تازہ ترین

GB News

گلگت بلتستان کوکروناوائرس سے نمٹنے کے لئے وسائل فراہم کریں گے،وزیراعظم

Share Button

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کوکروناوائرس سے نمٹنے کے لئے وسائل فراہم کریں گے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے گورنرگلگت بلتستان راجہ جلال مقپون سے ملاقات میں کیا ہے۔ گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے گلگت بلتستان میں کرونا وائرس کے ممکنہ پھیلاو سے بچاؤ کے لئے درپیش مسائل اور ہسپتالوں میں وسائل کی کمی کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان کو تفصیلات سے آگاہ کیا ۔گورنر گلگت بلتستان نے گلگت بلتستان کے لئے فوری فنڈز کی فراہمی اور ہسپتالوں اور قرنطینہ سینٹرز کے لئے طبی آلات فراہم کرنے کی درخوست کی ۔اس موقع پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لئے ایک ایئر ایمبولینس دی جائے گی جس کے ذریعے دور دراز علاقوں میں میڈیکل سٹاف اور مریضوں کے لئے استعمال میں لایا جاسکے۔وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گورنر گلگت بلتستان کو یقین دلایا کی گلگت بلتستان کو وفاقی حکومت تمام وسائل فراہم کریگی گلگت بلتستان میں کرونا وائرس کے تدارک کے لئے فرنٹ لائن میں کام کرنے والے میڈیکل سٹاف کے میڈیکل کٹس ، وینٹی لیٹرز، ماسک اور دیگر میڈیکل آلات فوری طور پر فراہم کئے جائیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے اور چیئرمین ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ گلگت بلتستان میں کرونا کی روک تھام کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں تاکہ لاک ڈائون کی وجہ سے خوراک اور ادویات کی قلت نہ ہو اور اس کے حل کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔ اور مشکل کی اس گھڑی میں وفاقی حکومت گلگت بلتستان کی بھر پور معاونت کرے گی ۔وزیراعظم پاکستان نے شہید ڈاکٹر اسامہ ریاض کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ڈاکٹر اسامہ کرونا کے جنگ لڑتے ہوئے شہید ہوئے ان کی خدمات سنہرے حروف میں لکھاجائے گا۔دوسری جانب پارلیمانی رہنمائوں کے اجلاس سے ویڈیولنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ ملک میں کرفیو لگانے سے پہلے اپنی تیاری کرنی ہوگی، کرفیو کی صورت میں رضاکاروں کی مدد لیں گے، جلد رضا کاروں کے پروگرام کا اعلان کروں گا۔ انہوں نے کہا کورونا پر 15 جنوری کو میٹنگ کی تھی، چین کے ساتھ رابطے میں رہے، ایران کے ساتھ بھی رابطے میں تھے، چین میں پاکستانی طلبا کو رکھنا اچھا فیصلہ تھا، چین سے ایک بھی کورونا کیس پاکستان نہیں آیا، پاکستانی زائرین ایران گئے ہوئے تھے، ایران کے پاس کورونا سے لڑنے کی صلاحیت نہیں تھی۔عمران خان کا کہنا تھا ایران نے پاکستانی زائرین تفتان سرحد بھیج دیئے، دباؤ بڑھنے کی وجہ سے زائرین کو پاکستان منتقل کیا، 9 لاکھ لوگوں کی اب تک ایئر پورٹس پراسکیننگ کرچکے، تقریباً 900 افراد کورونا وائرس کے مریض ہیں، کورونا کے صرف 153 مقامی کیس ہیں، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا، ہر وہ جگہ بند کر دی جہاں لوگ اکٹھے ہوسکتے تھے۔وزیراعظم نے مزید کہا ہمارا خیال تھا سندھ کی طرز کا لاک ڈاؤن ابھی نہیں لگانا، ٹرانسپورٹ کی بندش سے کنسٹرکشن کا شعبہ متاثر ہوگا، گلگت بلتستان میں تیل کی کمی ہوگئی ہے، سندھ لاک ڈاؤن کے حوالے سے پنجاب سے آگے ہے، خوف سے کیے گئے فیصلوں کے باعث ہم مزید مشکلات پیدا کر دیتے ہیں، ایسے لاک ڈاؤن پر نہیں جانا چاہتے جس سے ٹرانسپورٹ بند ہو جائے، گندم کی کٹائی، کنسٹریشن انڈسٹری متاثر ہوسکتی ہے۔عمران خان کا کہان تھا گلگت بلتستان میں تیل کی کمی ہوگئی، کرفیو لگایا تو گھروں میں کھانا پہنچانا پڑے گا، کیا ہمارے پاس گھروں میں کھانا پہنچانے کے انتظامات ہیں ؟ نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی ٹرانسپورٹ کے حوالے سے کل فیصلہ کرے گی، چاہتے ہیں سب مل کر کورونا کیخلاف جنگ جیتیں۔

Facebook Comments
Share Button