تازہ ترین

GB News

قومی اسمبلی اجلاس حکومت اپوزیشن کی لڑائی میں ختم

Share Button

قومی اسمبلی کے اجلاس میں کرونا سے لڑنے کے لئے آنے والے حکومتی و اپوزیشن ارکان آپس میں لڑتے رہے۔ شازیہ مری کا مائیک بند کرنے پر اپوزیشن کا احتجاج ،غلام سرور خان اور لیگی رکن کھیل داس کوہستانی میں جھڑپ ہوئی، کرونا کی صورتحال پر پورا ہفتہ جاری رہنے والا قومی اسمبلی کا اجلاس حکومت اور اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ کی آپس میں توں تکار اور شور شرابے کے دوران غیر معینہ مدت تک ختم ہوگیا۔ قومی اسمبلی اجلاس جمعہ کے روز ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں ہواتو مسلم لیگ ن کے رکن احسن اقبال نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا جس کے بعد شازیہ مری نے کہا سندھ کو بھی وفاق کا یونٹ مان لیں اور اس پر حملے بند کردیں اٹھارہویں ترمیم کسی صورت واپس نہیں ہوگی۔ شازیہ مری کا مائیک بند کرنے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا۔اس دورانغلام سرور خان نے کہا 1985سے اقتدار کے مزے لینے والوں کو بھی احتساب کا سامنا کرنا ہوگا۔ غلام سرور خان کی تقریر پر مسلم لیگ ن کے رکن کھیل داس کوہستانی بھڑک اٹھے بولے حکومت کو نوازشریف فوبیا ہوگیا ہے میرے قائد کے خلاف بات کروگے تو بات نہیں کرنے دوں گا۔ غلام سرور خان اور کھیل داس کوہستانی میں خاصی توں تکار ہوئی جس کے بعد ڈاکٹر بابر اعوان بولے کسی کی خواہش پر احتساب بند نہیں کیا جاسکتا مگر مناسب ترامیم پر بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمرنے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وباءضرور بڑھ گئی ہے لیکن ہمارے قابو سے باہر نہیں ہے، صحت کے نظام کی استعداد کار میں اضافہ کر رہے ہیں، جب تک عوام حفاظتی تدابیر پر عمل کرتے رہیں گے تباہی نہیں پھیلے گی، وباءنے پھیلنا ہے اس کے ساتھ اب ہم نے چلنا ہے، لوگوں کو معاشی بدحالی سے بچائیں گے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کی40دہائیوں نے لاک ڈاﺅن میں نرمی کی اور لوگوں کوروزگارپربھیجادنیا کووہ نظرآناشروع ہوگیا جوعمران خان دیکھ رہے تھے۔

Facebook Comments
Share Button