تازہ ترین

GB News

سندھ میں باجماعت نماز پر پابندی عائد، مساجد کھلی رہیں گی، اجتماعات محدود ہوں گے، وفاقی حکومت

Share Button

سعودی عرب نے کروناوائرس کی صورتحال کے باعث پاکستان کواس سال حج معاہدے کرنے سے روک دیاسعودی وزیرحج کامراسلہ وزارت مذہبی امورکوموصول ہونے کے بعدحج پرکام روک دیاگیا۔رائیونڈمیں منعقدہونے والاسالانہ تبلیغی اجتماع بھی ملتوی کردیاگیا۔سندھ حکومت نے باجماعت نمازپرپابندی لگادی ہے حکومت کے فیصلے کے تحت مسجد میں صرف3سے5افرادنمازاداکریں گے۔فیصلے کااطلاق جمعہ کے اجتماع پربھی ہوگا۔ہرباجماعت نمازپرپابندی5اپریل تک رہے گی۔دوسری جانب وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مساجد کھلی رہیں گے باجماعت نمازمحدودکی جائیں گے۔سعودی حکومت نے پاکستان کو اس سال حج معاہدے کرنے سے روک دیا ہے،جسکے بعدوزارت مذہبی امور نے حج پر کام روک دیا ہے۔سعودی وزیر حج کا مراسلہ وزارت مذہبی امور کو موصول ہوگیا ہے۔سعودی حکومت کی جانب سے خط میں کہاگیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے حج معاہدہ نہ کریں ،سعودی حکومت صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے ،صورتحال بہتر ہونے ہی آگاہ کریں گے ،سعودی حکومت نے کہا ہے کہ اس سال یہ معلوم نہیں کہ حج 2020 کا آپریشن مکمل ہوگا یا نہیں، لہذا پاکستان نے جن کمپنیوں سے معاہدے کرنے ہیں فی الحال وہ نہ کیے جائیں۔دوسری جانب کورونا وائرس کے پیش نظر رائیونڈ میں ہونے والا سالانہ تبلیغی اجتماع بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔حکومت سے مشاورت کے بعد تبلیغی اجتماع کی مرکزی شوریٰ نے ہدایت جاری کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں موجود تمام جماعتیں انتظامیہ سے تعاون کی پاپند ہوں گی۔ مرکزی شوریٰ نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ اور استغفار کرنے کی تلقین کی ہے۔تبلیغی جماعتوں کی سرگرمیاں بھی روک دی گئی ہیں۔دوسری جانب میڈیا بریفنگ میں وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا ہے کہ پانچ وقت کی نماز اور نماز جمعہ کو محدود کر دیا جائے گا تاہم مساجد کو بند نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم ا±مہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اقدامات اٹھائے۔ شیخ الازہر اور حرمین شریفین کی طرف سے بھی فتویٰ آیا ہے۔ ترکی، مصر اور مراکش سمیت بہت سارے ممالک نے مساجد کو بڑے اجتماعات کیلئے بند کر دیا ہے۔ تین دن سے مکہ مکرمہ اور مسجد اقصیٰ کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کربلا میں بھی مزار بند ہو چکے ہیں۔وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے بتایا کہ آج علمائے کرام سے ساڑھے تین گھنٹے تک طویل نشست ہوئی۔ علمائے کرام نے اتفاق کیا ہے کہ حکومت جو بھی پالیسی بنائے گی، اس پر عمل کرینگے گی۔انہوں نے کہا کہ مساجد سے اذان کی صدائیں آئیں گی تاہم مساجد میں پانچ وقت کی نماز اور جمعہ کی نماز کو محدود رکھا جائے گا۔ مسجد کا عملہ اور محدود تعداد میں تندرست لوگ نماز ادا کریں گے جبکہ باقی گھروں میں پڑھیں گے۔ادھرعلما کرام نے صدر مملکت عارف علوی اور حکومت کو کرونا وائرس کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کے سلسلے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔جمعرات کو صدر مملکت کی زیر صدارت ایوان صدر میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر کے تمام مکاتب فکر کے علما نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شرکت کی جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں موجود افراد نے ذاتی طور پر شرکت کی۔صدر پاکستان کی جانب سے اجلاس کے دوران کرونا وائرس کا ملک میں پھیلاو¿ روکنے کے لیے مصر کی الاظہر یونیورسٹی کی جانب سے دیا گیا فتویٰ پیش کیا گیا۔اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بھی صدر کو تجاویز پیش کیں۔مشاورتی نشست میں صدر مملکت نے علما سے کورونا وائرس کی صورتحال پر گفتگو کی اور لوگوں میں اس مرض کے بارے میں آگاہی اجاگر کرنے کے سلسلے میں تعاون کی گزارش کی۔علما نے صدر مملکت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ حکومتی ہدایات پر کار بند رہیں گے اور انہوں مذہبی اجتماعات کی منسوخ اور مدرسہ کے طلبا کو چھٹی دینے جیسے اقدامات لیے ہیں۔اس موقع پر صدر نے مزید گزارش کی کہ علمائے کرام لوگوں کو درس دیں کہ وہ گھروں میں رہ کر نماز ادا کریں کیونکہ بحران سے بچاو¿ کا واحد حل سماجی فاصلہ قائم کرنا ہے۔ادھرلاہورمیں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے پاکستان علماءکونسل کے چےئر مےن مولانا طاہر اشرفی سمیت تمام مکتبہ فکر کے 20جےد علماءکی ملاقات کے بعد جاری مشتر کہ اعلامےہ مےںعلما ءنے ےک زبان ہو کر عوام کو گھروں میں رہنے اور گھروں میں باقاعدگی سے نماز کی ادائیگی کی تلقین اور طبی ماہرین، ڈاکٹرز اور انکے معاونین کوکرونا کے خلاف بھرپور جنگ لڑ نے پر خراج تحسےن جبکہ گورنر پنجاب چوہدری محمدسرورنے کہا ہے کہ اگر عوام نے گھروں میں رہنے کی حکومتی اپےل نہ مانی تو سخت ایکشن لینے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔

Facebook Comments
Share Button