تازہ ترین

GB News

مشکل میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، عمران خان

Share Button

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مشکل وقت میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور کرونا سے ایک قوم بن کر مقابلہ کریں گے۔ جمعرات کووزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزرائ، عسکری اور سول اداروں کے اعلیٰ حکام،چاروں وزرائے اعلیٰ ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔چیئرمین این ڈی ایم اے اور وزیراعظم کے معاونین خصوصی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔اجلاس میں لاک ڈاو¿ن کے پیش نظر ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات پر بھی بریفنگ دی گئی، اجلاس میں لاک ڈاو¿ن میں نرمی یا مکمل کرفیو سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے۔اس کے علاوہ اجلاس میں معاشی پیکج کے اثرات پر بھی بات چیت کی گئی جب کہ وزرائے اعلیٰ صوبوں میں صورتحال سے متعلق وزیراعظم کو بریفنگ دی۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دیہاڑی دار اور مزدور طبقے کو ریلیف فراہم کیا جائے گا، مشکل وقت میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔عمران خان نے کہا کہ تمام صوبوں کی ضروریات پوری کریں گے اور کرونا سے ایک قوم بن کر مقابلہ کریں گے۔ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں نے اتفاق رائے سے ملک کے تمام تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلی چیز جس پر سب سے زیادہ بات بھی ہوتی ہے کہ وائرس کا پھیلاو¿ کیسے روکا جائے، اس کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے گئے اور پابندیاں عائد کی گئیں۔ اس پھیلاو¿ کو روکنا صرف حکومت کا نہیں بلکہ ہر شہری کا کام ہے۔اسد عمر نے بتایا کہ اجلاس میں یہ بات بھی ہوئی کہ جو پابندیاں اور بندشیں بتدریج لگائی گئی ہیں اس کے منفی اثرات کو دیکھنا اور یقینی بنانا کہ اس سے کہیں ایسی کوئی مشکل کھڑی نہ ہوجائے جو ہماری کرونا کے خلاف جنگ کو متاثر کرے۔انہوں نے کہا کہ ‘اس وبا کا بہت بڑا منفی معاشی اثر ہے جو پوری دنیا میں نظر آرہا ہے، اسی لیے حکومت نے اتنے بڑے معاشی پیکج کا اعلان کیا، اب اس پیکج پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک اور ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور یہ کام تمام صوبوں کے ساتھ مل کر ہورہا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے نظام میں جو خلل پیدا ہو رہا ہے اس سے متعلق جمعہ کو ایک اجلاس ہوگا جس میں نظرثانی کی جائے گی۔وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ‘آٹے کی قیمتیں بڑھنے کی خبر آنا شروع ہوگئی تھیں، ملک میں آٹے کا کوئی بحران نہیں ہے، ملک میں 17 لاکھ ٹن آٹا موجود ہے نہ آگے کمی نظر آرہی ہے۔’انہوں نے کہا کہ ‘وزیر اعظم ایک دو روز میں 2 اہم اعلانات کریں گے، ایک تو موجودہ حالات میں مدد کے لیے رضاکاروں کا پروگرام ہے جبکہ دوسرا حکومت کی مالی امداد سے متعلق ہے۔معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ 5 اپریل تک ہمارے پاس اتنی تعداد میں ذاتی تحفظ کی چیزیں ہوں گی کہ جو ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈکس جو براہ راست کرونا وائرس کے مریضوں کی نگہداشت پر مامور ہیں انہیں اس کی کمی نہ آئے۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ‘پاکستان کے مختلف ہسپتالوں میں کرونا کے 5مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ دوسری جانب مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی فنڈز کی سمری منظوری کی گئی۔ ای سی سی نے این ڈی ایم اے کو 5 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دیدی۔اعلامیہ کے مطابق جاری کردہ یہ فنڈز لاجسٹک اور ضروری بنیادی سامان کیلئے فوری فراہم کئے جائیں گے

Facebook Comments
Share Button