تازہ ترین

GB News

کرونا سے نمٹنے کےلئے صوبائی حکومت بساط سے بڑھ کر کام کررہی ہے،ایم ڈبلیو ایم

Share Button

ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان کے ترجمان وسابق چیئرمین بلدیہ گلگت محمد الیاس صدیقی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے گلگت بلتستان میں کرونا وائرس کنٹرول کرنے کےلئے بروقت اور ٹھوس اقدامات کئے ہیں اور اپنی بساط سے بڑھ کر کوشش کی ہے، جس کی وجہ سے اب گلگت بلتستان میں حالات کنٹرول میں ہیں۔ انہوں نے کے پی این سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وفاق کے پی کے اور صوبہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور ان صوبوں کے پاس بے پناہ وسائل بھی ہیں، اسی طرح صوبہ بلوچستان میں تحریک انصاف کی اتحادی حکومت ہے جبکہ سندھ میں پی پی پی کی حکومت ہے اور ان صوبوں کے پاس بھی بے پناہ وسائل ہیں مگر اس کے باوجود کرونا وائرس کی وجہ سے چاروں صوبوں کے ہاتھ پاﺅں پھول چکے ہیں اور کرونا وائرس کی وجہ سے صورتحال ان حکومتوں کے کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، اس کے برعکس گلگت بلتستان میں کوئی بڑا ہسپتال نہیں ہے، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی قلت ہے جبکہ گلگت بلتستان میں وسائل بھی نہیں ہیں اور ایک غریب صوبہ ہے مگر گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت بالخصوص وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن نے کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی ممکنہ خطرناک صورت حال کا بروقت احساس کیا اور بروقت اقدامات کئے جس کی وجہ سے اس وقت گلگت بلتستان میں کرونا وائرس کنٹرول ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ کرونا وائرس گلگت بلتستان میں داخل کرنے کی ذمہ دار تحریک انصاف کی وفاقی حکومت ہے، وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان اور ملک کے دیگر حصوں کے سینکڑوں زائرین کو تفتان میں قرنطینہ کے نام پر روکا اور ایک بڑے ہال میں تمام زائرین کو ایک ساتھ رکھا جس کی وجہ سے ان لوگوں کو بھی کرونا وائرس منتقل ہوا جو پہلے ٹھیک تھے۔ انہوں نے کہاکہ جنوری 2020ءمیں وزیراعظم پاکستان عمران خان اور تمام وفاقی وزراءمیڈیا پر روزانہ کی بنیاد پر یہ بیانات دیتے نہیں تھکتے تھے کہ ہم نے کرونا وائرس کے حوالے سے تمام سرحدوں کے ساتھ ساتھ ایئرپورٹ پر انتظامات کئے ہیں اور آنے والے تمام مسافروں کو چیک کرکے تسلی کرنے کے بعد داخلے کی اجازت دی جائے گی مگر زمینی حقیقت یہی ہے کہ وفاقی حکومت اور تمام صوبائی حکومتوں نے کہیں پر کوئی انتظام نہیں کیا جس کی سزا آج ہم بھگت رہے ہیں اگرتفتان میں باضابطہ قرنطینہ سنٹر ہوتا تو آج گلگت بلتستان میں کرونا وائرس کے اتنے مریض نہ ہوتے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن اور گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت سے سیاسی اختلافات اپنی جگہ ہم صوبائی حکومت کے بعض اقدامات پر تنقید بھی کرتے رہیں گے مگر ہمیں اچھے کو اچھا اور برے کو برا کہنے کی جرات بھی ہونی چاہیے۔ مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ نے کرونا وائرس سے نمٹنے کےلئے حقیقی معنوں میں بروقت اور زبردست اقدامات کئے ہیں۔ بروقت تمام اضلاع میں قرنطینہ سنٹر کئے اب ان سنٹروں میں داخل کرونا وائرس کے مریضوں اور مشتبہ مریضوں کو صوبائی حکومت بہترین سہولیات فراہم کر رہی ہے اور ان کی دیکھ بحال میں صوبائی حکومت ہر ممکن وسائل استعمال کر رہی ہے، اسی طرح گلگت، سکردو اور ضلع نگر میں وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کےلئے بروقت لاک ڈاﺅن کیا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ تحریک انصاف، پی پی اور دیگر جماعتوں کے قائدین صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ پر تنقید کرنے سے قبل وفاق یا صوبے میں موجود اپنی اپنی حکومتوں سے گلگت بلتستان کےلئے پہلے کوئی مدد لائیں پھر تنقید کریں۔ صرف زبانی تنقید کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ گلگت بلتستان میں کرونا وائرس سے نمٹنے کےلئے ایک روپے کی بھی امداد نہیں دی ہے۔ سندھ میں پی پی کی حکومت ہے، گلگت بلتستان کےلئے ایک روپے کی بھی امداد نہیں ہے۔ جب امداد نہیں دے سکتے تو پھر پی پی اور تحریک انصاف کے رہنماﺅں کو یہ حق بھی نہیں پہنچتا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ پر بے مقصد تنقید کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن نے وفاق سے مایوس ہونے کے بعد حکومت چین اور صوبہ سنکیانگ کے گورنر سے رابطہ کیا اور ذاتی دلچسپی اور ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے چین سے کروڑوں روپے مالیت کی طبی امداد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ہمیں وزیراعلیٰ کی کوششوں کو سراہنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت گلگت بلتستان کے عوام اور حکومت ایک قوم بن کر کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہونگے اور بہت جلد علاقے سے کرونا وائرس کا خاتمہ ہوگا۔

Facebook Comments
Share Button