تازہ ترین

GB News

عوام ہوش کے ناخن لے

Share Button

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ شہباز شریف نقب زنی کر کے ذاتی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں،کرونا جیسے قومی ایشو پر سیاست کرنا مناسب طرز عمل نہیں ہے،مشکل وقت میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ضرورت پڑنے پر صوبائی حکومتیں آرٹیکل 245کے تحت فوج کی مدد حاصل کر سکتی ہیں،جزوی لاک ڈائون کا آپشن صوبوں پر چھوڑ دیا ۔ لاک ڈائون کے حوالے سے مختلف سیاسی قیادت، سیاسی رہنما، سماجی قیادت اور میڈیا کے تجزیہ کاروں کی رائے میں اکثریت کا بیانیہ تھا کہ پاکستان کو لاک ڈائون کی طرف جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈائون کی جو تعریف وزیراعظم نے بتائی پہلے اس سے آگاہی ضروری ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے احکامات پر زبردستی عمل کرانے کے لیے فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیس کو استعمال کریں۔فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے تمام صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں 131اے آر پی سی کے تحت ریکوزیشن کروا کر صوبائی حکومتوں سے سمری ارسال کروائی جس کے تحت آرٹیکل 245 کے تحت صوبوں کو یہ اختیار دیا جارہا ہے کہ وہ ضرورت کی بنیاد پر جب چاہیں حالات، واقعات اور صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فوج کو طلب کرسکتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان اس سمری کی منظوری دے چکے ہیں، جس کے تحت ایک جزوی لاک ڈائون کا اختیار صوبوں کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے، اس کا مطلب کرفیو یا زبردستی عوام کو گھروں تک محدود کرنا نہیں ہے۔کرونا کو شکست دینے کیلئے وسیع قومی اتحاد کی ضرورت ہے،کورونا جیسے قومی ایشو پر سیاست کرنا مناسب طرز عمل نہیں ہے۔ موجودہ حالات میں ہر طرف موت اور بیماری کا خوف پھیلا ہوا ہے اور ہر دوسرا شخص اس خوف میں مبتلا نظر آتا ہے۔ اس خوف میں مبتلا ہونے کی ایک اچھی خاصی وجہ بھی ہے۔ تمام دنیا اس خوف میں مبتلا ہے۔ خوف سے خوف جنم لیتا ہے۔ تمام دنیا کو اس خوف میں مبتلا دیکھ کر ہر شخص اپنے اوپر اس خوف کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ جب چین، امریکہ، برطانیہ اور پورا یورپ، آسٹریلیا ، اور ایشیا و افریقہ اس خوف میں مبتلا ہیں تو کوئی ایک شخص اس سے کیسے بچ سکتا ہے۔ دنیا میں اس سے بڑا لاک ڈائون پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ اس لاک ڈائون کا اپنا ہراس بھی ہے جو کرونا کے خوف کے قریب قریب پہنچ جاتا ہے۔ کہیں بیماری سے موت اور کہیں بھوک سے موت کا ڈر انسانوں کے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ اس خوف کی فضا میں ہر شخص دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے کہ کہیں وہ کرونا کا سفیر تو نہیں ہے۔بیماری کا ڈر بھی اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ انسان کو موت کے قریب تر کر دیتی ہے۔ لیکن کیا انسان موت سے دور ہے؟ ہرگز نہیں ، موت تو خود انسان کے اندر ہے، جب چاہے باہر نکل سکتی ہے یا ظاہر ہو سکتی ہے۔ انسان ہر وقت موت کے قبضے اور گرفت میں ہے۔ تو پھر کرونا کا خوف کیوں ہے؟یہ بات دراصل نفسیاتی ہے۔ انسان کی نفسیات یہ ہے کہ وہ دور کی چیز سے کم ڈرتا ہے اور قریب کی چیز سے زیادہ۔اس نفسیات کا انسان جب موت کے کسی سورس کو اپنے نزدیک پاتا ہے تو زیادہ خوف زدہ ہو جاتا ہے۔جب کوئی زلزلہ، سیلاب، جنگ، وبا وغیرہ کا مسئلہ شروع ہوتا ہے تو دنیا بھر کے لوگ اس سے ڈر جاتے ہیں کیوں کہ اس صورت میں انسان کو اپنی موت پہلے سے زیادہ نزدیک محسوس ہوتی ہے۔ کرونا، ڈینگی اور کسی بھی اور وبا اور بیماری سے ڈرنے ، بچنے اور محفوظ رہنے کی انسانی نفسیات ہے۔ ہمیں اس وائرس سے بچنا بھی ہے اور دوسروں کو بھی اس سے بچانے کی کوشش کرنی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے مقدر اور نصیب پر پورا یقین بھی رکھنا ہے۔ کیوں کہ موت برحق ہے اور اپنے وقت پر ہی آنی ہے۔ اور ہم نے اپنے خالق و مالک کے پاس جانا ہے اور ضرور جانا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کی بھلائی چاہتے اور مانگتے ہوئے زندگی کے آسان اور مشکل وقت گزاریں۔کرونا کا مشکل وقت اللہ کی مہربانی سے گزر ہی جائے گا لیکن اس مشکل وقت میں اپنے ایمان کو برقرار رکھنے بلکہ اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ایمان میں ، بیماری کے خلاف دفاعی اقدامات کرنا بھی ایمان کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ وبا کی صورت میں معاشروں کی اجماعی ذمہ داری بن جاتی ہے ۔ ہمیں ایک مہذب معاشرے کی طرح، ایک ایماندار معاشرے کی طرح اور ایک فلاحی معاشرے کی طرح اس نزدیکی خطرے کا سامنا کرنا ہے۔اس یقین کے ساتھ احتیاطی تدابیر کرنی ہیں کہ موت ہمیشہ اللہ کے حکم سے آتی ہے لیکن موت سے بچنے کی تدبیر کرنا بھی خدا کی رضامندی حاصل کرنے میں سے ہے۔ پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں محدود ہو چکی ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورتحال میں عام شہری کی ذمہ داریاں کیا ہو سکتی ہیں؟ ہمیں انتہائی عقلمندی اور ہوش سے کام لینا ہوگا ہمیں ایسا رویہ اختیار کرنا ہو گا کہ جس سے ہماری ذات کے ساتھ ساتھ کسی بھی شہری کو نقصان نہ ہو۔ اس کے لئے چند باتوں پر عمل درآمد بہت ضروری ہے سب سے پہلے یہ کہ کرونا وائرس سے متعلق کوئی بھی خبر شئیر کرنے سے پہلے اس بات کا اطمینان کر لیں کہ یہ خبر کس حد تک مصدقہ ہے اور اس کو جاری وہی ادارہ کر رہا ہے جس کا یہ کام ہے؟ مصدقہ خبریں ضرور شئیر کریں لیکن خدارا کوئی بھی ایسی خبر شئیر نہ کریں جو غیر مصدقہ ہو اور اس سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیل جائے۔کیونکہ کرونا وائرس کی پاکستان میں صورتحال ایسی نہیں ہے جیسی دنیا کے دیگر ممالک میں ہے۔ یاد رہے دشمن کرونا وائرس پر بھی گھنائونا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام کو مختلف طریقوں سے گمراہ کرنے کا پلان بنائے بیٹھے ہیں وہ ہم سے لاشعوری طور پر ایسے کام کروانا چاہتے ہیں جن سے پاکستان میں کرونا وائرس زیادہ تباہی پھیلا سکے۔ اس چال کو ناکام بنانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ حکومت کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ہمیں جو ہدایات دے ہم ان پر پوری طرح سے عمل کریں۔ دوسرا کام یہ ہے کہ ہم اپنے آپ اور خاندان کو محفوظ رکھنے کے لیے چند باتوں پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کریں سب سے پہلے اپنی اور اپنے خاندان کی نقل و حمل کو انتہائی محدود کر دیں اور گھروں سے انتہائی مجبوری کی صورت میں باہر نکلیں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ خاص طور پر بچوں اورپچاس سال سے زائد عمر کے لوگ کسی صورت گھر سے باہر نہ نکلیں۔ گھر کے تمام افراد روزانہ باربار ہاتھ دھوئیں ۔ ہینڈ سینی ٹائزر کا استعمال بھی دن میں کئی بار کیا جائے۔ جب بھی انتہائی ضروری کام سے گھر سے باہر جائیں تو فیس ماسک پہن لیں۔ کسی بھی شخص سے مصافحہ نہ کریں۔ تمام قسم کی چھوٹی بڑی تقریبات میں شرکت نہ کریں ۔ گھر پہنچتے ہی ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں۔ یہ ایسی ہدایات ہیں جن پر عمل درآمد کر کے ہم اپنے آپ اور خاندان کو کرونا وائرس سے بچا سکتے ہیں اور اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے آپ کا یہ عمل آپ کے ذمہ دار ہونے اور کرونا سے ختم کرنے کا سبب بنے گا۔ اس دوران اگر کوئی شخص جس میں اس وائرس کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہیلپ لائن پر اطلاع دی جائے۔ انشاء اللہ یہ بیماری جلد ہی ختم ہو جائے گی اور وطن عزیز کی رونقیں لوٹ آئیں گی تاہم اب اس امر کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا کہ ہمارے ہاں صحت کے حوالے سے صورتحال بہتر نہیں اس لیے اس شعبہ کی جانب خصوصی توجہ دی جائے’ ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلی فرصت میں پورے ملک کے ہسپتالوں میں موجود سہولیات کا جائزہ لے کر انہیں بہتر بنایا جائے’ ان تمام ضروری آلات کی فراہمی ممکن بنائی جائے جو مختلف بیماریوں کے لیے از حد ضروری ہیں گلگت بلتستان جو اس ضمن میں بہت پیچھے ہے وہاں جدید طرز کے ہسپتال ہر ضلع میں بنائے جائیں جو کسی بھی ناگہانی صورت سے نمٹنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔عوام کو چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور دی گئی ہدایات پر پورے طور سے عمل کرے’گھروں سے نکلنے سے گریز کیا جائے اور میل جول کم کر دیا جائے البتہ اپنے غریب ہمسائیوں کا خیال رکھا جائے تاکہ انہیں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Facebook Comments
Share Button