940کو مسلمانان ہند کو واضح نصب العین ملا،آج کا دن قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کو سلام پیش کرنے کا دن ہے،بھارت میں آج کے حالات قائداعظم کی فکر کی سچائی ثابت کرتے ہیں،23مارچ کے فیصلے نے ایک خواب کو حقیقت میں بدل دیا،کرونا کی وباسے لڑنے کیلئے بھی 23مارچ والے جذبے کی ضرورت ہے،عوام کا تحفظ ،صحت اور سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے،انہوں نے کہا کہ لاک ڈاو¿ن کے حوالے سے مختلف سیاسی قیادت، سیاسی رہنما، سماجی قیادت اور میڈیا کے تجزیہ کاروں کی رائے ہمارے سامنے آئی، جس میں اکثریت کا بیانیہ تھا کہ پاکستان کو لاک ڈاو¿ن کی طرف جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاو¿ن کی جو تعریف کل وزیراعظم نے بتائی پہلے اس سے آگاہی ضروری ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے احکامات پر زبردستی عمل کرانے کے لیے فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیس کو استعمال کریں۔فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے تمام صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں 131 اے آر پی سی کے تحت ریکوزیشن کروا کر صوبائی حکومتوں سے سمری ارسال کروائی جس کے تحت آرٹیکل 245 کے تحت صوبوں کو یہ اختیار دیا جارہا ہے کہ وہ ضرورت کی بنیاد پر جب چاہیں حالات، واقعات اور صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فوج کو طلب کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اس سمری کی منظور دے چکے ہیں، جس کے تحت ایک جزوی لاک ڈاو¿ن کا اختیار صوبوں کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے، اس کا مطلب کرفیو یا زبردستی عوام کو گھروں تک محدود کرنا نہیں ہے۔بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک کے 8 ہوائی اڈوں پر سول آرمڈ فورسز تعینات ہیں جس میں رینجرز اور ایف سی اہلکار اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا سندھ کے لاک ڈاو¿ن کے حوالے سے جو نقطہ نظر پیش کیا گیا وفاقی حکومت اس لاک ڈاو¿ن کی تعریف سے اتفاق نہیں کرتی۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ اس کا بنیادی دائرہ کار جو ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس میں سماجی فاصلے اور عوام کو رضاکارانہ طور پر کوششوں میں مصروف کرکے ان کی حمایت کے ساتھ اس چیلنج کو کم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے کیونکہ کوئی حکومت اکیلے ڈنڈے کے زور پر اس طرح کے چیلنج سے نبردآزما نہیں ہوسکتی جب تک عوام آپ کے ساتھ کھڑے نہ ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ کرونا وائرس کے خلاف جنگ و جہاد ہم کر رہے ہیں اس میں سب سے اہم شراکت دار پاکستان کے عوام ہیں اور ان کی مرضی کو بائی پاس کرکے جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ چاروں صوبوں، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور اسلام آباد کی جانب سے جو ریکوزیشن آئی تھی وزیراعظم نے باضابطہ اس سمری کی منظوری دے کر کابینہ میں سرکولیشن اپروول کے لیے بھیجا ہے اور کابینہ کی منظوری کے بعد اس کا نوٹیفکیشن جاری کردیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد صوبوں کو یہ اختیار دے دیں گے کہ حالات کے مطابق لائحہ عمل اختیار کرسکتے ہیں۔معاون خصوصی اطلاعات نے کہا کہ ایم کیو ایم کو واپس وفاقی کابینہ کا حصہ بننے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں،کرونا کو شکست دینے کیلئے وسیع قومی اتحاد کی ضرورت ہے،کورونا جیسے قومی ایشو پر سیاست کرنا مناسب طرز عمل نہیں ہے،حکومت ہر مثبت تجویز پرمثبت انداز میں عمل کر رہی ہے،وزیراعظم پر تنقید کرنے سے حالات بہتر نہیں ہوں گے،شہباز شریف نقب زنی کر کے ذاتی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں،مشکل وقت میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

Facebook Comments
Share Button